01/November/2026

ایران نے برطانوی بحریہ اور فضائیہ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا، ایم آئی 6 مخالف گروہوں کی فہرست میں شامل

👁️ 64 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران نے برطانوی بحریہ اور فضائیہ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا، ایم آئی 6 مخالف گروہوں کی فہرست میں شامل

ایران نے برطانوی بحریہ اور فضائیہ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا، ایم آئی 6 مخالف گروہوں کی فہرست میں شامل

تہران(ڈیلی اردو) ایران نے برطانیہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اس کی رائل نیوی اور رائل ایئر فورس کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیتے ہوئے برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی 6 کو بھی مخالف گروہوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے اتوار یکم نومبر کو جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدامات سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی قرارداد اور جوابی کارروائی سے متعلق ایرانی قانون کے تحت کیے گئے ہیں۔ تہران کے مطابق یہ فیصلہ برطانوی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف اقدامات، امریکہ اور اسرائیل کو فوجی و لاجسٹک سہولتیں فراہم کرنے اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے 13 جولائی 2026 کو اپنے اسٹیٹ تھریٹس ایکٹ کے تحت پاسدارانِ انقلاب کو ہدف بنانے کے لیے قانونی اقدامات کیے تھے، جسے تہران نے اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے خلاف اقدام قرار دیا۔ ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ برطانوی فوجی اڈوں اور دیگر سہولتوں کو امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے دینا بھی اس فیصلے کی ایک وجہ ہے۔

بیان کے مطابق ایم آئی 6 کو ایران کے قانونِ انسدادِ جاسوسی کے تحت مخالف گروہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ برطانوی بحریہ اور فضائیہ پر ایران کا جوابی کارروائی سے متعلق قانون لاگو کرتے ہوئے انہیں دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کے تحفظ اور باہمی جوابی کارروائی کے اصول کے تحت کیے گئے ہیں اور ان کے نتائج کی ذمہ داری برطانوی حکومت پر عائد ہوگی۔

ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو اور امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کا یہ اعلان تہران اور لندن کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ رپورٹوں میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ایم آئی 6 کو مخالف گروہ قرار دینے سے ایران میں اس ادارے کے لیے کام کرنے کے الزام کا سامنا کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ نے جولائی میں پاسدارانِ انقلاب کے خلاف قانونی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لندن نے اس اقدام کی وجہ برطانیہ میں ایران سے منسلک مبینہ خطرات اور حملوں کی منصوبہ بندی کو قرار دیا تھا، جبکہ تہران برطانوی الزامات اور اقدامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

ایران کے حالیہ اعلان پر برطانوی حکومت کی جانب سے ردِعمل اور اس فیصلے کے عملی اثرات سے متعلق مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C