اقوام متحدہ نے ویٹو پر بحث کیلئے پہلی قرارداد اتفاق رائے منظور کرلی
👁️ 52 بار دیکھا گیا
اقوام متحدہ نے ویٹو پر بحث کیلئے پہلی قرارداد اتفاق رائے منظور کرلی
جنیوا (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی) اقوام متحدہ کی ایک نئی قرارداد کے تحت اب ویٹو پاور کا استعمال کرنے پر ان ممالک کو وضاحت کرنی ہو گی کہ آخر کیسے اور کیوں ایسا کیا گیا۔ جنرل اسمبلی میں اس قرارداد کو تالیوں کی گونج کے ساتھ اتفاق رائے منظور کیا گیا۔
The UN General Assembly adopted by consensus a resolution requiring the 5 permanent members of the Security Council to justify their use of the veto. "There has never been a stronger need for innovation in order to secure the central role & voice of the UN," said @LiechtensteinUN pic.twitter.com/eKG4IJQHbl
— United Nations Geneva (@UNGeneva) April 27, 2022
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اتفاق رائے سے اس قرارداد کی منظوری کے حق میں ووٹ دیا جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کی جانب سے ویٹو پاور کے استعمال کرنے پر انہیں جوابدہ بنانے کی جانب پہلا قدم سمجھا جا رہا ہے۔
UN member countries adopt resolution mandating #UNGA meeting in instances where permanent members of Security Council use veto.
Resolution comes in wake of Russia’s use of the veto days after Ukraine invasion. https://t.co/5Imy0oXssX
— United Nations (@UN) April 27, 2022
اس قرارداد سے پانچوں مستقل ارکان، امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس اپنے ویٹو پاور سے تو محروم نہیں ہوں گے، تاہم پہلی بار جنرل اسمبلی میں اس بات پر بحث ہو سکے گی کہ ویٹو پاور کا استعمال آخر کس بنیاد پر اور کس مقصد کے لیے کیا گیا۔
کسی بھی مسئلے پر ویٹو پاور کے استعمال کے 10 روز کے اندر جنرل اسمبلی میں اس ”صورت حال پر بحث” کرنے کی ضرورت ہو گی کہ آخر کسی قرارداد کو روکنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور ویٹو پاور کا استعمال کرنے والے ملک کو اس کی وضاحت کرنی ہو گی۔
اس قرار داد کی حمایت میں متفقہ طور جنرل اسمبلی کے سبھی 193 ارکان نے ووٹ کیا اور تالیوں کی گونج کے ساتھ اسے منظور کر لیا گیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فارمیٹ پر ایک طویل عرصے سے نکتہ چینی ہوتی رہی ہے کہ اس کے پانچ مستقل ارکان میں سے اگر کوئی رکن قرارداد کے حق میں نہ ہو یا ناراض ہو تو اتفاق رائے کے لیے یا تو بہت جد جہد کرنی پڑتی ہے یا پھر وہ قرارداد ناکام ہو جاتی ہے۔ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد اس دیرینہ مسئلے کی جانب کچھ زیادہ ہی توجہ مرکوز ہوئی ہے۔
قرارداد کا مقصد کیا ہے؟
اس قرارداد میں ویٹو پاور کا استعمال کرنے والے ملک کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں سب سے پہلے خطاب کرنے کا موقع فراہم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ لیکن جنرل اسمبلی اس طرح کے اجلاس کے نتیجے میں کسی بھی طرح کی کارروائی کرنے کی مجاز نہیں ہو گی۔
پھر بھی اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ جب پانچوں مستقل ارکان میں سے کوئی بھی ویٹو پاور کا انتخاب کرے، تو اسے جوابدہ بنانے کے ساتھ ہی اس کی رائے پر باریک نظر رکھی جا سکے اور انہیں عالمی رائے سے آگاہ بھی کیا جا سکے کہ آخر دنیا کا موقف کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں لیختنسٹین کے سفیر کرسچن ویناویسر نے اس اقدام کی قیادت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد، ” بین الاقوامی امن اور سلامتی کے معاملات پر ہم ان سب کی آواز کو سننے کی بات کرتی ہے جو ویٹو پاور نہیں رکھتے یا پھر جو سلامتی کونسل کے رکن نہیں ہیں، کیونکہ ایسے معاملات ہم سب کو متاثر کرتے ہیں۔”
سلامتی کونسل اس وقت سرخیوں میں کیوں ہے؟
حال ہی میں روس نے یوکرین میں اپنے ”خصوصی فوجی آپریشن” کے حوالے سے قراردادوں کو ویٹو کر دیا تھا اور جہاں تک یوکرین پر روسی حملے کی بات ہے تواس حوالے سے مستقبل میں بھی ویٹو کے خطرات نے اقوام متحدہ کے سب سے طاقتور ادارے کو تقریباً مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
سکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان امریکہ اور برطانیہ نے یہ قرارداد پیش کی تھی جبکہ جرمنی سمیت مجموعی طور پر تقریباً 80 ممالک نے لیختنسٹین کی تجویز پر بطور شریک اسپانسر دستخط کیے تھے۔
اقوام متحدہ میں لیختنسٹین کے سفیر کرسچن ویناویسر نے اس اقدام کی قیادت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد، ” بین الاقوامی امن اور سلامتی کے معاملات پر ہم ان سب کی آواز کو سننے کی بات کرتی ہے جو ویٹو پاور نہیں رکھتے یا پھر جو سلامتی کونسل کے رکن نہیں ہیں، کیونکہ ایسے معاملات ہم سب کو متاثر کرتے ہیں۔”
سلامتی کونسل اس وقت سرخیوں میں کیوں ہے؟
حال ہی میں روس نے یوکرین میں اپنے ”خصوصی فوجی آپریشن” کے حوالے سے قراردادوں کو ویٹو کر دیا تھا اور جہاں تک یوکرین پر روسی حملے کی بات ہے تواس حوالے سے مستقبل میں بھی ویٹو کے خطرات نے اقوام متحدہ کے سب سے طاقتور ادارے کو تقریباً مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
سکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان امریکہ اور برطانیہ نے یہ قرارداد پیش کی تھی جبکہ جرمنی سمیت مجموعی طور پر تقریباً 80 ممالک نے لیختنسٹین کی تجویز پر بطور شریک اسپانسر دستخط کیے تھے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بلوچستان : واشک میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک
08/September/2026 👁️ 50 بار دیکھا گیا
بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل سابق شامی جنرل طارتوس سے گرفتار
07/September/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
یمنی فوج نے اہم فوجی اڈے کا کنٹرول حاصل کرلیا، حوثیوں ساتھ صومالی جنگجوؤں کی موجودگی کا انکشاف
07/September/2026 👁️ 87 بار دیکھا گیا
سنٹرل کرم میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملہ، دو شہری ہلاک
07/September/2026 👁️ 82 بار دیکھا گیا
وزیرستان : سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ایرانی شہری سمیت متعدد دہشتگرد ہلاک
07/September/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
مستونگ میں تھانے پر دستی بم سے حملہ، پولیس اہلکار زخمی
07/September/2026 👁️ 78 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26277 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15525 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11811 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9107 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7397 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5098 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C