228

تعلیم یافتہ افراد کا تحفظ، ریاستی ذمہ داری (ساجد خان)

آج آپ کو سنانے کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ کوئٹہ کے مشہور نیورو سرجن ڈاکٹر ابراہیم خلیل گزشتہ ماہ باحفاظت گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔

انہیں 48 دن پہلے نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا تھا اور پانچ کروڑ روپے تاوان کے بدلے میں ان کو رہائی نصیب ہوئی۔

کوئٹہ میں ہونے والا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اور نا ہی آخری واقعہ ہے۔
پاکستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ عرصہ دراز سے ہمارے پڑھے لکھے طبقہ کو مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کبھی مذہبی بنیاد پر،کبھی مسلکی بنیاد پر،کبھی نسلی بنیاد پر تو کبھی طالبان اور داعش جیسی دہشتگرد تنظیمیں اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لئے ایسی کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔
علماء کرام،وکلاء،ڈاکٹرز اور اعلیٰ افسران ہمیشہ سے ہی دہشتگردوں کی پہلی ترجیح رہے ہیں۔
چند سال قبل بھی کوئٹہ میں نہایت اندوہناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب کوئٹہ بار کے صدر پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔
جنھیں فوری علاج کے لئے سول ہسپتال پہنچایا گیا۔
یہ خبر سنتے ہی کوئٹہ بھر کے وکلاء ہسپتال اکٹھا ہونا شروع ہو گۓ اور یوں اس ہجوم میں ایک خودکش حملہ آور نے حملہ کر دیا۔
جس کے نتیجہ میں نا صرف کوئٹہ شہر بلکہ بلوچستان کے وکلاء کی ایک نسل کو مار دیا گیا۔اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی یہی کچھ کیا گیا جہاں فرقہ واریت کی آگ نے اس شہر کا پڑھا لکھا طبقہ قبرستان کی زینت بنا دیا۔
کراچی کی مثال تو اس مسئلہ پر ایک جنگل سی ہے جہاں کبھی مذہبی و مسلکی بنیاد پر تو کبھی نسلی اور سیاسی بنیاد پر تعلیم یافتہ افراد کا قتل عام کیا گیا۔اگر آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں تو ایک چھوٹے سے اختلاف ہر آپ کو کسی وقت بھی گولیوں سے بھونا جا سکتا ہے۔
پنجاب گو کہ اس معاملہ میں دوسرے صوبوں سے قدرے بہتر رہا لیکن اسی کی دہائی میں شروع ہونے والی فرقہ وارانہ جنگ کے دوران اس صوبے نے بھی بہت سے پڑھے لکھے بیٹوں کی لاشیں گرتی دیکھی ہیں گو کہ مشرف دور میں یہ سلسہ قدرے رک گیا مگر 2012 میں لاہور میں ٹارگٹ کلنگ نے ایک دفعہ پھر یاد تازہ کر دی جب صرف دو سال میں ہی دو درجن کے قریب وکلاء اور ڈاکٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔
ان میں سے ایک شخص کا نام ڈاکٹر علی حیدر تھا جو آنکھوں کے ماہر معالج تھے۔انہیں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے بیٹے کو سکول چھوڑنے جا رہے تھے۔ڈاکٹر علی حیدر کے قتل کے بعد عالمی سطح پر شعبہ طب کی ایک لسٹ جاری ہوئی۔جس میں انہیں دنیا کے بہترین ڈاکٹرز میں شمار کیا گیا مگر افسوس کے وہ یہ اعزاز دیکھنے کے لئے اس دنیا میں نہیں تھے۔ایک دہشتگرد کا کسی کو قتل کرنا بہت آسان کام ہے۔چند ہزار روپے کا پستول،چند سو روپے کی گولیاں۔ایک موٹرسائیکل اور ایک ساتھی کے ساتھ نکل پڑے کسی کا گھر اجاڑنے۔اس دہشتگرد کی کتنی تعلیم ہو گی۔بمشکل دس جماعتیں پاس کی ہوں گی۔
ایک اغواء کار کو کیا معلوم کہ انسان کا دماغ جسم کے کس حصہ میں ہوتا ہے یا کیسے کام کرتا ہے لیکن اسے تو بس یہ معلوم ہے کہ نیورو سرجن کو اغواء کر کے کروڑوں روپے کمانے ہیں۔
ایک دہشتگرد کو کیا معلوم کہ آنکھ کا نظام کیسے چلتا ہے۔اسے تو بس اتنا معلوم ہے کہ وہ اس کے مسلکی عقائد سے مختلف ہے،اس لئے اس ماہر چشم کا قتل باعث ثواب ہے لیکن ایک نیورو سرجن یا دنیا کے بہترین آنکھوں کے معالج بننے کے لئے کتنی محنت کرنی پڑتی ہے۔
اس کا تصور ہم بالکل بھی نہیں کر سکتے اور اس برسوں کی محنت کو چند لمحوں میں خاک میں سلا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ نا ہی ڈاکٹر ابراہیم مذہبی،مسلکی یا نسلی بنیاد پر مریض سے کوئی فرق رکھتا تھا اور نا ہی ڈاکٹر علی حیدر۔وہ یہ نہیں دیکھتے تھے کہ اس کے دماغ میں اللہ کے لئے محبت ہے یا بھگوان کے لئے یا مریض حضرت عیسیٰ کو خدا کے بیٹے کی نظر سے دیکھتا ہے یا ایک نبی کی نظر سے۔ان کا کام تو بس اللہ پاک کی مخلوق کی خدمت کرنا تھا اور انہیں جسمانی تکالیف سے نجات دینا تھا۔اس کے عقائد دیکھ کر سزا جزا دینے کا اختیار تو اللہ کا ہے،جسے ایک دہشتگرد اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتا ہے۔
کسی قوم کے ہونہار سپوتوں کا نقصان صرف ایک شہر،مذہب یا نسل تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ پوری قوم کا ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔آپ خود اندازہ لگائیں کہ بائیس کروڑ کی آبادی میں کتنے ڈاکٹرز ہوں گے شاید چند ہزار۔
ان ڈاکٹرز میں سے نیورو سرجن اور ماہر چشم کتنے ہوں گے ؟
شاید کچھ سو۔
اب ان چند سو میں سے ڈاکٹر ابراہیم خلیل اور ڈاکٹر علی حیدر جیسے بہترین ڈاکٹرز کتنے ہوں گے ؟
شاید کہ کچھ درجن۔
اب ان چند درجن انمول افراد کے ساتھ بھی ہم یہ سلوک کریں تو کیا یہ ہمارے لئے باعث شرم نہیں ہے ؟

میں اکثر کہتا ہوں کہ ایک وقت تھا جب والدین دعائیں اور کوشش کرتے تھے کہ ان کا بیٹا بڑے ہو کر ڈاکٹر،انجینئر یا وکیل بنے۔جن کے بیٹے ان کی خواہش پوری نہ کر پاتے تھے،وہ افسوس کرتے تھے اور دوسروں کے ڈاکٹر،انجینئر بیٹوں کو دیکھ کر صدمہ سے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوں گے لیکن اب حالات یہ ہیں کہ والدین اپنے بچوں کو تلقین کرتے ہوں گے کہ بیٹا! خبردار جو ڈاکٹر،انجینئر یا وکیل بننے کی غلطی کی۔
تم زندگی میں زیادہ کامیاب نا ہوۓ تو کیا ہوا،کم از کم زندہ تو رہو گے۔بڑھاپے میں ہمیں تمھارا جنازہ اٹھانے کے غم سے تو نہیں گزرنا پڑے گا۔جن والدین نے اپنے بچوں کو ڈاکٹر اور وکیل بنایا تھا،وہ آج دوسروں کے بیٹوں کو دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھرتے ہوں گے کہ کاش ہم بھی اپنے بچوں کو ڈاکٹر اور وکیل بنانے کی غلطی نا کرتے تو آج وہ بھی ہمارے سامنے زندہ ہوتے۔
میں عموماً ہر معاملے پر بیرونی سازش کا غلاف چڑھانے کی کوشش نہیں کرتا لیکن نجانے کیوں مجھے اس معاملہ پر کہیں نہ کہیں بیرونی سازش محسوس ہوتی ہے جسے ہمارے معاشرے میں موجود چند فتنہ پرور طبقے کامیاب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔جس طرح طالبان خیبر پختونخواہ میں طلباء و طالبات کے اسکولوں کو دھماکے سے اڑا دیتے تھے۔
اسی طرح ہمارے تعلیم یافتہ طبقہ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔جس کا مقصد صرف یہی نظر آتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں شعور کو ختم کیا جا سکے۔ہماری نئی نسل ان پڑھ اور جاہل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ریاست اس ساری صورتحال سے بے خبر ہو گی یا اس کے لئے اقدامات نہیں کئے گۓ ہوں گے لیکن ظاہری طور پر ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
آج اگر بازیاب ہونے والے نیورو سرجن ڈاکٹر ابراہیم خلیل اپنے ملک سے مایوس ہو کر وطن سے چلے جائیں تو قصوروار کون ہو گا ؟
ہمارا پڑھا لکھا طبقہ مغرب کی طرف ہجرت کر رہا ہے۔
جس کی وجہ جہاں بہتر سہولیات کی خواہشات ہیں وہیں اس طبقہ کے ساتھ ایسا ناروا سلوک بھی ایک بنیادی وجہ ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ریاست ہر شخص کو انفرادی طور پر تحفظ فراہم نہیں کر سکتی مگر تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کو تو بہتر کر سکتی ہے۔
ان اداروں کو جدید ٹیکنالوجی دی جا سکتی ہے۔ان پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام لایا جا سکتا ہے۔وطن میں رہنے کے لئے صرف وطن سے محبت ہی کافی نہیں ہوتی کیونکہ اس سے نا ہی پیٹ بھرتا ہے اور نا ہی جان محفوظ رہتی ہے۔

حکومت پاکستان کو چاہئے کہ ہنگامی بنیادوں پر اس مسئلہ پر توجہ دے تاکہ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے اس ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔


نوٹ:کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں ۔ ادارے  اور اس کی پالیسی کاان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں