05/November/2026

امریکی حمایت کے بغیر ایران پر حملے کا امکان، اسرائیل نے یکطرفہ کارروائی کا آپشن کھلا رکھا

👁️ 53 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی حمایت کے بغیر ایران پر حملے کا امکان، اسرائیل نے یکطرفہ کارروائی کا آپشن کھلا رکھا

امریکی حمایت کے بغیر ایران پر حملے کا امکان، اسرائیل نے یکطرفہ کارروائی کا آپشن کھلا رکھا

تل ابیب(ڈیلی اردو) اسرائیل نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا اور عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکہ خطے میں جاری کشیدگی سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو تل ابیب اپنے طور پر بھی حملے کر سکتا ہے۔ اسرائیلی مؤقف کے مطابق ایران کی میزائل صلاحیتوں کی بحالی اور بعض فوجی اہداف اب بھی ممکنہ کارروائیوں کی وجوہات بن سکتے ہیں۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار مندی صفدی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائی کا امکان موجود ہے، تاہم اس کا انحصار واشنگٹن کی پالیسی اور اسرائیلی قیادت کے فیصلوں پر ہوگا۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دفاعی و عسکری تعاون کسی ایک سیاسی جماعت یا صدر تک محدود نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات کا حصہ ہے۔

ایران پر امریکی حملے کا امکان

صفدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس جنوری تک موجود سیاسی اور عسکری گنجائش کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف سخت کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق آئندہ دو ہفتوں میں بھی کوئی فوجی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، تاہم یہ ان کی ذاتی رائے اور تجزیہ ہے، امریکی حکومت کی جانب سے حملے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج اور ریپبلکن جماعت کو ممکنہ سیاسی نقصان کے باوجود ٹرمپ کی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں فوری تبدیلی ضروری نہیں۔ انہوں نے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے انتخابات میں ریپبلکنز کو نقصان کے بعد بھی عراق میں امریکی فوجی سرگرمیاں جاری رہیں۔

اسرائیل کے ممکنہ اہداف

صفدی کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کا ایک مقصد اس کی فوجی تنصیبات اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنانا ہو سکتا ہے، تاکہ تہران دوبارہ اپنی عسکری صلاحیتیں مضبوط نہ کر سکے۔ انہوں نے فوجی حملوں اور ایرانی نظام حکومت کی تبدیلی کی کوششوں کو الگ الگ معاملات قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ماضی میں بھی امریکہ کی مکمل شرکت کے بغیر محدود فوجی کارروائیاں کر چکا ہے اور اگر واشنگٹن براہ راست مداخلت سے گریز کرتا ہے تو تل ابیب اپنے اہداف کے حصول کے لیے آزادانہ اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم کسی نئی کارروائی کے وقت، دائرہ کار اور نتائج کے بارے میں فی الحال کوئی مصدقہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کا معاملہ

اسرائیل کو امریکی فوجی امداد جاری رکھنے یا مستقبل میں اس کا طریقہ کار تبدیل کرنے کے معاملے پر بھی دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ صفدی کے مطابق یہ معاملہ کئی ماہ سے زیر بحث ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت دفاعی پیداوار میں خود انحصاری بڑھانے کی خواہاں ہے۔

ان کے بقول اسرائیل اپنے ہاں گولہ بارود اور دیگر فوجی سازوسامان کی تیاری بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ امریکی امداد سے متعلق موجودہ انتظامات میں تبدیلی بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹرمپ کی جانب سے امداد کے حوالے سے دیے گئے بیان کو کسی حتمی حکومتی فیصلے یا باضابطہ معاہدے کا اعلان نہیں سمجھنا چاہیے۔

نیتن یاہو حکومت کو درپیش سیاسی صورتحال

اسرائیلی داخلی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے صفدی نے کہا کہ موجودہ حالات میں نیتن یاہو کی حکومت کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے پاس متبادل حکومت تشکیل دینے کا واضح راستہ موجود نہیں۔ ان کے مطابق سیاسی بحران کے حل کے لیے قومی اتحاد کی حکومت یا نئے انتخابات جیسے امکانات زیر بحث آ سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ قومی اتحاد کی حکومت بننے کی صورت میں جنگ اور امن سے متعلق اہم فیصلوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کو شریک کیا جا سکتا ہے، جس سے داخلی اختلافات کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

لبنان اور حزب اللہ سے متعلق اسرائیلی حکمت عملی

لبنان کے معاملے پر صفدی نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل نے بعض علاقوں، خصوصاً بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے، میں کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ مذاکرات کو موقع دینے کے لیے کیا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو اسرائیل اپنے طور پر فوجی اقدامات کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور لبنان کے سیاسی و عسکری نظام میں اس کے کردار کو محدود کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ صفدی کے مطابق لبنان کی خودمختاری اور خطے میں پائیدار امن کے لیے اس معاملے پر بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔

مجموعی طور پر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا مستقبل واشنگٹن کے آئندہ فیصلوں، اسرائیل کی عسکری حکمت عملی اور خطے میں جاری سفارتی کوششوں سے جڑا ہوا ہے۔ 


 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C