03/November/2026

ایران میں احتجاجی مظاہروں سے منسلک مقدمے میں مزید 2 افراد کو پھانسی، ہلاکتوں کی تعداد 9 ہوگئی

👁️ 52 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران میں احتجاجی مظاہروں سے منسلک مقدمے میں مزید 2 افراد کو پھانسی، ہلاکتوں کی تعداد 9 ہوگئی

ایران میں احتجاجی مظاہروں سے منسلک مقدمے میں مزید 2 افراد کو پھانسی، ہلاکتوں کی تعداد 9 ہوگئی

اصفہان (ڈیلی اردو) ایران میں رواں سال جنوری کے احتجاجی مظاہروں سے متعلق مقدمے میں مزید دو افراد کو پھانسی دے دی گئی، جس کے بعد اس کیس میں سزائے موت پانے والے افراد میں سے اب تک پھانسی پر لٹکائے جانے والوں کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے دونوں افراد کے خلاف عدالتی کارروائی اور مبینہ تشدد کے ذریعے اعترافی بیانات حاصل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی عدلیہ کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق امیر حسین ملکی اور امیر حسین ابراہیمی کو منگل 3 نومبر کی صبح پھانسی دی گئی۔ ایرانی حکام نے دونوں کو 8 جنوری 2026 کو شہر اصفہان کے علی خانی اسکوائر میں ہونے والے احتجاجی واقعات کے دوران چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث قرار دیا تھا۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق دونوں افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی، جسے سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ حکام کا الزام تھا کہ ملزمان احتجاج کے دوران مسلح کارروائیوں اور تشدد میں شریک تھے۔ ان پر محاربہ اور فساد فی الارض سمیت سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاو کے مطابق دونوں افراد کو اصفہان کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی اور ان کے اہل خانہ کو آخری ملاقات کے لیے پیر کے روز جیل بلایا گیا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں مجموعی طور پر 12 افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی، جن میں سے اب تک 9 افراد کی سزاؤں پر عمل درآمد ہوچکا ہے۔

دوسری جانب ایران ہیومن رائٹس نے الزام عائد کیا ہے کہ مقدمے کی کارروائی کے دوران ملزمان کو منصفانہ عدالتی دفاع کے بنیادی حقوق حاصل نہیں تھے اور ان سے تشدد کے ذریعے اعترافی بیانات حاصل کیے گئے۔ تنظیم کے مطابق مقدمے میں مزید تین افراد کو پھانسی کا خطرہ لاحق ہے، جبکہ اس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ باقی ملزمان کی سزاؤں پر عمل درآمد روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے حوالے سے دونوں افراد کی پھانسی کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ نے ستمبر 2026 کی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران میں جنوری کے احتجاجی مظاہروں سے متعلق مقدمات میں متعدد افراد کو سزائے موت دی جاچکی ہے۔ تنظیم نے ان مقدمات میں غیر منصفانہ عدالتی کارروائیوں اور تشدد کے الزامات پر تشویش ظاہر کی تھی۔

ایران میں احتجاجی مظاہروں سے منسلک مقدمات میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے واقعات نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔ حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملزمان کو آزادانہ قانونی معاونت اور شفاف عدالتی کارروائی کی فراہمی یقینی بنائے بغیر سزاؤں پر عمل درآمد بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C