یوکرین اور روس کے مابین قیدیوں کا تبادلہ
👁️ 40 بار دیکھا گیا
یوکرین اور روس کے مابین قیدیوں کا تبادلہ
ریاض + انقرہ (ڈیلی اردو/اے ایف پی) روس اور یوکرین کے مابین رواں سال فروری سے جاری جنگ میں قیدیوں کا سب سے بڑا تبادلہ ہوا ہے۔ رہائی پانے والے چند قیدیوں کو سعودی عرب اور بقیہ کچھ کو ترکی پہنچا دیا گیا، جہاں سے انہیں ان کے آبائی ممالک پہنچایا جائے گا۔
یوکرین نے آج 22 ستمبر کو روس کے ساتھ 215 قیدیوں کے تبادلے کا اعلان کیا۔ رہائی پانے والوں میں وہ یوکرینی فوجی بھی شامل ہیں، جو ماریوپول کے آزوفسٹال اسٹیل ورکس نامی پلانٹ کے دفاع کر رہے تھے۔ بدلے میں روس کے پچپن قیدی رہا کیے گئے۔ ان میں سے ایک وکٹور مدویدچک ہیں، جو سابقہ طور پر یوکرین کے ایک قانون ساز رہ چکے ہیں مگر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے حامی مانے جاتے ہیں اور جن پر یوکرین میں غداری کا مقدمہ ہے۔ یوکرینی صدر وولودمیر زیلینسکی نے اپنی یومیہ بریفنگ میں قیدیوں کے تبادلے کی اس ڈیل کا اعلان کیا۔
اس سال فروری میں روسی حملے کے آغاز کے بعد فریقین کے مابین ہونے والا یہ اب تک کا سب سے بڑا قیدیوں کا تبادلہ تھا۔ زیلنسکی نے بتایا کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے دس جنگی قیدیوں کو بھی بدھ کے روز ماسکو اور کییف کے درمیان ڈیل کے تحت سعودی عرب منتقل کر دیا گیا ہے۔ یوکرینی صدر نے مزید کہا کہ پانچ فوجی کمانڈروں کو ترکی پہنچا دیا گیا ہے، جن کی رہائی کی ڈیل کو ترک صدر رجب طیب ایردوگان کے ساتھ حتمی شکل دی گئی تھی۔ زیلینسکی کے بقول یہ فوجی جنگ کے خاتمے تک ‘مکمل حفاظت اور آرام دہ حالات میں‘ ترکی میں رہیں گے۔
ایک سعودی اہلکار نے اس تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب کو منتقل کیے گئے جنگی قیدیوں میں پانچ برطانوی شہری، دو امریکی اور ایک ایک مراکش، سویڈن اور کروشیا سے ہیں۔ سعودی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ قیدی روس سے ان کے ملک پہنچ چکے ہیں حکام انہیں ان کے آبائی ممالک بحفاظت واپس پہنچانے کے طریقہ کار کو آسان بنا رہے ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم لز ٹروس نے ٹویٹر پر لکھا کہ برطانوی شہریوں کی رہائی ‘انتہائی خوش آئند خبر ہے، جس سے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے لیے مہینوں کی غیر یقینی صورتحال اور مصائب کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا‘۔
یوکرین میں جنگ نے کئی دہائیوں سے اہم اتحادی ممالک سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھائی ہے۔ گو کہ سعودی عرب نے روسی حملے کی مذمت کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا اور ماسکو سے فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔ تاہم ریاض حکومت نے جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کو کم کرنے کے لیے تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے امریکی دباؤ کے خلاف مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بجائے ریاض نے OPEC پلس آئل کارٹیل کے ساتھ تعاون کیا، جس کی وہ روس کے ساتھ مشترکہ طور پر قیادت کرتا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بنوں اور شمالی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملے، 2 افراد زخمی، مکان کو شدید نقصان
24/October/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
پاراچنار: بغدی میں بارودی سرنگ کا دھماکہ، ایک شخص ہلاک
24/October/2026 👁️ 93 بار دیکھا گیا
الخلیل میں اسرائیلی فوج کا بڑا آپریشن، سیکڑوں فلسطینی خاندانوں کو گھر خالی کرنے کا حکم
24/October/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز میں مزید دو آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ، پاسدران انقلاب کا دعویٰ
24/October/2026 👁️ 108 بار دیکھا گیا
لندن: القاعدہ اور ٹی ٹی پی کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے والے 18 سالہ نوجوان کو چار سال سے زائد قید
24/October/2026 👁️ 84 بار دیکھا گیا
ریاض میں دو دھماکوں کی آوازیں، سعودی عرب کا بیلسٹک میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
24/October/2026 👁️ 85 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26395 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15632 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11932 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9288 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7544 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5509 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C