01/November/2026

افغان طالبان نے پاکستان میں دہشتگردی کی حمایت بند نہ کی تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے: ترجمان پاک فوج

👁️ 38 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغان طالبان نے پاکستان میں دہشتگردی کی حمایت بند نہ کی تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے: ترجمان پاک فوج

افغان طالبان نے پاکستان میں دہشتگردی کی حمایت بند نہ کی تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے: ترجمان پاک فوج

راولپنڈی(ڈیلی اردو) پاک فوج کے ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے افغان طالبان حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے پاکستان میں دہشتگردی کی مبینہ سرپرستی اور افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

30 اکتوبر کو عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے اور افغان طالبان حکومت مبینہ طور پر بھارت کے مفادات کے لیے پراکسی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھی پاکستان کے خلاف بھارتی حمایت یافتہ پراکسی گروہ ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مختلف غیر ریاستی عناصر اور مسلح گروہوں کو سرگرمیوں کی گنجائش حاصل ہے، جبکہ جیش العدل، القاعدہ اور داعش خراسان سمیت متعدد بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی بھی پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق خدشات کی نشاندہی اقوام متحدہ، امریکا اور دیگر ممالک بھی کر چکے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان کا افغان طالبان سے بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور ایسے گروہوں کی حمایت ختم کرے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ افغان طالبان نے نور ولی محسود، بشیر زیب اور گل بہادر جیسے مطلوب دہشتگرد رہنماؤں کو پناہ دے رکھی ہے، جبکہ پاکستان میں حملوں کے لیے دہشتگردوں کی نقل و حرکت اور اسلحے کی فراہمی بھی افغانستان سے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگردانہ سرگرمیاں ہیں۔ اگر افغان طالبان حکومت پاکستان کے تحفظات دور کرنے اور دہشتگرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرنے میں ناکام رہی تو پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان حکومت کو ایک ذمہ دار ریاستی انتظامیہ کی طرح طرزِ عمل اختیار کرنے، دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے اور منشیات کی کاشت و پیداوار روکنے کے لیے مؤثر اقدامات پر آمادہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان حکومت کی بین الاقوامی ساکھ بھی ان معاملات پر اس کے طرزِ عمل سے متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج افغانستان کی جانب سے پیدا ہونے والے ہر قسم کے خطرات، بشمول ڈرون حملوں، کا مقابلہ کرنے اور ملکی سلامتی کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق مانیٹرنگ ٹیم کی 2026 کی رپورٹ میں بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی اور پاکستان کے خلاف اس کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق سرحد پار حملوں میں اضافے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔

افغان طالبان حکومت ماضی میں اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے دینے کے الزامات مسترد کرتی رہی ہے اور مؤقف اختیار کرتی ہے کہ وہ کسی گروہ کو دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیتی۔ یوں دونوں ممالک کے درمیان دہشتگردی کا معاملہ بدستور تعلقات میں بنیادی تنازع بنا ہوا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C