07/October/2026

ایران کے جوہری پروگرام پر امریکا کا دباؤ برقرار، مذکرات کے مواقع ضائع ہوچکے، مارکوروبیو

👁️ 101 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کے جوہری پروگرام پر امریکا کا دباؤ برقرار، مذکرات کے مواقع ضائع ہوچکے، مارکوروبیو

ایران کے جوہری پروگرام پر امریکا کا دباؤ برقرار، مذکرات کے مواقع ضائع ہوچکے، مارکوروبیو

ایتھنز(ڈیلی اردو) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق امریکا کے ساتھ معاہدے کے لیے کئی مواقع ضائع کر چکا ہے، جبکہ واشنگٹن اب ایسے کسی سمجھوتے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جس میں ایران کے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی واضح ضمانت موجود نہ ہو۔

ایتھنز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا کی بنیادی پوزیشن واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے میں ایرانی جوہری پروگرام پر قابلِ اعتماد پابندیاں اور ایسی یقین دہانی ضروری ہوگی جو ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور جوہری معاملے پر سفارتی رابطے جاری رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی ترجیحات اور شرائط پر نمایاں اختلاف موجود ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں بامعنی کمی کرنا ہوگی۔ الجزیرہ کے مطابق وینس نے ایران سے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر اس کا مقصد جوہری ہتھیار بنانا نہیں تو پھر 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کی ضرورت کیوں ہے۔

ایران کی جانب سے معاملے کو مختلف انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلے میں تہران کی ترجیح آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور امریکی پابندیوں و بحری ناکہ بندی سے متعلق معاملات ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی جب تک ایران کی جانب سے پیش کردہ شرائط پوری نہیں ہوتیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا تھا کہ تہران نے امریکی تجاویز کا جواب دیا ہے، تاہم اس مرحلے پر اس کی توجہ آبنائے ہرمز اور وہاں سکیورٹی کی بحالی پر ہے۔

گزشتہ ماہ ایران نے امریکا کو ایک سات روزہ منصوبہ بھی پیش کیا تھا جس کے تحت جنگ بندی اور دیگر شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اس کے بعد وسیع تر مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ الجزیرہ کے مطابق اس منصوبے میں پابندیاں نرم کرنے، ایرانی منجمد اثاثوں سے متعلق اقدامات اور خطے میں جاری لڑائی روکنے جیسے معاملات بھی شامل تھے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اس بات پر اختلاف برقرار رہا کہ ان اقدامات پر عملدرآمد کس ترتیب سے ہوگا۔

آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے معاملے پر بھی واشنگٹن اور تہران کے دعوے متضاد ہیں۔ روبیو نے ایتھنز میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل کنٹرول کھو چکا ہے اور خطے سے تیل کی ترسیل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ستمبر میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات بعض دنوں میں جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کر گئی تھیں، تاہم بحری جہازوں کو اب بھی سکیورٹی خطرات، حملوں اور اضافی نقل و حمل کے اخراجات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا مؤثر کنٹرول برقرار ہے۔ رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی حکام نے آبنائے میں بعض متبادل سمندری راستوں کو بھی بند کرنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ حالیہ ہفتوں میں تجارتی اور تیل بردار جہازوں کو مبینہ حملوں اور ہراسانی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رائٹرز کے مطابق 28 ستمبر سے 5 اکتوبر کے دوران آبنائے ہرمز میں ٹینکروں سے متعلق کم از کم 12 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں حملے، حملوں کی کوششیں اور ڈرون نگرانی شامل تھی۔

توانائی کے شعبے میں بھی صورتحال پیچیدہ ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل میں کچھ بہتری کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارت کو متبادل راستوں، سمندری جہازوں کے درمیان تیل کی منتقلی، بلند بیمہ اخراجات اور سکیورٹی خدشات کے باعث اضافی مشکلات کا سامنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکا کی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے بھی خطے میں جنگ اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث تیل کی قیمتوں کے اپنے اندازے میں اضافہ کیا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان اختلاف صرف جوہری افزودگی تک محدود نہیں بلکہ پابندیوں، ایرانی اثاثوں کی بحالی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں جاری جنگ کے خاتمے جیسے معاملات بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں اہم رکاوٹیں بنے ہوئے ہیں۔ الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرین نے بھی نشاندہی کی ہے کہ واشنگٹن کے لیے جوہری افزودگی بنیادی مسئلہ ہے، جبکہ تہران کی ترجیحات میں پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

اس صورتحال میں مارکو روبیو کا تازہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ تہران مذاکرات کو وسیع تر جنگ بندی، پابندیوں اور آبنائے ہرمز کے معاملات سے جوڑ رہا ہے۔ دونوں جانب سے سفارتی رابطوں کے باوجود کسی جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے بنیادی شرائط پر اتفاق تاحال سامنے نہیں آیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C