273

با حجاب یا بے حجاب۔۔۔۔! (ساجد خان)

دنیا میں عموماً دو قسم کی سوچ کے افراد پاۓ جاتے ہیں۔
اول وہ جو مذہبی سوچ رکھتے ہیں اور دوم وہ جو آزاد خیال سمجھے جاتے ہیں،انہیں عام زبان میں لبرل کہا جاتا ہے۔
لبرل اس آزاد سوچ رکھنے والے طبقے کو کہا جاتا ہے جو زندگی میں کسی دوسرے کی مداخلت کو صحیح نہیں سمجھتے،ان کا ماننا ہے کہ یہ زندگی کیونکہ آپ کی ہے تو اسے جینے کا حق بھی صرف آپ کو ہی ہونا چاہئے۔

مذہبی سوچ اور آزاد سوچ میں بنیادی فرق یہی تھا کہ مذہبی سوچ کے حامل افراد اپنی پسند و ناپسند دوسروں پر تھونپنے کی کوشش کرتے تھے جبکہ لبرل ہر ایک کی آزاری کے قائل تھے۔

مذہبی سوچ رکھنے والے افراد کی کسی معاملہ پر تنقید کرنے کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کیونکہ وہ مخصوص عقائد پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور جو بات ان کے عقائد کے خلاف ہو اسے معیوب سمجھا جاتا ہے۔اس لئے وہ بہت سے معاملات پر اکثر و بیشتر تنقید کرتے بھی نظر آتے ہیں لیکن لبرل جو خود کو ہر پابندی سے آزاد سمجھتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی گزارنے میں آزاد ہے،اس لئے اس کو ہر وہ کام کرنے کی مکمل اجازت ہونی چاہئے جو اسے اچھا لگے۔اب ان کا کسی کی ذاتی زندگی پر تنقید کرنا سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ جس طرح لبرل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کا لباس پہنے یا اپنی مرضی کی زندگی گزارے بالکل اسی طرح دوسروں کو بھی یہ حق ہونا چاہئے کہ وہ اپنی پسند کا لباس پہن سکیں اور اپنی مرضی کی زندگی گزار سکیں۔

جس طرح مذہبی انتہا پسندوں کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنی مرضی دوسروں پر نافذ کریں بالکل اسی طرح لبرل کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی پسند و ناپسند دوسروں پر تھونپیں۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب ہندوستان کے مشہور موسیقار اے آر رحمان کی بیٹی خدیجہ ایک تقریب میں برقعہ پہن کر شریک ہوئی اور اپنے والد کا انٹرویو کیا۔
خدیجہ کے برقعہ پہن کر تقریب میں شرکت کرنے پر اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

جب معاملہ حد سے بڑھ گیا تو مجبوراً اے آر رحمان بھی اپنی بیٹی کی حمایت میں سامنے آۓ اور اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک تصویر اپ لوڈ کی۔اس تصویر میں اے آر رحمان کی بیوی اور ایک بیٹی بنا برقعہ کے موجود تھیں جبکہ دوسری بیٹی خدیجہ برقعہ میں تھی۔

اس تصویر کو دکھانے کا مقصد شاید یہی تھا کہ وہ واضح کرنا چاہتا تھا کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی میں زبردستی کا قائل نہیں ہے اور انہیں اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔
ایک بیٹی نے برقعہ پہننا پسند نہیں کیا تب بھی اعتراض نہیں ہے اور اگر دوسری بیٹی نے برقعہ پہننا پسند کیا تب بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ہندوستان کی فلم انڈسٹری میں اے آر رحمان کو غیر متنازعہ شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے لیکن اس معاملے پر انہیں سخت متنازعہ بنایا گیا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاملہ پر تنقید کرنے والا طبقہ وہی تھا جو اپنی زندگی اپنی مرضی کے مطابق جینے کا درس دیتا ہے لیکن اس معاملے پر بلاوجہ تنقید کر کے انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ بھی اسی طرح انتہا پسند ہیں جس طرح مذہبی طبقے میں انتہا پسند افراد پاۓ جاتے ہیں۔

آپ ساحل سمندر پر نیم برہنہ ہوں تو وہ آزادی ہے لیکن اگر وہیں ایک خاتون حجاب کے ساتھ آ جائے تو اس پر سخت تنقید کی جاتی ہے۔
ایران میں حجاب نا کرنے پر جرمانہ عائد کرنے پر مغرب میں کڑی تنقید کی جاتی ہے۔

ایران حکومت کو ڈکٹیٹر کہا جاتا ہے اور حکومت کے ان قوانین کو انسانی زندگی کے منافی گردانا جاتا ہے لیکن جب یورپی ممالک میں برقعہ پہننے کو جرم قرار دیا گیا بلکہ با حجاب خواتین کو برقعہ پہننے پر جرمانہ کیا جاتا ہے تو جو لبرل ایران پر زبردستی حجاب کرانے پر تنقید کرتے نہیں تھکتے تھے،وہی آزاد خیال افراد یورپ میں برقعہ پر زبردستی پابندی عائد ہو
نے پر خوشی کا اظہار کرتے نظر آۓ۔

انہیں یورپ میں خواتین کے برقعہ زبردستی اتارنے پر کبھی اعتراض نہیں رہا بلکہ وہ اس معاملے پر برقعہ اتارنے کے حمایتی نظر آۓ۔

اس طرح کی سوچ لبرل افراد کی منافقت نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟
آج لبرل بھی وہی سب کچھ کر رہے ہیں،جس کی بنیاد پر وہ مذہبی افراد پر تنقید کیا کرتے تھے۔
جہاں مذہبی انتہا پسندی قابل مذمت ہے وہیں لبرل انتہا پسندی بھی قابل تشویش ہے۔

اس لئے جہاں مذہبی افراد کو انتہا پسندی سے دور ہونے کی ضرورت ہے وہیں لبرل طبقہ کو بھی حقیقت میں آزاد خیال ہونے کی ضرورت ہے ورنہ تلوار کے زور پر اپنی بات منوانے والوں میں اور ان میں کچھ خاص فرق نظر نہیں آۓ گا۔

میں بذات خود انسانی زندگی میں کسی حد تک آزاری کا قائل ہوں اور ہمیشہ سے ہی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف رہا ہوں مگر اب ہمارے معاشرے میں آزادی کے نام پر بھی ایک انتہا پسندانہ سوچ پیدا کی جا رہی ہے،جس سے ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔

اس مشرقی اور مغربی ثقافت کے ٹکراؤ سے قوم میں ایک واضح تقسیم پیدا ہوتی نظر آ رہی ہے،جس کا عملی مظاہرہ ہم عالمی یوم خواتین کو “عورت مارچ” میں دیکھ چکے ہیں۔

ثقافتوں کے اس تصادم سے بچاؤ کے لئے اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم ہر معاملہ میں میانہ روی اختیار کریں ورنہ یہ معاملہ مستقبل میں شدت اختیار کر جائے گا۔


نوٹ:کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں ۔ ادارے  اور اس کی پالیسی کاان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں