30/September/2025

کینیڈا نے بھارت کے بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

👁️ 223 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کینیڈا نے بھارت کے بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

کینیڈا نے بھارت کے بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

اوٹاوا (ڈیلی اردو/بی بی سی) کینیڈا نے انڈیا کے بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے جس کے بعد اب وفاقی حکومت کو اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ اس گروہ کی ملکیت میں موجود جائیداد اور رقم کو ضبط یا منجمد کر سکے۔

 

وفاقی وزیر برائے عوامی تحفظ نے سوموار کے روز اس کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گینگ کینیڈا میں مقیم انڈین برادریوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر رہا تھا۔

 

گذشتہ سال کینیڈا کی پولیس نے الزام لگایا تھا کہ انڈین حکومت کے ایجنٹ بشنوئی گینگ کے ارکان کو قتل، بھتہ خوری اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے، اور یہ کارروائیاں خالصتان تحریک کے حامیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی تھیں۔

انڈیا نے اس وقت ان الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ کینیڈا نے اس سلسلے میں کوئی شواہد فراہم نہیں کیے۔

 

اس نئی فہرست بندی یا اعلان کے نتیجے میں نہ صرف حکومت کو جائیداد اور پیسہ منجمد کرنے کا اختیار ہوگا بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی سے متعلق جرائم جیسے کہ مالی معاونت، سفر اور بھرتی پر کارروائی کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔

 

کینیڈا کے وزیر برائے پبلک سیفٹی یا عوامی تحفظ آنند سانگری نے ایک بیان میں کہا کہ ‘بشنوئی گینگ نے مخصوص برادریوں کو دہشت، تشدد اور دھونس کا نشانہ بنایا۔ اس گروہ کو دہشت گرد قرار دینا ہمیں ان کے جرائم کے خلاف مزید مؤثر اور طاقتور اقدامات کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔’

 

کینیڈا نے بشنوئی گینگ کو ایک بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیم قرار دیا ہے، جسے انڈیا سے تعلق رکھنے والا 32 سالہ گینگسٹر لارنس بشنوئی چلا رہا ہے حالانکہ وہ پچھلے دس سال سے جیل میں ہے۔

 

کینیڈا کا کہنا ہے کہ یہ گینگ ان کے ملک میں موجود ہے اور ان علاقوں میں فعال ہے جہاں بڑی تعداد میں انڈین نژاد برادریاں آباد ہیں۔

 

انڈیا میں تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ ہے کہ بشنوئی اب بھی ایک ایسے گینگ کو کنٹرول کر رہا ہے جس میں تقریبا 700 ارکان شامل ہیں۔ اس گینگ کے ارکان مشہور شخصیات سے بھتہ وصول کرنے، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ، اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔

 

کینیڈا کا یہ اقدام اپوزیشن جماعتوں اور البرٹا و برٹش کولمبیا کے وزرائے اعلیٰ کے دباؤ کے بعد سامنے آیا، جنھوں نے کہا تھا کہ اس گینگ کے خلاف مختلف پابندیاں لگانے کے لیے اسے 'دہشت گرد' قرار دینا ضروری ہے۔

 

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دونوں ممالک 2023 میں وینکوور کے نواح میں سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجّر کے قتل کے بعد کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

اس واقعے کے کچھ عرصے بعد اس وقت کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے انڈین حکومت پر اس قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔

 

خیال رہے کہ انڈیا نے ہردیپ سنگھ نجر کو سنہ 2020 میں دہشت گرد قرار دیا تھا اور انھیں دو مسلح افراد نے کینیڈا میں ایک سکھ عبادت گاہ کے باہر قتل کر دیا تھا۔ اس قتل کے الزام میں چار افراد پر مقدمہ چل رہا ہے۔

 

بہر حال کشیدگی کے بعد اگست میں دونوں ممالک نے نئے ہائی کمشنر تعینات کیے ہیں۔

گذشتہ ہفتے وزیر اعظم مارک کارنی کے قومی سلامتی کے مشیر نے اوٹاوا میں صحافیوں کو بتایا کہ انڈیا نے کینیڈین حکام کے ساتھ جاری تحقیقات میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

 

مشیر نتھالی ڈروئن نے کہا کہ انھوں نے حال ہی میں انڈین حکام سے ایک نتیجہ خیز ملاقات کی، جس میں دونوں ملکوں نے سکیورٹی سے متعلق خدشات پر بات چیت کی اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے، خاص طور پر سرحد پار دباؤ یا جبر سے گریز کرنے پر اتفاق کیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C