جنگل۔۔۔۔! (میر افضل خان طوری)

ہزاروں سال پہلے انسان بھی جنگلوں میں زندگی بسر کرتا تھا۔ انکی خوراک اور پوشاک بلکل جانوروں کی طرح تھی۔ شیر یا چیتے انسان کو بڑے مزے سے اپنی خوراک کا حصہ بناتے تھے۔ اس وقت انسان کو یہ معلوم نہ تھا کہ جنگل کے علاوہ میدانوں میں بھی زندگی بسر کی جا سکتی ہے ہے۔ وہاں بھی انکے لیے خوراک کے ذرائع میسر ہو سکتے ہیں۔

انسان نے جب اپنی دفاع کیلئے غاروں کا رخ کیا اور جانوروں سے اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے کوششوں کا آغاز کیا تو اس نے اپنے ہاتھوں سے کام لینا شروع کیا۔ اپنے ہاتھوں سے اس نے ایسے ایسے اوزار بنا ڈالے کہ اب وہ جانوروں سے با آسانی اپنی حفاظت کر سکتا تھا اور اپنے لیے خوراک پیدا کرنے کے ذرائع بھی ڈھونڈ سکتا تھا۔
جانوروں کے زندہ رہنے اور خوراک پیدا کرنے کیلئے جنگلوں میں مخصوص مقامات اور حدود ہیں۔اونچے پہاڑوں پر رہنے والے جانور اپنے حدود سے باہر آکر پہاڑوں کے نیچھلے حصوں میں آباد نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح میدانی علاقوں کے جانور پہاڑوں کا رخ نہیں کر سکتے۔ نا خشکی میں رہنے والے جانور سمندروں میں آباد ہوسکتے ہیں اور نہ ہی سمندروں میں رہنے والے جانور خشکی پر آباد ہوسکتے ہیں۔ بعض محقیقین کے مطابق اگر آباد ہوتے بھی ہیں تو انکو اس عمل کیلئے ہزاروں سال درکار ہونگے۔

اسی طرح دینا کے تمام جانور دنیا میں ایک نظر نا آنے والی پٹی میں مقید ہوتے ہیں۔ انسان کی عظمت یہ ہے کہ اس نے جنگل کے تمام قوانین توڑ ڈالے۔ انسان نے جنگل سے باہر دیکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ نتائج کی پروا کئے بغیر ایسے علاقوں کا رخ کیا جہاں جنگل جیسی سہولیات میسر ہی نہ تھیں۔ اب انسان نے ہاتھوں کو آزاد کر کے صرف اپنے دو پاوں پر چلنا سیکھ لیا۔ انسان نے اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہوئے ایسے ایسے اوزار بنا ڈالے کہ جنکی مدد سے وہ نا صرف خطروں سے اپنا دفاع کر سکتا تھا بلکہ اپنے لئے زرق کے نئے ذرائع بھی تلاش کر سکتا تھا۔

اس طرح انسان نے ان علاقوں میں بھی نہریں اور کوویں بنائیں جہاں جنگل جیسا پانی میسر ہی نہیں تھا۔ انسان نے کاشتکاری ان علاقوں میں بھی کی جہاں دور دور تک کاشتکاری اور پانی کا نام ونشان تک نہ تھا۔انسان نے اپنے ہاتھوں سے وہ گھر بنائیں جو پہلے انکے لیے کبھی ممکن ہی نہ تھیں۔
باقی تمام جانور آج بھی اسی فطرت کے مطابق رہتے ہیں۔ کسی جانور نے اپنے رہن سہن اور خوراک میں آج تک کوئی خاص تبدیلی نہ کی مگر انسان ہمیشہ فطرت کو اپنے مطابق تبدیل کرتا رہا۔ انسان نے اپنی محنت اور کوشش سے تمام ناممکنات کو ممکنات میں تبدیل کیا۔

آج انسان نے ہاتھوں سے کہیں زیادہ اپنے دماغ کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ دماغ کی بے انتہا طاقت سے آج انسان قوانین دنیا کو توڑ کر خلا میں داخل ہوچکا ہے۔ چاند اور دوسرے سیاروں پر جانا اب انسان کیلئے ناممکن نہیں رہا۔ انسان نے اپنی سوچ کے ذریعے ہر ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے۔

انسان نے بنجر زمینوں کو نیویارک، لندن، پیرس، اسلام آباد اور دبئی میں تبدیل کر دیا ہے۔ مگر اسکے لئے انسان کو مسلسل جدوجہد اور کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔

آجکل دنیا کی طاقت کا انحصار ہاتھوں پر کم دماغ پر زیادہ ہے۔ جس کے پاس جتنا علم اور ٹیکنالوجی ہے وہ اتنا ہی زیادہ پاور فل ہے۔
آجکل تعداد کی بجائے استعداد کی زیادہ ضرورت ہے۔ آبادی زیادہ ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ آبادی کا تعلیم یافتہ ہونا بڑی بات ہوتی ہے۔
انسان آج دماغ کی طاقت سے بھی آگے کی منازل طے کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ انسان آج سوچ کو کنٹرول کرنے اور اسکو خاص ڈائریکشن پر ڈانے پر مسلسل تحقیق کر ہا ہے۔ انسان سوچنے کے جدید طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے ترقی پر گامزن ہے۔ انسان اس طاقت کی تلاش میں ہے جو انسانی دماغ پر بھی تصرف رکھتا ہے۔

بقول حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام
“جس انسان نے اپنی قدر و قیمت نہیں جانی وہ ہلاک ہوگیا”

یہ انسان قدرت کی بہت بڑی ، عظیم اور قیمتی شاہکار ہے کیونکہ قدررت نے اس کے نفس کو اپنی پہچان کا وسیلہ قرار دیا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ(الحج 46)

کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے اور کان سننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں آندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں ؟
قرآن مجید بار بار انسان کی توجہ زمین کی سیر کرنے اور تحقیق کرنے پر مبذول کروا رہا ہے۔ انسان کی عقل تب کمال حاصل کر لیتا ہے جب وہ معلوم حقیقتوں کی مدد سے نامعلوم حقیقتوں سے رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ اسی طرح انسان دنیاوی چیلنجز کے بنا پر اپنے اندر کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو دریافت کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے  اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں