311

قبائلی مہاجرین کی زندگی اور سخت ترین سردیاں۔۔! (میر افضل خان طوری)

تمام باشعور محب وطن پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ان شدید سردیوں میں اورگزئی اور بکا خیل کیمپوں کا دورہ کیجئے۔ جب آپ وہاں پر عورتوں اور بچوں کے زندگی کو دیکھیں گے تو تب آپ کو احساس ہوگا کہ کس طرح انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ اس شدید سردی کی عالم میں بچے کیسے وہاں پر اپنی زندگی کے بھیانک دن کاٹنے پر مجبور ہیں۔

طالبان ان لوگوں نے نہیں بنائے تھے اور نہ ان لوگوں نے اسلحہ ان کو فراہم کیا تھا۔ ان پر طالبان اور مولویوں کو ریاست پاکستان نے مسلط کیا تھا۔ کیونکہ ملک بچانے کیلئے ایسا کرنا اشد ناگزیر تھا۔ اس بات کی ملک کو ضرورت تھی کہ پاکستان کو دشمنوں سے بچایا جائے۔ مگر اس گھناؤنے کھیل میں جس طرح سے قبائلی علاقوں کو تباہ و برباد کیا گیا اس کا آج تک کسی محب وطن پاکستانی نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔ کسی بھی محب وطن پاکستانی کو وہاں پر انسانی ہمدردی کے تحت جانے کا اتفاق تک نہیں ہوا اور نہ ہی کسی پاکستانی میڈیا چینل نے وہاں پر عوام کی بھیانک اور خوفناک زندگی کو رپورٹ کیا۔

میں ان غیور قبائلی مشران سے پوچھنا چاہتا ہوں (جنھوں نے آج تک صرف افسران بالا کے ہاں میں ہاں ملانے اور چمچہ گیری کرنے کے علاوہ کوئی اور کام سرانجام نہیں دیا) کہ کیا آپ نے کبھی پاکستانی حکمرانوں سے آئی ڈی پیز کے مسائل پر بات کی؟ کیا وہاں پر سب کچھ اچھا ہے؟ کیا آپ نے اپنے مسائل کیلئے حکومتی کارندوں کو کوئی ڈیڈ لائن دیا؟ کیا آپ نے کبھی کیمپوں میں رہنے والے قبائلی خواتین، بچوں اور بوڑھوں کی حالت کو دیکھا؟

اگر نہیں تم محب وطن نہیں بلکہ پاکستان دشمن بھی ہو عوام دشمن بھی ہو۔ تم سے بڑا غدار کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔

کیا قبائلی علاقے پاکستان کا حصہ نہیں تھے؟کیا قبائلی عوام پاکستانی نہیں تھے؟ اگر پاکستانی تھے اور ریاست انکو پاکستان سمجھتی تھی تو پھر پنجاب اور دیگر علاقوں میں اربوں روپے کی میٹرو ضروری تھی یا قبائلی بے گھر افراد کو دوبارہ اپنے گھروں میں آباد کرنا ضروری تھا؟
میں ساری پاکستانی میڈیا کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ قبائلی علاقوں میں قائم آئی ڈی پیز کیمپس کا وزٹ کیجئے۔ اگر آپ مسلمان ہیں۔ اگر آپ انسان ہیں تو پلیز ان علاقوں کے تمام بنیادی مسائل پر بغیر کسی خوف کے بات کیجئے۔

اگر پھر آپ کو وہاں کا وزٹ کرنے اور وہاں کے مسائل پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہے تو یاد رکھنا تم میں اور بغیرت انڈین میڈیا میں کوئی فرق بھی نہیں ہے۔


نوٹ:کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں ۔ ادارے  اور اس کی پالیسی کاان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں