04/September/2026

یمن : حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز میں شدید لڑائی، 80 سے زائد ہلاکتیں، کئی اہم مقامات پر قبضے اور واپسی

👁️ 84 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمن : حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز میں شدید لڑائی، 80 سے زائد ہلاکتیں، کئی اہم مقامات پر قبضے اور واپسی

یمن : حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز میں شدید لڑائی، 80 سے زائد ہلاکتیں، کئی اہم مقامات پر قبضے اور واپسی

عدن/صنعاء (ڈیلی اردو) یمن میں حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان مغربی محاذوں پر جاری شدید لڑائی میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جھڑپوں کے دوران تعز، الحدیدہ اور دیگر علاقوں میں کئی محاذوں پر بھاری ہتھیاروں، ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جبکہ حکومتی فورسز نے مغربی تعز میں بعض اہم مقامات دوبارہ اپنے قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

مغربی محاذوں پر شدید جھڑپیں

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعرات سے جاری لڑائی میں دونوں جانب سے جانی نقصان ہوا ہے۔ ایک یمنی فوجی عہدیدار نے بتایا کہ مغربی ساحلی علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران حکومتی فورسز کے 24 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ ایک اور فوجی ذریعے نے تعز محاذ سے مزید 15 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی۔

حوثی باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں طبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک 42 لاشیں اسپتالوں میں لائی گئی ہیں۔ تاہم لڑائی میں مجموعی ہلاکتوں سے متعلق یمنی حکومت یا حوثی باغیوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مشترکہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔

تعز میں حوثی باغیوں کا حملہ

ذرائع کے مطابق حوثی باغیوں نے مغربی تعز میں متعدد حکومتی ٹھکانوں پر زمینی حملہ کیا، جس کے بعد تعز۔المخا محور میں شدید لڑائی شروع ہوگئی۔ حوثی باغیوں نے کارروائی کے دوران ڈرونز اور بیلسٹک میزائل بھی استعمال کیے اور بعض مقامات پر پیش قدمی کرتے ہوئے متعدد پوزیشنوں پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا۔

حکومتی فورسز کا جوابی حملہ

بعد ازاں حکومتی فورسز نے مغربی تعز میں جوابی کارروائی شروع کی۔ یمنی ذرائع کے مطابق حکومتی فورسز نے جبل حبشی کے علاقے میں واقع تزویراتی اہمیت کے حامل جبل نعمان پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔

بعد ازاں حکومتی فورسز نے مغربی تعز کے علاقے بنی عبداللہ کے قریب واقع حلبہ نامی اہم مقام بھی حوثی باغیوں سے واپس لینے کا دعویٰ کیا۔ حکام کے مطابق یہ پیش رفت جوابی کارروائی کے دوران شدید جھڑپوں کے بعد ہوئی۔

الحدیدہ اور حیس میں بھی لڑائی

الحدیدہ کے جنوبی علاقے حیس اور جبل دباس کے اطراف بھی شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تہامہ فورسز اور نیشنل ریزسٹنس فورس نے حوثی باغیوں کے بڑے حملے کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حکومتی فورسز کی جانب سے الجوف کے علاقوں المحزمات اور خب والشعف میں بھی حوثی باغیوں کے مبینہ ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز کو راکٹوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

کئی برس بعد شدید ترین کشیدگی

یمن میں حالیہ لڑائی کو گزشتہ کئی برس کے دوران حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان ہونے والی شدید ترین جھڑپوں میں شمار کیا جارہا ہے۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب اپریل 2022 کے بعد کئی محاذوں پر نسبتاً طویل عرصے تک لڑائی میں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم جولائی سے فوجی سرگرمیوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔

یمنی حکومت نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ حوثی باغی بحیرہ احمر اور باب المندب کے اہم ساحلی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، جس کے باعث موجودہ فوجی کشیدگی کو خطے کے لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C