جذبہ آزادی اور بھارتی تسلط! (آصف اقبال انصاری)

ظلم کی حیات نہیں ہوتی، دنیا تاریخ میں بڑے بڑے ظالم گزرے ہیں۔ بڑے بڑے دعوؤں اور دھمکیوں سے لبریز، جو اپنی بھوک، انسانی روح، اور پیاس، انسانی خون سے بجھایا کرتے تھے۔ مگر یہ بھی سنا ہوگا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ اور جب یہ لاٹھی چل جاتی ہے تو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملتا۔ کبھی سوچا کہ ان ظالموں کو آج دنیا کس نام سے یاد کرتی ہے۔۔۔۔؟؟ کسی کو قاتل، تو کسی کو ظالم ،کسی کو جابر ، کسی کو مردود تو کسی کو ملعون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ القابات ہیں جو دنیا میں ہی ان سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ گویا ظلم کی پکڑ دنیا سے ہی شروع ہوجاتی ہے اور آخرت!! تو خدا جانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر بھی آج کل چنگیز اور ہلاکو خان کی تاریخ زندہ کرنے میں مصروف عمل ہے۔ مذہبی تعصب سے بھرا یہ شخص ،گجرات میں مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولیاں کھیلنے کے بعد اب کشمیر میں مسلمانوں سے حق آزادی چھین کر، ان کی نسل کشی کے عزائم لیے پھر رہا ہے۔ کشمیر میں کئی عرصے سے جاری یہ طویل جدو جہد اور بھارت کی جانب سے ظلم اور بربریت کی جو داستان رقم کی جارہی ہے، اس سفاکیت نے دنیا کے سامنے بھارت اور مودی کا اصلی چہرہ سامنے کردیا ہے۔

ایک طرف مسلح افواج اور دوسری طرف نہتے عوام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کیسا مقابلہ؟ یہ کیسی حکمت عملی؟یہ کیسا منصوبہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر بھارت کو متنازعہ زمین سے اتنی ہی محبت اور لگاؤ ہے تو کئی دنوں سے جاری یہ کرفیو اور مواصلاتی رابطے کا انقطاع کیا معنی رکھتا ہے؟؟ کیوں عوام کو آزاد چھوڑنے کی ہمت نہیں ہورہی۔ کیوں ان کا سوشل بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔ ذرا چھوڑ کر دیکھو!! پھر تم بھی دیکھو اور دنیا بھی دیکھے ،کہ اس ٹکڑے کا اصل حقدار کون ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ جان کا خوف ہے۔ تو یاد رہے!! آزادی صرف اسی کا حق ہے جس کے حصول کے لیے جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔

کشمیر میں حالیہ ظلم اور سفاکیت کا جو سلسلہ تاحال جاری ہے۔ جس نے کئی ماؤں کے گود اجاڑ دیے، جس نے کئی بہنوں گا سہاگن چھین لیا۔جس نے کئی بچوں کو یتیمی کی گود میں پھینک دیا۔ اور صرف یہی نہیں بھارتی درندوں نے ماؤں، بہنوں کی عزت دردی اور ان کی آبرو ریزی سے کھیلنے کا گھناؤنا کھیل بھی شروع کر رکھا ہے۔ حالیہ رپورٹ اور سوشل میڈیا میں وائرل ویڈیوز کے مطابق نوجوانوں کو کرنٹ لگانے جیسے دردناک تکلیف سے بھی دوچار کیا جارہا ہے۔

ان سب درندگی کے باوجود کشمیری عوام میں جذبہ آزادی لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی ہے۔ اس ظلم اور جارحیت نے تو ان کے دلوں سے جان کا خوف تک ختم کردیا ہے۔ اور جب کوئی قوم مقصد پر جان دینے کے لیے تیار ہوجاتی ہے تو مقصد کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہیں رہتی۔ ظلم آخر ظلم ہوتا ہے اور اسے ختم ہونا ہے۔ ان شاءاللہ کشمیروں کا بہتا خون بالآخر ان کی آزادی کی راہ ہموار کرے گا۔ اور کافروں کا ظلم، دنیا و آخرت میں تاریکی کی صورت میں ظاہر ہوگا کیوں کہ فرمان نبوی ہے: ” ظلم قیامت کے روز اندھیرے کی صورت میں ہوگا”۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں