قبائلی علاقہ جات میں عوام شدید اذیتوں کا شکار۔۔۔! (میر افضل خان طوری)

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان اور محترم آرمی چیف جنرل باجواہ کی نیتوں پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ ان دونوں شخصیات نے پرانی پالیسوں کو ترک کرنے اور نئے پاکستان کیلئے نئی پالیسی کو اپنانے کا قوم سے وعدہ کیا ہے۔

لیکن اس کے باوجود زمینی حقائق کچھ مختلف نظر آ رہے ہیں۔ قبائلی علاقاجات جو نام نہاد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سخت تباہ و برباد ہوچکے ہیں۔ پورا انفراسٹرکچر ختم ہو چکا ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں ٹیچرز اور دیگر سہولیات کا سخت فقدان ہے۔ لڑکیاں ہائی سکولوں کی کمی کیوجہ سے مڈل پاس کرنے کے بعد آگے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

راستے اور پل یا تو تباہ ہوچکے یا سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ لوگ اپنے مریضوں کو گدھوں کے ذریعے ہسپتال لاتے ہیں۔ قومی شاہراہیں بھی توٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہیں۔ قبائلی علاقوں میں کوئی موٹر وے یا ہائی کبھی نہیں بنائی گئی۔

پورے قبائلی علاقوں میں کوئی ایک بھی یونیورسٹی یا میڈیکل کالج موجود نہیں ہے۔حکمرانوں نے آج تک صرف اعلانات کئے ہیں ۔ کسی بھی بڑے پراجیکٹ پر آج تک کام شروع نہیں کیا جا سکا ہے۔

قبائلی علاقوں میں بجلی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس حوالے سے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان علاقوں کے ہر دریا پر چھوٹے چھوٹے ڈیم بنائے جا سکتے ہیں۔ اس طرح بجلی کی پیداوار بڑھائی جاسکتی ہے اور ساتھ ہی ایگریکلچر کو بھی ترقی دی جاسکتی ہے۔
پورے قبائلی علاقوں میں کوئی ایک بھی اے گریڈ ہسپتال موجود نہیں ہے۔ ہمیں اپنے مریضوں کو 6 ،7 گھنٹے کا فاصلہ طے کر کے پشاور لانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے اکثر مریض خراب سڑک کیوجہ سے راستے ہی میں مر جاتے ہیں۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان نے قبائلی علاقوں میں تھری جی نیٹ کھونے کا اعلان تو کیا مگر آج تک صرف باجوڑ کے ایک تحصیل کے علاوہ کسی بھی قبائلی علاقے میں 3G نیٹ ورک نہیں کھولی جا سکی ہے۔ یہ کتنی ستم ظریفی کی بات ہے کہ آج بھی ایک کروڑ سے زیادہ قبائلی عوام نیٹ سروسز سے محروم ہیں۔

ہم وزیر اعظم جناب عمران خان اور محترم آرمی چیف جنرل باجواہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قبائلی علاقوں کے حوالے سے ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں ورنہ پھر بہت دیر ہوجائے گی۔


نوٹ:کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں ۔ ادارے  اور اس کی پالیسی کاان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں