اسلام آباد: جامعہ حفصہ کا بیشتر حصوں کو گرانے کے بعد امّ حسان کی ضمانت پر رہائی
👁️ 530 بار دیکھا گیا
اسلام آباد: جامعہ حفصہ کا بیشتر حصوں کو گرانے کے بعد امّ حسان کی ضمانت پر رہائی
اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور جامعہ حفصہ کی نگران ام حسان کو عدالت نے ضمانت بعداز گرفتاری دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
بدھ کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پورا ہونے پر ام حسان کو ساتھ دیگر طالبات اور معلمات کے ہمراہ عدالت میں پیش کیا گیا۔
خیال رہے کہ ام حسان اور دیگر ملزمان کے خلاف کار سرکار میں مداخلت اور سرکاری عملے پر مبینہ فائرنگ کا کیس درج ہے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔
عدالت نے ام حسان سمیت تمام ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرلی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل یہ اطلاع ملی تھی کہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی اے نے لال مسجد سے ملحقہ زیر تعمیر مدرسہ جامعہ حفصہ کا ایک حصہ گرادیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق سرکاری اراضی پر مدرسے کی دوبارہ سے غیر قانونی تعمیر کی جارہی تھی جس کی وجہ سے اس کے کچھ حصے کو گرایا گیا ہے۔
ان کے مطابق سرکاری اراضی پر ابھی صرف اس عمارت کی دیواریں کھڑی کی گئی تھیں جن کے بیشتر حصوں کو گرا دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سنہ 2007 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں لال مسجد آپریشن کے بعد لال مسجد سے ملحقہ جامعہ حفصہ کو منہدم کر دیا گیا تھا اور اُس وقت کی ضلعی انتظامیہ نے خواتین کے مدرسے کے لیے مسجد کی انتظامیہ کو اسلام آباد کے علاقے ترنول کے قریب دس مرلے کی زمین الاٹ کرنے کی پیشکش کی تھی۔ تاہم لال مسجد کی انتظامیہ نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔
دوسری جانب، لال مسجد کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے مولانا عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ جامعہ حفصہ کی دیواریں ضلعی انتظامیہ یا سی ڈی اے کے اہلکاروں نے نہیں بلکہ لال مسجد کی انتظامیہ نے خود گرائی ہیں۔
جامعہ حفصہ کی عمارت پر تنازع کیوں؟
خیال رہے کہ جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر سنہ 2022 میں گئی تھی۔ اسے سنہ 2007 میں لال مسجد آپریشن کے وقت مسمار کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کیس میں دو اکتوبر 2007 کو وفاقی حکومت اور سی ڈی اے کو حکم دیا تھا کہ وہ لال مسجد کے ساتھ پرانی جگہ پر ہی جامعہ حفصہ کو ایک سال کے اندر دوبارہ تعمیر کرے۔ تاہم وفاقی حکومت اور سی ڈی اے نے سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا تھا۔
مذاکراتی کمیٹی کے رکن مولانا احتشام نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 2011 میں حکومتی وزیر رحمان ملک نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کی مدد سے رابطہ کیا اور ‘کہا کہ ہمیں جامعہ حفصہ کے متبادل سیکٹر ایچ میں 20 کنال جگہ دیں گے۔’
ان کا دعویٰ ہے کہ ‘معاہدہ طے پا گیا تھا۔ ہم نے مدرسے کی تعمیر شروع کی جس کے بعد 2019 میں مذکورہ زمین پر کام کو انتظامیہ نے زبردستی روک دیا۔ اس وقت تک وہاں مدرسے کی بیسمنٹ بن چکی تھی۔ بعد میں ہمیں مختلف مقامات کے بارے میں بتایا گیا کہ وہاں مدرسے کے لیے جگہ دی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلآخر ہم نے خود اسی جگہ جامعہ حفصہ کو دوبارہ تعمیر کیا۔’
کیا اسلام آباد انتظامیہ نے ام حسان کی حالیہ گرفتاری سے پہلے جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر کا نوٹس لیا اور اسے گرانے کی بات کی، اس کے جواب میں مدرسے کی انتظامیہ کا کہنا ہے ایسا کوئی نوٹس یا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا۔
تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق دسمبر 2019 میں اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے مدرسے کو نوٹس جاری کیا گیا تھا کہ چلڈرن پارک کی زمین پر غیر قانونی تعمیر نہ کی جائے۔ تاہم گزرے برسوں میں لال مسجد کی جانب جانے والے راستوں کو اکثر اوقات بند کیا جاتا رہا ہے تاہم انتظامیہ مدرسے کی تعمیر کو روک نہیں پائی۔
مولانا احتشام کا دعویٰ ہے کہ انتظامیہ ‘فقط ہزیمت سے بچنے کے لیے ہم سے جامعہ حفصہ کی عمارت کے کچھ حصے کو گرانے کا کہہ رہی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے اسے کسی نے چیلنج نہیں کیا تھا۔’
ان کا دعویٰ ہے اس وقت جامعہ حفصہ کی عمارت میں سینکڑوں طالبات اور معلمات موجود ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سیکٹر جی سیون تھری ہماری مرکزی برانچ ہے جہاں 3500 سے 4000 طالبات ہوتی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد انتظامیہ کے خدشات ہیں کہ اگر یہاں نئی عمارت میں مزید طالبات آئیں اور احتجاج کے لیے وہ سڑک پر آئیں تو اس سے نقص امن ہو سکتا ہے۔
انھوں نے تصدیق کی کہ ام حسان جامعہ حفصہ کی طالبات کے ہمراہ ایک درجن سے زائد مرتبہ موسیقی کی محفلوں، کنسرٹس یا شادی کی تقریبات میں رات گئے میوزک کو رکوانے کے لیے مختلف مقامات پر جا چکی ہیں اور احتجاج کر چکی ہیں۔
خیال رہے کہ اس معاملے پر جمیعت اہلسنت کی جانب سے اجلاس بلوائے گئے ہیں اور ام حسان کی رہائی کے ساتھ ساتھ مساجد و مدرسوں کے انہدام یا انھیں منتقل کرنے کی سخت الفاظ میں مخالفت کی گئی ہے۔
ادھر چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر اشرفی نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ مدرستہ المسلم کے معاملے پر دونوں جانب بات چیت ہو رہی ہے۔
انھوں نے ان خدشات کو مسترد کیا کہ یہ معاملہ سنہ 2007 کے حالات جیسا رُخ اختیار کر سکتا ہے اور کہا کہ ‘انتظامیہ بھی ہماری ہے اور مدرسے اور مسجدیں بھی ہماری ہیں۔ دونوں اطراف بات چیت ہو رہی ہے۔ امید ہے معاملہ حل ہو جائے گا۔’
جب ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا بات چیت ہو رہی ہے تو انھوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 101 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 199 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 175 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 121 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 320 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8962 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4812 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3574 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3443 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2566 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C