زیارت گاہ حضرت میر انور شاہ سید اعلی اللہ مقامہ کی بندش۔۔۔۔! (میر افضل خان طوری)

ایک طرف وزیراعظم جناب عمران خان سکھوں کی عبادت گاہوں کو کھول رہے ہیں۔ پورے ہندوستان سے سکھ زائرین کیلئے ملکی سطح پر اقدامات کر رہے ہیں مگر دوسری طرف اپنے ملک میں زیارت گاہ میر انور شاہ سید اعلی اللہ مقامہ پر سرکاری پہرہ داروں کو بٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ میر انور شاہ سید کے اہل تشیع اور اہل سنت عقید مندوں کے ساتھ کھلی زیادتی، نا انصافی اور ظلم ہے۔

حضرت میر انور شاہ سید نے اس علاقہ میں توحید کی تبلیغ کی اور ان کے ہاتھوں ہزاروں افراد نے دین حنیف کو قبول کیا۔ آپ کے دینی تعلیمات پشتون قوم کیلئے بیش بہا سرمایہ ہیں۔ آپ ایک علمی، دینی اور روحانی شخصیت کے مالک تھے۔ آپ ایک عارف اور ولی کامل تھے۔ علم عرفان میں آپ کو کمال حاصل تھا۔ پشتو اب میں آپ کے عارفانہ کلام کی نظیر نہیں ملتی۔ آپ کو قرآنی علوم پر کمال کا دسترس حاصل تھا۔ آپ نے قرآنی مفاھیم اور احادیث نبوی (ص) کو اپنے کلام کے کفیل عوام الناس تک بہم پہنچایا۔ آپ کے عقیدت مندوں میں اہلسنت، اہل تشیع، ہندو اور سکھ سب شامل رہیں ہیں۔

دین اسلام اور آل رسول (ص) کے دشمنوں کو یہ اسلامی اتحاد اور بھائی چارے کی فضاء بلکل بھی پسند نہیں آئی۔ لھذا آپ کے سر اقداس کو تن سے جدا کر دیا گیا اور نوک نیزہ پر بلند کرکے گھر گھر پھرایا۔

اپنے کے مزار اقدس کو مغل خاندان نے تعمیر کیا تھا۔ آپ نے ذکر محمد و آل محمد (ص) کو ایسا دوام بخشا کہ آج پورے پختون خواہ کی فضاء ذکر آل محمد (ص) سے معطر و منور ہے۔آپ کی کتاب صفحہ انوریہ آج بھی ہزاروں محبان اسلام کے قلوب کو نور ایمان سے منور کر رہی ہے۔

ہم وزیر اعظم جناب عمران خان، وزیر اعلی کے پی محمود خان، گورنر خیبر پختون خوا شاہ فرمان، کور کمانڈر پشاور، ڈپٹی کمشنر ضلع اورکزئی، ایم این اے ضلع اورکزئی، ایم این اے ضلع کرم سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ زیارت میر انور شاہ سید اعلی اللہ مقامہ میں درپیش تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ زیارت کی تعمیر پر سے غیر ضروری پابندی فوری طور پر ہٹائی جائے۔

اگر حکومت جلد از جلد زیارت گاہ کو کھولنے کیلئے موثر اقدامات نہیں کرتی تو ضلع کرم، ضلع ہنگو، ضلع اورگزئی اور ضلع کوہاٹ کے عوام بہت بڑے احتجاج پر مجبور ہوجائیں گے۔ اس کا دائرہ اسلام آباد تک پھیلا دیا جائے گا۔


نوٹ:کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں ۔ ادارے  اور اس کی پالیسی کاان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں