01/November/2026

اسرائیل کے ممکنہ اہداف میں ترکیہ اور سعودی عرب بھی شامل ہو سکتے ہیں، ایرانی عہدیدار کا دعویٰ

👁️ 51 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسرائیل کے ممکنہ اہداف میں ترکیہ اور سعودی عرب بھی شامل ہو سکتے ہیں، ایرانی عہدیدار کا دعویٰ

اسرائیل کے ممکنہ اہداف میں ترکیہ اور سعودی عرب بھی شامل ہو سکتے ہیں، ایرانی عہدیدار کا دعویٰ

تہران(ڈیلی اردو) ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے خطرات صرف ایران تک محدود نہیں اور مستقبل میں ترکیہ اور سعودی عرب بھی اس کی ممکنہ کارروائیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ ان کے بقول تہران میں ہونے والے چار ملکی اجلاس کے دوران سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن نے اسرائیل کی علاقائی پالیسیوں پر تشویش ظاہر کی۔

ایران انٹرنیشنل کی 31 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے ایرانی سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وزیر دفاع نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل پہلے ایران کے بعد ترکیہ اور پھر سعودی عرب کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ رضائی کے مطابق ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ نے بھی اسرائیل سے متعلق خطرات پر بات کی۔ تاہم یہ تفصیلات ایرانی عہدیدار کے بیان پر مبنی ہیں اور اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کی جانب سے ترکیہ یا سعودی عرب کو ممکنہ ہدف بنانے کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

26 اکتوبر کو تہران میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ سطحی حکام نے شرکت کی۔ پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کی جانب سے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی طرف سے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن نے کی، جبکہ ایرانی وفد کی میزبانی محسن رضائی نے کی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں چاروں ممالک نے علاقائی امن، سلامتی اور تعاون کے فروغ کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتِ حال، اسرائیل کی سرگرمیوں، فلسطین اور لبنان کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس ملاقات کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کے ذریعے ایک ایسا سکیورٹی نظام تشکیل دینا ہے جس میں بیرونی طاقتوں پر انحصار کم ہو۔

دوسری جانب محسن رضائی نے امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ تہران نے واشنگٹن کے سامنے سات شرائط رکھی ہیں اور ان پر امریکی جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران امریکا کی جانب سے مذاکرات کے لیے تین تجاویز موصول ہوئیں، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایک خط بھی انہیں بھیجا گیا، جس کے لہجے کو انہوں نے سابقہ امریکی پیغام کے مقابلے میں تبدیل شدہ قرار دیا۔

ایران انٹرنیشنل کے مطابق رضائی کا کہنا تھا کہ امریکی تجاویز میں بعض معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم کئی امور اب بھی غیر واضح ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی شرائط پوری ہونے تک نہ تو مذاکرات کے اگلے مرحلے میں جانے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو معمول کے مطابق کھولنے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق ان شرائط میں آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والے انتظام کی بین الاقوامی سطح پر توثیق بھی شامل ہے۔ رضائی نے کہا کہ ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد کی صورت میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت ایک مخصوص راہداری اور طے شدہ انتظامات کے تحت بحال کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔

جوہری پروگرام کے معاملے پر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تہران اپنے جوہری حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا اور کسی بھی مذاکرات میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اپنے حقوق تسلیم کرانے کا مطالبہ کرے گا۔ انہوں نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی پر بھی تنقید کی۔ دوسری جانب امریکا ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں اور نگرانی کے معاملات کو مذاکرات کا اہم حصہ بنانا چاہتا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یکم نومبر کو ایرانی اور قطری حکام کے درمیان دوحہ میں مسلسل تیسرے روز بھی بات چیت جاری رہی، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی مفاہمت تک پہنچنا ہے۔ قطری حکام واشنگٹن سے بھی رابطے میں ہیں، تاہم ابھی تک کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

الجزیرہ کے مطابق تہران میں چار ملکی اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی تصادم کے خدشات بڑھ رہے تھے اور خطے کے ممالک جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے تھے۔ اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی شرکت کو بھی علاقائی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C