01/November/2026

سعودی فوجی اتحاد کا حوثی باغیوں سے شہریوں اور تنصیبات پر حملے فوری روکنے کا مطالبہ

👁️ 52 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سعودی فوجی اتحاد کا حوثی باغیوں سے شہریوں اور تنصیبات پر حملے فوری روکنے کا مطالبہ

سعودی فوجی اتحاد کا حوثی باغیوں سے شہریوں اور تنصیبات پر حملے فوری روکنے کا مطالبہ

ریاض( ڈیلی اردو) یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے فوری طور پر باز رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے یکم نومبر کو جاری بیان میں کہا کہ حوثی باغی اپنے عسکری وسائل اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے اہم وسائل استعمال کر رہے ہیں، جبکہ شہریوں اور شہری تنصیبات کے خلاف مسلسل حملوں سے یمن، سعودی عرب اور خطے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔

ان کے مطابق اتحاد کی مشترکہ افواج نے حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنے اور ان کے حملوں کے لیے استعمال ہونے والے وسائل کو غیر مؤثر بنانے کی غرض سے ہدفی فوجی کارروائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد شہریوں کے تحفظ اور مزید حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری فوجی اقدامات جاری رکھے گا۔

ترجمان نے حوثی باغیوں پر زور دیا کہ وہ شہری آبادی، بنیادی ڈھانچے اور دیگر غیر فوجی تنصیبات کے خلاف تمام جارحانہ کارروائیاں فوری طور پر بند کریں۔ تاہم ان کے بیان میں تازہ کارروائی کے دوران نشانہ بنائے گئے مقامات، تباہ ہونے والے عسکری اثاثوں یا ممکنہ جانی نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حوثی باغیوں کے زیر انتظام ذرائع ابلاغ نے اتوار کو یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ میں جامعہ الحدیدہ کے میڈیکل کالج پر سعودی فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی اور اس دعوے کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اکتوبر کے آخری ہفتے میں حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مشرقی اور جنوبی علاقوں کی جانب تین بیلسٹک میزائل اور چار ڈرون بھیجنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے ان میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں جانب سے فوجی کارروائیوں میں شدت دیکھی گئی ہے۔

رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق یمن میں تازہ کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے حوثی باغیوں کے میزائلوں، ڈرونز اور دیگر عسکری تنصیبات کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اس صورتِ حال نے 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی کو بھی شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں دوبارہ وسیع پیمانے پر لڑائی پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

یمن میں جاری لڑائی کے اثرات بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کی بحری گزرگاہوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اہم سمندری راستے ہیں۔ سعودی اتحاد نے اپنے تازہ بیان میں بھی جنوبی بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت اور شہریوں کے تحفظ کو فوجی اقدامات کی اہم وجوہات میں شامل کیا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C