07/November/2026

امریکہ کا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات پر 2 کروڑ ڈالر انعام کا اعلان

👁️ 37 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ کا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات پر 2 کروڑ ڈالر انعام کا اعلان

امریکہ کا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات پر 2 کروڑ ڈالر انعام کا اعلان

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کرنے والے افراد کے لیے 2 کروڑ ڈالر تک انعام اور ممکنہ طور پر محفوظ مقام پر منتقلی کی سہولت دینے کا اعلان کردیا ہے۔ امریکی پیشکش میں جوہری تنصیبات، آلات، پروگرام سے وابستہ اہلکاروں، سائنس دانوں اور ان سے متعلقہ سرگرمیوں کی معلومات شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے پروگرام ’’ریوارڈز فار جسٹس‘‘ کے تحت جاری بیان کے مطابق مطلوبہ معلومات میں ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک تنصیبات اور مشینری کے علاوہ اس شعبے میں کام کرنے والے سائنس دانوں اور دیگر افراد کی شناخت، نقل و حرکت اور متعلقہ سرگرمیوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مستند معلومات فراہم کرنے والوں کو 2 کروڑ ڈالر تک انعام دیا جاسکتا ہے، جبکہ ضرورت کے مطابق انہیں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے انتظامات بھی کیے جاسکتے ہیں۔

امریکی حکومت نے اپنے اعلان میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی 2025 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا تھا، جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار تقریباً 90 فیصد افزودگی کی سطح سے تکنیکی اعتبار سے زیادہ دور نہیں۔ امریکی مؤقف کے مطابق ایران دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جو جوہری ہتھیار نہ رکھنے کے باوجود یورینیم کو اس بلند سطح تک افزودہ کر رہا تھا۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق 13 جون 2025 تک ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کا ذخیرہ تقریباً 440.9 کلوگرام تھا۔ ایجنسی نے خبردار کیا تھا کہ اس مواد کو مزید افزودہ کرنے کی صورت میں اس کی مقدار کئی جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے کافی ہوسکتی ہے۔ تاہم افزودہ یورینیم کی موجودگی بذات خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ ایران نے جوہری ہتھیار تیار کرلیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو متاثرہ مراکز تک رسائی اور نگرانی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ معائنہ نہ ہونے کے باعث وہ ایران کے موجودہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی مقدار، اس کے مقام اور جوہری سرگرمیوں کی تازہ ترین صورت حال کی مکمل تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے علاوہ سینٹری فیوجز کی تیاری اور ذخیرے سے متعلق معلومات کی مسلسل نگرانی بھی متاثر ہوئی ہے۔

امریکی انعامی اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی اور جوہری تنازع کے حل کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو جوہری مذاکرات سے متعلق ایک تجویز بھی بھیجی ہے، تاہم تہران نے مذاکرات کے آغاز کو اپنی شرائط کی منظوری سے مشروط کیا ہے۔ ان مطالبات میں امریکی پابندیوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی اور جنگی نقصانات کا ازالہ بھی شامل ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کا جوہری پروگرام تباہ کردیا گیا ہے، تاہم خفیہ معلومات کے حصول کے لیے کروڑوں ڈالر کے انعام کا اعلان اس معاملے میں واشنگٹن کی جانب سے مزید معلومات حاصل کرنے کی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر اختلافات، افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی کا معاملہ خطے میں جاری کشیدگی کے اہم اسباب میں شامل ہے۔ تازہ امریکی اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے باوجود واشنگٹن ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے اور ان کی نگرانی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے ہوئے ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C