لیبیا: پرتشدد واقعات کے سبب حریف وزیر اعظم طرابلس سے فرار
👁️ 32 بار دیکھا گیا
لیبیا: پرتشدد واقعات کے سبب حریف وزیر اعظم طرابلس سے فرار
طرابلس (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی) لیبیا میں اس وقت دو حریف متوازی حکومتیں ہیں اور دونوں ہی کو مسلح گروہوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ دارالحکومت طرابلس میں اس وقت تشدد پھوٹ پڑا جب ان میں سے ایک نے وہاں اپنی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔
لیبیا میں 17 مئی منگل کے روز حریف وزیر اعظم فتحی علی عبدالسلام باش آغا کو اس وقت دارالحکومت طرابلس چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا، جب متحارب ملیشیا کے درمیان اچانک جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ باش آغا کئی وزرا کے ساتھ اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے طرابلس پہنچے تھے۔
تین ماہ قبل ہی ملک کی مشرقی پارلیمان نے فتحی علی عبد السلام باش آغا کو اپنا نیا وزیر اعظم منتخب کیا تھا۔ یہ پارلیمان طبرق شہر میں واقع ہے۔ پارلیمانی فیصلے کے باوجود موجودہ وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ نے یہ کہہ کر اقتدار چھوڑنے سے انکار کر دیا کہ وہ ایسا صرف ایک منتخب حکومت کے لیے کریں گے۔
عبدالحمید الدبیبہ کو دارالحکومت طرابلس میں طاقتور مسلح ملیشیا کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ان کی وزارت دفاع نے کہا تھا، ”سیکورٹی اور شہریوں کی حفاظت پر حملہ کرنے والوں ” کو ”آہنی مکے سے” جواب دیا جائے گا۔ اس موقع پر الدبیبہ کو طرابلس کی گلیوں میں عوام سے ملتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
‘خونریزی روکنے’ کی امید میں شہر چھوڑ دیا
دو متوازی حکومتوں کے حامیوں کے درمیان تشدد پھوٹنے سے پہلے باش آغا نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا، ”ہم پرامن اور محفوظ طریقے سے دارالحکومت طرابلس پہنچے۔ استقبالیہ بھی شاندار تھا۔” بعد میں انہوں نے کہا کہ وہ محض ”شہریوں کی سلامتی اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے اور خونریزی کو روکنے کے لیے شہر سے نکل آئے۔”
لیبیا سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی مشیر اسٹیفنی ولیمز نے اس واقعے سے متعلق ٹویٹر پر اپنی ایک پوسٹ میں لوگوں سے
پرامن رہنے کی اپیل کی اور تمام مسائل کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر کو استعمال کرنے کی پیشکش کی۔
انہوں نے ٹویٹر پر لکھا، ”میں تحمل کی تاکید کرتی ہوں اور اشتعال انگیز بیان بازی، جھڑپوں میں شرکت اور فورسز کو متحرک کرنے سمیت اشتعال انگیز کارروائیوں سے پرہیز کرنے کی مکمل ضرورت پر زور دیتی ہوں۔”
تیل کی دولت سے مالا مال یہ ملک ایک طویل عرصے سے سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ سن 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت میں ملک کے آمر معمر قذافی کو ہلاک کر دیا گیا تھا، تب سے یہ تنازعات کا شکار ہے۔
اس وقت ملک کے مشرق اور مغرب میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں، جن میں سے ہر ایک کو مسلح ملیشیا اور غیر ملکی حکومتوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔
لیبیا میں جون میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں، جو اصل میں سن 2018 میں ہونا تھے، لیکن پھر انہیں پہلے دسمبر 2021 تک کے لیے ملتوی کیا گیا اور اب رواں برس جون تک موخر کر دیا گیا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بلوچستان : واشک میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک
08/September/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل سابق شامی جنرل طارتوس سے گرفتار
07/September/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
یمنی فوج نے اہم فوجی اڈے کا کنٹرول حاصل کرلیا، حوثیوں ساتھ صومالی جنگجوؤں کی موجودگی کا انکشاف
07/September/2026 👁️ 87 بار دیکھا گیا
سنٹرل کرم میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملہ، دو شہری ہلاک
07/September/2026 👁️ 84 بار دیکھا گیا
وزیرستان : سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ایرانی شہری سمیت متعدد دہشتگرد ہلاک
07/September/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
مستونگ میں تھانے پر دستی بم سے حملہ، پولیس اہلکار زخمی
07/September/2026 👁️ 78 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26277 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15526 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11811 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9107 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7397 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5098 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C