ترکی نے شام میں فوجی آپریشن شروع کردیا
👁️ 119 بار دیکھا گیا
ترکی نے شام میں فوجی آپریشن شروع کردیا
انقرہ + دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی نے شمال مشرقی شام میں فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے، ترک فضائیہ کی طرف سے سرحدی علاقے راس العین میں کردوں کے ٹھکانے پر شدید بمباری کی گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کی جانب سے شمالی مشرقی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے، ترک فضائیہ کی جانب سے کردوں کے ٹھکانے پر شدید بمباری بھی کی، ترکی اور شام کی سرحد سے ملحقہ ترک علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ جب کہ جنگی جہاز بھی علاقے میں پرواز کر رہے ہیں۔
عرب خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کی فوج کی کارروائی کے دوران 6 شہریوں کی شہادت کی اطلاعات ملی ہیں۔
برطانوی خبر سراں ادارے رائٹرز کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے اور یہ دہشت گردوں کی راہداری کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ ترکی کی جانب سے کارروائی کے خدشے کے باعث شمال مشرقی شام میں کردوں کے زیرِ اثر مقامی انتظامیہ نے ترکی سے متصل سرحد پر جنگجوؤں کی تعیناتی شروع کر دی تھی۔
اُدھر ترک فوج کے افسر نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ہے کہ شام میں فوجی کارروائی کا آغاز فضائی بمباری سے کر دیا گیا ہے جبکہ علاقے میں ٹینکوں اور پیدل فوج کے ذریعے بھی کارروائی کی جائے گی۔ عالمی قوتیں ترکی کے اس اقدام سے قبل اس خدشے کا اظہار کر رہی تھیں کہ اس سے شام میں گزشتہ آٹھ سال سے جاری جنگ ایک نیا رخ اختیار کر لے گی۔
ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کارروائی سے قبل روس کے صدر ولادی میر پوٹن کو اعتماد میں لیا ہے۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے بعد خطے میں امن و استحکام لانے میں مدد ملے گی۔
One day, when Turkey uses captured ISIS fighters as a threat to Europe and the world just like it uses Syrian refugees now, we will remind those who trusted Turkey in managing detention of militants that their complicit silence was the main reason caused it.
— Mustafa Bali (@mustefabali) October 9, 2019
دوسری طرف شمال مشرقی شام پر اثر رکھنے والی کرد اور عرب ملیشیاؤں پر مشتمل شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ترجمان نے بدھ کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’ان حملوں کے ذریعے ترکی داعش کے لیے نیا علاقہ لینا چاہتا ہے اور ان تنظیموں کی زندگی کی دوام بخشنا چاہتا ہے۔ ہم ترکی کے حملوں اور ان کی حمایت کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔‘‘
https://twitter.com/mustefabali/status/1181695725052289024?s=19
ایس ڈی ایف کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’’ترکی کے شمال مشرقی شام پر حملے کے مقاصد کے بارے میں پوری دنیا جانتی ہے۔ ہم انسانی حقوق کی تنظیموں، جمہوری اداروں، یورپی یونین اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ترکی کے حملے کے خلاف موقف اختیار کریں۔ جو کوئی بھی اس اپیل کو نظرانداز کرے گا، اس کو ترکی کے اقدامات کا حامی خیال تصور کیا جائے گا۔‘‘
At the same time of Turkish threats to invade NE Syria, Daesh sleeper cells launched a large-scale attack on SDF security bases inside al-Raqqa.
— Mustafa Bali (@mustefabali) October 8, 2019
انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم ترک قوم پر حملہ نہیں کریں گے لیکن اگر ترکی ہم پر حملہ آور ہونے پر مُصر رہتا ہے اور ہماری سرزمین پر قبضہ کر لیتا ہے تو ہم اپنے دفاع کا قانونی حق استعمال کریں گے۔‘‘
The Daesh attack is large-scale and is not a hit and run operation. Now who is volunteering to fight them in case they capture parts of the city now that the SDF is busy manning borderline?
— Bahtiyar Umut (@baxtiyarumut) October 8, 2019
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کی ترجمان فہرطین التن نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کارروائی کے لیے انقرہ کا ساتھ دیں۔ ان کے بقول اس کارروائی میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے مضموں میں فہرطین التن کا کہنا تھا کہ ترکی شمالی مشرقی شام کے عوام کو کرد جنگجوؤں کے تسلط سے آزادی دلانا چاہتا ہے۔
خیال رہے کہ ترکی شام میں کرد جنگجو گروہوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ ترکی چاہتا ہے کہ ترکی کی سرحد سے متصل شام کے اس علاقے میں 32 کلومیٹر تک ایک ’سیف زون‘ بنایا جائے۔ ترکی شام جنگ کے بعد ترکی میں مقیم 35 لاکھ پناہ گزینوں میں سے 20 لاکھ کو یہاں آباد کرنا چاہتا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل شمال مشرقی شام سے اپنی فوج نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے بعد ترکی کے لیے راہ ہموار ہو گئی تھی کہ وہ شمالی مشرقی شام میں کرد جنگجو گروہوں کے خلاف کارروائی کر سکے۔
امریکہ ماضی میں ان جنگجو گروہوں کی حمایت کرتا آیا ہے جو اس کے بقول شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف سرگرم ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو یہ تنبیہ بھی کی تھی کہ اگر اس نے شام میں 32 کلومیٹر کے علاقے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو امریکہ اس کی معیشت کو تباہ کر دے گا۔
امریکی دھمکی کے باوجود ترک حکام کا کہنا تھا کہ وہ کرد جنگجوؤں کے خاتمے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ گزشتہ چند روز سے ترکی کی فوج اس علاقے میں جمع ہو رہی تھیں جس کے بعد کرد جنگجوؤں نے بھی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر، تقرری 3 سال کے لیے ہوگی
04/September/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں کل کرفیو، بازار اور اہم شاہراہیں بند رہیں گی
04/September/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
ترکیہ: استنبول میں سیکیورٹی اداروں کی کاروائی ،داعش سے مبینہ تعلق رکھنے والا شخص ہلاک
04/September/2026 👁️ 88 بار دیکھا گیا
شام: دمشق میں کارروائی، اسد دور کی معروف میڈیا شخصیت سنال الخضر گرفتار
04/September/2026 👁️ 62 بار دیکھا گیا
یمن : حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز میں شدید لڑائی، 80 سے زائد ہلاکتیں، کئی اہم مقامات پر قبضے اور واپسی
04/September/2026 👁️ 97 بار دیکھا گیا
کشمیر: بھارتی سیکورٹی فورسز کی کاروائی ، ایک دہشتگرد ہلاک
04/September/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26274 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15523 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11804 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9099 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7388 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5065 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C