118

قربانی اور شرعی حکم (ساجد خان)

عید الاضحیٰ کی آمد آمد ہے اور ہر طرف قربانی کے جانوروں کا چرچا ہے جبکہ مہنگائی بھی اپنے عروج پر ہے۔

قربانی کرنا بیشک باعث ثواب ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ہر اس عمل کو کہ جس میں دولت خرچ ہوتی ہے اسے صرف مستحب کا درجہ دیا ہے کیونکہ اس دنیا میں ثواب کے کام کرنے کی خواہش تو سب کو ہوتی ہے مگر اس عمل کو انجام لانے کی استطاعت ہر ایک کی نہیں ہوتی۔
اس لئے جن کاموں میں مال و دولت صرف ہوتی ہے وہ صرف دولتمند افراد ہی کے لئے واجب قرار دیئے گئے ہیں۔ جیسا کہ خمس یا زکوٰۃ ادا کرنا،حج کرنا،یہ سب ان کے لئے واجب ہیں جو صاحب حیثیت ہیں۔

اسی طرح قربانی کرنا بھی صرف ان افراد کے لئے واجب قرار پائی جو کہ حج کرنے کی حیثیت رکھتے ہوئے،حج ادا کر رہے ہوں کیونکہ ان کے پاس ذاتی اخراجات سے اتنا وافر پیسہ بچ گیا ہے کہ وہ حج ادا کرنے کے قابل ہوئے۔

جو مسلمان حج ادا نہیں کرتے،ان کے لئے قربانی کرنا واجب نہیں ہے بلکہ مستحب قرار دیا گیا ہے یعنی کہ اگر آپ قربانی کریں گے تو آپ کو ثواب حاصل ہو گا لیکن اگر آپ قربانی نہیں کرتے تو آپ کو اس کا کوئی گناہ بھی نہیں ہو گا۔
ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ ہم نے قربانی کو status symbol بنا دیا اور ہم نے خود کو نیک اور امیر ثابت کرنے کی دوڑ میں اس عمل میں دکھاوے کو شامل کر لیا۔
آج ہم اس حد تک آگے بڑھ گئے ہیں کہ خود تو بے جا لاکھوں روپے خرچ کرتے ہی ہیں،ساتھ میں دوسروں کو بھی ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

کیا تم نے قربانی کا جانور خرید لیا؟
یہ جانور کتنے کا خریدا ہے؟
کتنے جانوروں کی قربانی کر رہے ہو؟
جانور زیادہ چھوٹا نہیں ہے؟

یہ وہ سوال ہیں جو ہم نے دوسروں سے پوچھنا واجب سمجھ لیا ہے اور انہی سوالات کی بوچھاڑ سے بچنے کے لئے بہت سے سفید پوش خاندان قرض لے کر قربانی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ بیٹے کے سسرالی کیا کہیں گے، بیٹی کو طعنے ملیں گے۔

ان مسائل کی وجہ سے ہر انسان دکھاوا کرنے کو ترجیح دیتا ہے تاکہ معاشرے میں اس کا احترام بحال رہے اور پھر سارا سال وہی قرض اتارنے کی جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔

یہ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین تو نہیں ہے،اس نے ہر انسان کو اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا تھا مگر اس کے نام نہاد بندوں نے دوسروں ک جینا مشکل کر دیا۔

ہمیں اس معاملے پر آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس مستحب عمل پر خواہ مخواہ میں پیسہ ضائع کیا جاتا ہے۔
یہ نہیں کہ قربانی کرنے پر پیسہ ضائع ہوتا ہے بلکہ عام دنوں میں جو جانور بیس ہزار روپے کا ملتا ہے وہی جانور عید الاضحیٰ کے موقع پر ایک لاکھ تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ قیمت بھی معمولی ہے کیونکہ دس لاکھ روپے سے تیس لاکھ روپے تک کے جانور فروخت کئے جاتے ہیں اور یہ قربانی سوائے نمائش کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ دس لاکھ روپے خرچ کرنے کی حیثیت رکھنے والے افراد آدھی رقم قربانی پر خرچ کریں اور آدھی رقم اس طبقے کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں،جن کے لئے اسلام میں قربانی کرنے کا حکم دیا گیا؟

غریبوں کے نام پر ہونے والی قربانی کو ہم نے امیروں کا فیشن بنا کر رکھ دیا ہے،غریب ترستے رہتے ہیں جبکہ امیر ان کے نام پر بار بی کیو پارٹیاں کر کے مزے لوٹتے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے علماء کرام بھی اس معاملے پر آنکھیں بند کئے نظر آتے ہیں کیونکہ انہیں بھی کھال کا لالچ ہوتا ہے لہذا وہ بھی اس رنگ میں رنگ گئے ہیں کہ جتنی زیادہ جانور ذبح ہوں گے،اتنی ہی کھالیں ہمارے حصے میں آئیں گی۔

ہم اگر اور کچھ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم دوسروں سے قربانی کے معاملے پر سوالات کرنا چھوڑ دیں،جو قربانی نہیں کرتے ان پر تنقید کرنا چھوڑ دیں تو بھی ہمارا سفید پوش اور غریب مسلمان طبقے پر احسان ہی ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں