07/October/2026

سعودی عرب میں پاکستانی فوجی موجودگی کی تصدیق، ڈی جی آئی ایس پی آر نے مکہ دفاعی معاہدے کی تفصیلات بتادیں

👁️ 73 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سعودی عرب میں پاکستانی فوجی موجودگی کی تصدیق، ڈی جی آئی ایس پی آر نے مکہ دفاعی معاہدے کی تفصیلات بتادیں

سعودی عرب میں پاکستانی فوجی موجودگی کی تصدیق، ڈی جی آئی ایس پی آر نے مکہ دفاعی معاہدے کی تفصیلات بتادیں

اسلام آباد(ڈیلی اردو) ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فوجی اہلکار کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف دفاعی ذمہ داریوں کے لیے موجود ہیں، جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان نیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے دیرینہ دفاعی تعاون کو ایک نئے فریم ورک میں لے آیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور سعودی عرب میں موجود پاکستانی فوجی اہلکار مختلف شعبوں اور صلاحیتوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی فوج کی سعودی عرب میں موجودگی کوئی حالیہ پیش رفت نہیں بلکہ دونوں ممالک کے طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کا حصہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ بھی اچانک وجود میں آنے والا انتظام نہیں بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی، سیاسی، عوامی اور دفاعی روابط کا تسلسل ہے۔ ان کے بقول نئے معاہدے نے تینوں ممالک کے باہمی دفاعی تعاون کو ایک باقاعدہ مشترکہ فریم ورک فراہم کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ریاض نے پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون مزید فعال کیا ہے۔ پانچ اکتوبر کو ریاض میں مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد تینوں ممالک نے مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں پر عملی پیش رفت اور سعودی عرب میں طے شدہ فوجی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا تھا۔

رائٹرز کے مطابق اس معاہدے کے تحت پاکستان اور ترکیہ نے سعودی عرب کو فوجی معاونت اور دفاعی صلاحیتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ترکیہ کی جانب سے سعودی عرب کو فضائی دفاعی نظام، ڈرون آپریٹرز، انٹیلی جنس اور دیگر تکنیکی معاونت فراہم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے طے کیا تھا، جس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کے اصول پر اجتماعی دفاع کا فریم ورک قائم کیا گیا۔ حالیہ ہنگامی اجلاس کے بعد اس معاہدے کو پہلی مرتبہ عملی طور پر فعال کرنے کی سمت میں اقدامات کیے گئے ہیں۔

یمن میں بھی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی شروع کر رکھی ہے، جس کا ایک اہم مقصد بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے قریب حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینا ہے۔ دوسری جانب حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور اہم تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے اس سے قبل بھی واضح کیا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدہ بنیادی طور پر اجتماعی دفاع اور دفاعی تعاون کے لیے ہے اور اس کے کوئی علاقائی عزائم نہیں۔ تاہم موجودہ علاقائی کشیدگی میں معاہدے کے عملی نفاذ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان فوجی رابطوں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی وزارت اطلاعات نے سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی تعداد یا مخصوص آپریشنل ذمہ داریوں سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس کو قیاس آرائی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے عملی نفاذ سے متعلق تفصیلات حساس نوعیت کی ہیں۔ اس لیے سعودی عرب میں پاکستانی فوجی موجودگی کی تصدیق کو کسی مخصوص تعداد یا براہ راست جنگی کردار کی حتمی تصدیق کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C