01/November/2026

حوثی حملوں کے بعد ریاض ایئرپورٹ کی 94 فیصد پروازیں منسوخ، سعودی فضائی آپریشن شدید متاثر

👁️ 54 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حوثی حملوں کے بعد ریاض ایئرپورٹ کی 94 فیصد پروازیں منسوخ، سعودی فضائی آپریشن شدید متاثر

حوثی حملوں کے بعد ریاض ایئرپورٹ کی 94 فیصد پروازیں منسوخ، سعودی فضائی آپریشن شدید متاثر

ریاض(ڈیلی اردو) یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اکتوبر کے دوران روانہ ہونے والی تقریباً 94 فیصد پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جس کے باعث سعودی عرب کی فضائی آمدورفت اور خطے کی ہوابازی کی صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق 10 سے 27 اکتوبر کے درمیان ریاض ایئرپورٹ سے روانگی کے لیے مقرر کردہ 4 ہزار 345 پروازوں میں سے تقریباً 94 فیصد منسوخ ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار فضائی سفر کے تجزیے سے وابستہ ادارے سیریم کے فراہم کردہ ڈیٹا پر مبنی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر کو ہونے والا حملہ اس سلسلے کا سب سے مہلک واقعہ تھا، جس میں 12 سے زائد افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد حکام نے ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن معطل کر دیا۔ سعودی حکام کے مطابق اس کے بعد بھی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آئے، جس کے نتیجے میں پروازوں کی بحالی میں تاخیر ہوئی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 8 سے 25 اکتوبر کے دوران ریاض ایئرپورٹ کی 4 ہزار 736 مقررہ پروازوں میں سے 4 ہزار 71 منسوخ ہوئیں، جبکہ سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں سے مجموعی طور پر 7 ہزار 800 سے زیادہ پروازیں منسوخ کی گئیں۔ دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی تقریباً 42 فیصد پروازیں متاثر ہوئیں، جبکہ ابہا ایئرپورٹ پر منسوخی کی شرح 46.7 فیصد رہی۔

بلومبرگ کے مطابق فضائی بحران کا اثر صرف سعودی عرب تک محدود نہیں رہا۔ رواں سال یکم فروری سے 27 اکتوبر تک ریاض، دبئی اور دوحہ کے تین بڑے ہوائی اڈوں پر مجموعی طور پر 26 ہزار 561 پروازیں منسوخ ہوئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ ہیں۔ ان ہوائی اڈوں سے طے شدہ پروازوں کی مجموعی تعداد میں بھی تقریباً 21 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

حملوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے ریاض کے لیے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دی ہیں۔ بعض ایئرلائنز نے نومبر تک پروازوں کی بندش میں توسیع کی ہے، جبکہ سعودی عرب کی نئی فضائی کمپنی ریاض ایئر نے بھی اپنے بعض آپریشنز دوسرے ہوائی اڈے منتقل کیے ہیں۔

حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ ان حملوں کے باعث خطے میں فضائی سفر، تجارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی آمدورفت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C