216

پولیس اصلاحات۔۔۔وقت کی اہم ضرورت

کالم نگار: پولیس اصلاحات۔۔۔وقت کی اہم ضرورت

پاکستان میں آج اکیسویں صدی میں بھی اگر آپ کو پولیس روک لے تو آپ کو تحفظ سے زیادہ خوف کا احساس ہوتا ہے۔
ایک سپاہی کا آپ کے ساتھ رویہ اتنا تضحیک آمیز ہوتا ہے کہ آپ اپنے پیاروں کے سامنے خود کی حقیر سمجھنے لگ جاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں بہت سے جرائم اس لئے بھی درج نہیں کروائے جاتے کیونکہ پولیس ان چوروں یا ڈاکوؤں سے زیادہ آپ کو لوٹ لیتی ہے۔

اس خوف کی آخر کیا وجہ ہے ؟

اس کی وجہ صاف ہے کہ اس ادارے کو برصغیر میں اس وقت تشکیل دیا گیا جب یہاں تاج برطانیہ کا راج تھا اور ہم محکوم قوم تھے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس زمانے میں حالات مختلف تھے۔

ایک قابض نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے بہت سے ایسے قوانین متعارف کروائے ہوں گے، جنکی وجہ سے ان کی حکومت قائم رہ سکے کیونکہ ان کے لئے محکوم عوام پر راج کرنے کا واحد اور آسان طریقہ پولیس ہی تھا۔
گو کہ اس ادارے میں پاکستان بننے کے بعد بہت سی تبدیلیاں کی گئیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ زیادہ تبدیلیاں اس وقت عمل میں لائی گئیں جب اس ملک پر کوئی نا کوئی ڈکٹیٹر مسلط تھا۔

ایک ڈکٹیٹر جو خود زور اور طاقت سے عوام کی منتخب کردہ حکومت کو گرا کر اقتدار میں آیا ہو۔ اس سے یہ امید رکھنا ہی بیکار ہے کہ وہ عوام کو سہولت دینے کے لئے پولیس اصلاحات کرے گا۔

جمہوریت کی بات کریں تو اس ادارے (پولیس) کو ہمیشہ ہی اپنے اقتدار کو محفوظ بنانے کے لئے استعمال کیا گیا۔
پاکستان میں پولیس پر کنٹرول کے بنا آپ سیاست نہیں کر سکتے۔ اس لئے ایک کونسلر سے وزیر اعلی اور وزیراعظمٰ تک کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ پولیس اس کے مکمل کنٹرول میں رہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی عوامی نمائندے نے پولیس اصلاحات پر توجہ نہیں دی۔ اس کی وجہ سے پولیس جو کہ عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لیتی ہے۔
اس عوام کو ہی حقیر جانتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں ہر شعبہ کے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے مختلف تنظیمیں قائم ہیں۔
بیورو کریٹس کی اپنی تنظیم ہے۔
وکلاء کے حقوق کے تحفظ کے لئے بار کونسل ہے۔
ڈاکٹرز کے حقوق کے لئے تنظیم قائم ہے۔
اساتذہ کی اپنی تنظیم ہے۔
پٹواری کی الگ تنظیم ہے۔
تاجران کی اپنی یونین ہے۔
علماء کرام نے اپنی تنظیم بنا رکھی ہے۔
یہاں تک کہ رکشہ ڈرائیور کے حقوق کے تحفظ کے لئے بھی الگ سے تنظیم قائم ہے۔

لیکن عوام کے تحفظ کے لئے کون سی تنظیم ہے ؟
ایک عام شہری کہاں جائے کہ اس پر ہوئے ظلم کے لئے آواز اٹھائی جائے۔ یہ مجھے آج تک معلوم نہیں ہو سکا۔ اس لئے اس ریاست میں سب سے غیر محفوظ یہی عام شہری ہے۔

گزشتہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے ایک ایسا نعرہ لگایا کہ جس سے عام شہری کو محسوس ہوا کہ شاید ہمیں بھی ایسی تنظیم میسر ہو گئی ہے جو عام شہری کے تحفظ کا خیال کرے گی۔
الیکشن مہم کے دوران تحریک انصاف کے بہت سے دلکش وعدوں میں ایک خواب یہ بھی دکھایا گیا کہ ہماری جماعت اقتدار میں آتے ہی سب سے پہلا کام پولیس اصلاحات کرے گی۔جس سے پولیس ہماری حاکم کے بجائے خدمت گزار بن جائے گی۔

نئی نسل نے اس نعرے پر یقین کرتے ہوئے اس جماعت کی حمایت کی کیونکہ پاکستان میں پولیس کے مظالم دن بدن بڑھتے جا رہے تھے خصوصاً سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد ہر شہری شدید خوف کا شکار ہو گیا تھا کہ جب پولیس تمام میڈیا کے سامنے ایک مضبوط سیاسی و مذہبی جماعت کے مرکز پر اتنی دیدہ دلیری سے قتل عام کر سکتی ہے کہ انہیں نا ہی میڈیا کا خوف تھا کہ وہ اس قتل عام کو براہ راست دکھا رہی ہے۔

جس سے وہ قاتل ثابت ہو سکتے ہیں تو عام شہری کے ساتھ کیا کچھ نہیں کر سکتے۔ اس سے بھی زیادہ خوف ناک بات یہ تھی کہ اس پورے سانحہ میں سزا صرف اس شخص کو ملی جو کہ سرکاری ملازم نہیں تھا۔ گلو بٹ جو کہ ایک عام سا پولیس ٹاؤٹ تھا اور اس کا سنگین سے سنگین جرم بھی یہ تھا کہ اس نے شہریوں کی گاڑیوں کے شیشے توڑے۔

پولیس افسران کو کیا سزا دی گئی؟
حاملہ خاتون کے منہ پر سر عام گولیاں برسانے والوں کو کیا سزا دی؟
پولیس کو اس ظلم کا حکم دینے والے حکمرانوں کو کیا سزا دی گئی؟

یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ کہیں نا کہیں آپ کے سامنے دندناتے پھر رہے ہیں۔

اس واقعہ کے بعد پاکستان میں خوف و ہراس کی شدید لہر دوڑ گئی۔ عام شہری سڑک پر لگے ناکے پر کھڑے پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر ہی عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ کہیں ان کی شان میں ہلکی سی گستاخی بھی موت کا سبب نا بن جائے۔ مان لیا کہ ان بچوں کے والدین دہشتگرد تھے مگر کسی دہشتگرد سے نبٹنے کا یہ کون سا طریقہ ہے کہ بنا کسی مزاحمت کے باوجود ان پر فائرنگ کر دی جائے۔
کیا تیرہ سالہ بچی بھی دہشتگرد تھی ؟

مجھے یہ واقعہ سوچ کر ہی اس نظام سے شدید نفرت ہو گئی ہے۔ پتا نہیں یہ سیاست دان کس مٹی سے بنے ہیں کہ جن کی ذمہ داری تھی ہمیں تحفظ دینے کی مگر انہیں اتنی غیرت نہیں آئی کہ استعفیٰ دے دیتے۔

سب میڈیا پر آ کر مذمت کر رہے ہیں لیکن کیا کسی نے یہ کہا کہ پولیس نظام میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے اور ہم اب اس پر کام کریں گے۔
نہیں کیونکہ حکومت کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ وہ پولیس کی دہشت سے بادشاہت کرنا چاہتی ہے اور اپوزیشن اس امید سے اصلاحات نہیں چاہتی کیونکہ اسے دوبارہ حکومت میں آنے کا لالچ ہوتا ہے۔

ہم اجتماعی طور پر ایک مردہ اور بے حس قوم ہیں لیکن اب ہمیں اپنے تحفظ کے لئے اپنے بچوں کے تحفظ کے لئے پولیس اصلاحات کے لئے آواز اٹھانی ہو گی ورنہ ہم یوں ہی پولیس کے غنڈوں کے ہاتھوں مرتے رہیں گے اور ہمارے بچے یوں ہی یتیم ہوتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں