132

گلگت الیکشن 2020 کا ٹاکرا (راجہ حسین راجوا)

صدر پاکستان جناب ڈاکٹر عارف علوی نے گلگت بلتستان الیکشن 2020 کا عبوری منظوری دے چکے ہیں، صدر پاکستان صاحب داد کے مستحق ہیں کیونکہ بروقت الیکشن کا انعقاد بہت ضروری ہے کیونکہ عوامی منتخب نمائندے ہی عوام کی فلاح کیلے کام کر سکتے ہیں۔ میری کیلکولیشن کے مطابق 18 اگست کو الیکشن کروانا کافی مشکل دکھائی دے رہا ہے، خیر نگراں سیٹ اپ آچکا ہے اب میدان سجنے والا ہے کھیل شروع ہونے کو ہے سیاستدانوں کی رسہ کشی شروع ہونے کو ہے، ہمیشہ کھیل وہی ٹیم جیتی ہے جو تیاری کیساتھ اچھے کھلاڑیوں کو لے کر میدان میں اترتی ہے، اب تمام پارٹیوں کو کھلاڑیوں کی سلیکشن میں پوری احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ہر پارٹی چاہیگی کہ انکی ٹیم اچھے نمبرز کیساتھ میدان مارے۔ الیکشن کا ماحول بن چکا ہے جگہ جگہ کارنر میٹنگز اور شمولیتی جلسوں کا آغاز ہو چکا ہے، عوام کو ہر قسم کے سبز باغ دکھانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ زمینی حقائق کا جائزہ لے کر اگر تجزیہ کریں تو پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی وفاق میں حکومت ہے اسلیے وفاق پرستوں کا جھکاؤ تحریک انصاف کی طرف ہوگا کیونکہ وہ مفاد کیلے ووٹ دیتے ہیں 2015 کے جنرل الیکشن میں کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ مسلم لیگ ن اتنی بھاری اکثریت سے سیٹیں نکالے گی وفاق میں حکومت ہونے کیوجہ سے وفاق پرستوں نے انکو ووٹ دے کر کامیاب کیا۔ پاکستان تحریک انصاف پاکستان مسلم لیگ ن کے مقابلے اس خطے میں ذیادہ مقبول جماعت ہے اور بہت سارے لوگ عمران خان کو ذاتی طور پہ پسند بھی کرتے ہیں۔ گلگت کی یوتھ اسوقت بڑی تعداد میں تحریک انصاف کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کو جیتانے میں انکا کلیدی کردار ہوگا کیونکہ عمران خان آج اگر وزیراعظم پاکستان ہیں تو اسی یوتھ کیوجہ سے ہیں، جوق در جوق لوگ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں جو انکی کامیابی کیلے نیگ شکون ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا کمان اس میدان کے پرانے کھلاڑی جعفر شاہ کے ہاتھ میں ہے شاہ صاحب ہمیشہ اصولی سیاست کرتے ہیں گلگت بلتستان کی تمام پارٹیوں میں وہ اپنا اثر رسوخ رکھتے ہیں امکان ہے بڑے بڑے سیاستدانوں کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کروائینگے انھوں نے ایک تقریر میں کہا بہت سارے لیڈرز میرے ساتھ رابطے میں ہیں بہت جلد بڑے بڑے برج الٹنے والے ہیں دعوے تو بہت بڑے کر رہے ہیں یہ وقت بتائیگا کہ یہ دعوے کس حد سچ ثابت ہوتے ہیں ایک بات تو طے ہے پاکستان تحریک انصاف کیلے ماحول بن رہا ہے۔

دوسری طرف اگر پاکستان پیپلز پارٹی کی بات کریں تو وہ بھی بہت مضبوط دکھائی دے رہی ہے وہ جو نعرہ لے کر آۓ ہیں وہ یہاں کے عوام کی دل کی آواز ہے حق حاکمیت سے دستبرار ہوچکے ہیں اب صرف حق ملکیت کے نعرے کو لے کر میدان میں آئینگے اس سلسلے میں، میں پہلے حق حاکمیت اور حق ملکیت کے نام سے ایک کالم تحریر کرچکا ہوں امجد ایڈوکیٹ نے انٹرویو کے دوران کہا کہ اب ہم لوگوں کو حق حاکمیت کے نام پہ دھوکے میں نہیں رکھ سکتے ہیں آڈر 2020 کے ذریعے ہم سے حق حاکمیت چھینا گیا ہے اب ہم حق ملکیت کیلے آخری حد تک جائینگے۔ اس انٹرویو کے دوران وہ مجھے پیپلز پارٹی کے صدر کم قوم پرست ذیادہ لگ رہے تھے انکی یہ ادا مجھے بہت پسند آگئی۔ یہ تو ہم سب کے دل کی آواز ہے اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کا اس خطے کیلے بہت ساری خدمات ہیں ایک بزرگ جیالا سے میری بات ہوئی میں نے ان سے پوچھا چچا اس عمر میں اپنے خدا کو یاد کریں آپ ضعیف ہیں آپ کیوں پیپلز پارٹی کو لے کے بیٹھے ہیں اس نے آپ کو کیا دیا ہے تو اس بزرگ کا جواب بہت دلچسپ تھا بیٹا آپ نے وہ دور نہیں دیکھا ہے جب ہم میلوں سفر کرکے اس دور کے بادشاہ کو مالیہ دینے جاتے تھے اس میں تھوڑا بھی مقدار کی کمی ہوتی تھی تو ہمیں واپس بھیجا جاتا تھا اور ہم پہ ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاۓ جاتے تھے ذوالفقار علی بھٹو نے ہمیں ان ظالم و جابر حکمرانوں سے آذادی دلائی ہے میں اسے اپنا فریضہ سمجھ کر انجام دیتا ہوں اب آپ خود سوچیں کہ یہاں بزرگ بھی اسطرح کا ٹھوس موقف رکھتے ہیں۔ اس پارٹی کےاور بھی بے شمار خدمات ہیں اسلیے یہاں کے لوگ اسے دل و جان سے چاہتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں کسی پارٹی کے اگر نظریاتی کارکن موجود ہیں تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ہیں۔

گلگت بلتستان میں دوسری پارٹیاں بھی کافی اثر رسوخ رکھتی ہیں بالخصوص مذہبی پارٹیوں نے بھی یہاں دوسری پارٹیوں کو ٹف ٹائم دیا ہے۔ مسلم لیگ ن بھی کچھ سیٹیں نکالے گی لیکن اسوقت مسلم ن کافی مشکل میں ہے انکے سابق جی بی بی اسمبلی ممبرز یا تو پاکستان تحریک انصاف میں جانا چاہ رہے ہیں یا آذاد لڑنے کی بات کرتے ہیں کوئی بھی مسلم لیگ ن کی ٹکٹ سے لڑنے کیلے تیار نہیں اسلیے انکو اپنے امیدوار اتارنے میں کافی دشواری ہوگی۔ اس میں کوئی شک نہیں مسلم لیگ ن کے دور میں کافی ترقیاتی کام ہوچکے ہیں حفیظ سرکار پہ الزامات اپنی جگہ انھوں نے پانچ سال بڑے شاندار طریقے سے گزارے ہیں لیکن بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ انکی ٹیم ان سے بے وفائی کرے گی خیر یہ ہمارا ذاتی تجزیہ ہے زمینی حقائق کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی جس کے کپتان امجد ایڈوکیٹ ہیں اور پاکستان تحریک انصاف جس کے کپتان جعفر شاہ صاحب ہیں دونوں تگڑے سیاستدان ہیں دونوں کے بیچ سخت مقابلہ ہونے والا ہے لیکن میچ وہی جیتے گا جو اپنے اعصاب پر قابو رکھ کر بروقت اور صیح فیصلے کریگا۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں