03/November/2026

ایران کا جنوبی ساحل پر دو امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی میں اضافہ

👁️ 57 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کا جنوبی ساحل پر دو امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی میں اضافہ

ایران کا جنوبی ساحل پر دو امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی میں اضافہ


تہران (ڈیلی اردو) ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے جنوبی صوبے ہرمزگان کے ساحلی شہر بندر خمیر کے اوپر دو امریکی ڈرونز کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا ہے۔ یہ پیش رفت امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے اطراف بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے صوبائی شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دونوں ڈرونز کو امام سجاد کور کے فضائی دفاعی یونٹوں نے ایران کے مربوط فضائی دفاعی نظام کے تحت کارروائی کرتے ہوئے مار گرایا۔ ایرانی حکام نے ڈرونز کی شناخت امریکی ساختہ ایل یو سی اے ایس (LUCAS) ڈرونز کے طور پر کی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق ایرانی بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈرونز کی نشاندہی، نگرانی اور تباہی فضائی دفاعی یونٹوں نے انجام دی۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ڈرونز مار گرائے جانے کی آزادانہ تصدیق ہوسکی ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاسدارانِ انقلاب نے اس سے قبل جزیرہ قشم کے جنوب میں دو امریکی ایم کیو ایم 170 جاسوس ڈرونز کو الیکٹرانک جنگی نظام کے ذریعے ناکارہ بنانے یا قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایرانی بیان کے مطابق اس نوعیت کے ڈرونز کی تعداد چار ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں ایک امریکی ایم کیو 9 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس سے قبل امریکہ نے جزیرہ قشم کے قریب ایرانی فوجی اہداف پر محدود حملے کیے تھے۔ امریکی حکام نے ان کارروائیوں کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی فورسز کی جانب سے امریکی فوجی اثاثوں کو طیارہ شکن میزائلوں سے نشانہ بنانے کے خطرے کے پیش نظر کارروائی کی گئی۔ واشنگٹن نے ان حملوں کو بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کی بحالی قرار نہیں دیا۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔ اس علاقے میں امریکی اور ایرانی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث تجارتی جہازرانی اور توانائی کی عالمی منڈیوں کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

تاہم بندر خمیر میں دو ڈرونز کی تباہی سے متعلق ایرانی دعوے کی امریکی تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے واقعے کی مکمل تفصیلات اور ڈرونز کی اصل حالت تاحال غیر واضح ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C