182

صاحب اور صاحبہ۔۔۔۔۔! (ساجد خان)

وزیراعظم عمران خان نے وانا میں تقریر کے دوران چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کو “صاحبہ” کہہ کر کیا پکارا،سیاست میں ہلچل مچ گئی اور ساتھ ہی طوفان بدتمیزی کا بازار گرم ہو گیا۔

حکومتی جماعت کے کچھ ارکان اس کا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں تو کچھ اسے زبان کی پھسلن قرار دے رہے ہیں مگر عمران خان کی خاموشی اس بات کو تقویت دے رہی ہے کہ یہ لفظ غلطی سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر ادا کیا گیا۔ پاکستان کا باشعور طبقہ وزیراعظم کی اس حرکت کی مذمت کر رہا ہے کہ وزیراعظم جیسا ذمہ دار عہدہ رکھنے والی شخصیت کو ایک مخالف قومی جماعت کے سربراہ کے لئے ایسی زبان استعمال کرنا زیب نہیں دیتا لیکن پاکستان تحریک انصاف میں ایسی نصیحتوں پر کان دھرتا ہی کون ہے۔

مسئلہ صاحب اور صاحبہ کا نہیں ہے بلکہ سیاسی شعور کا ہے کہ عمران خان اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہونے کے بعد بھی سیاسی اخلاقیات سے محروم نظر آتا ہے اور سیاسی پلڑے میں 26 سالہ نوجوان سیاست دان،66 سالہ بزرگ سیاست دان سے زیادہ باشعور ثابت ہوا ہے۔

پاکستان کی سیاست کا اصول تھا کہ اپوزیشن کی جماعتیں ہمیشہ سے ہی حکومت پر تنقید کرتی رہتی ہیں لیکن جیسے ہی وہ جماعت اقتدار میں آتی تو اس کا رویہ بدل جایا کرتا تھا اور وہ تنقید کا جواب نہایت مہذب طریقے سے دیتی تھی۔
اس میں اس بات کا بھی خاص خیال رکھا جاتا تھا کہ اگر کبھی کسی کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرنے بھی ہوں تو اس کے لئے کسی دوسرے درجہ کے رہنما کو آگے لایا جاتا تھا، جماعت کے سربراہان ایسی زبان استعمال کرنے سے ہمیشہ ہی اجتناب کرتے تھے۔

یہ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ پھر پاکستان تحریک انصاف سیاست میں توجہ کا مرکز بنی اور یوں سب کچھ ہی بدلتا چلا گیا۔ سیاست میں تلخی کی جگہ بد زبانی نے لے لی۔ پی ٹی آئی اپوزیشن میں جو غلط زبان استعمال کرتی تھی،حکومت میں آ کر اس سے بھی زیادہ بد زبانی کرتی نظر آ رہی ہے۔

آپ جتنے بھی قابل احترام ہوں یا ملک و قوم کے لئے آپ کی جتنی بھی خدمات ہوں اگر آپ نے عمران خان پر تنقید کرنے کی غلطی کی تو آپ کی پگڑی یوں اچھالی جائے گی کہ آپ تو کیا،آپ کے گھر کی خواتین بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔
گزشتہ کئی سالوں سے صحافتی اور سیاسی برادری یہ شکوہ کرتی نظر آتی رہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پر ہلکی سی تنقید پر بھی کارکنان غلیظ زبان استعمال کرنے لگ جاتے ہیں مگر جماعت کے بڑوں نے اس پر کبھی توجہ نہیں دی اور دیتے بھی کیسے جب اس سیاسی جماعت کے سربراہ خود ایسی زبان استعمال کرتے ہوں تو کارکنان سے کیسا شکوہ۔

افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی سیاست میں آمد کے وقت یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اس جماعت کے کارکنان کی اکثریت ایک پڑھا لکھا طبقہ ہے جس سے پاکستان کی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی آۓ گی لیکن مثبت تبدیلی کیا آتی،سیاست میں جو پرانی اچھی روایات قائم تھیں،وہ بھی دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔

کہتے ہیں کہ مشہور انصاف پسند بادشاہ عادل نوشیرواں اپنی فوج کے ہمراہ سفر کر رہا تھا کہ راستے میں انار کا باغ دیکھا جس میں بہت ہی بہترین پھل تیار تھا۔ بادشاہ کو یہ باغ بہت پسند آیا،اس نے پوچھا کہ اس باغ کا مالک کون ہے۔

بتایا گیا کہ فلاں شخص اس کا مالک ہے،نوشیرواں نے اسے بلایا،جب وہ حاضر ہوا تو اس کے باغ کی تعریف کی اور کہا کہ تمہارے باغ کو دیکھ کر میرا دل کیا کہ میں انار کھاؤں،اس لئے مجھے بتاؤ کہ تم انار کی کیا قیمت لو گے۔ باغ کے مالک نے کہا کہ بادشاہ سلامت! اس باغ کو آپ اپنا ہی سمجھیں، مجھے خوشی ہو گی اگر آپ میرے باغ کا پھل کھائیں گے،میں آپ سے ہرگز قیمت وصول نہیں کر سکتا۔ بادشاہ نے دو انار توڑے اور ان کی قیمت ادا کر دی۔

قافلہ جب چل پڑا تو ایک وزیر نے کہا بادشاہ سلامت! آپ نے صرف دو انار توڑے پھر اس کے لئے باغ کے مالک کو بلانے اور اس کی قیمت ادا کرنے کی کیا ضرورت تھی،آپ بادشاہ ہیں اور یہ آپ ہی کی ریاست ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ دو انار مفت لینے میں کوئی قباحت نہیں تھی لیکن اگر میں دو انار توڑ لیتا تو میری فوج مجھے دیکھ کر پھل تو کیا درخت بھی اکھاڑ لیتی اور آخری فوجی تک پورا باغ اجڑ چکا ہوتا۔

اب جبکہ انہوں نے دیکھا ہے کہ بادشاہ خود انار خرید کر کھا رہا ہے تو وہ بھی مفت انار توڑنے کی جرات نہیں کریں گے۔ یہ پرانے واقعات اور کہانیاں ہمارے لئے سبق آموز ہوتی ہیں لیکن ان کے لئے جو ان سے سبق حاصل کرنا چاہیں۔

آج جب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنے مخالفین کے لئے “اوئے” یا “صاحبہ” کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ظاہر ہے اس کے کارکنان اس کی پیروی میں چار قدم آگے ہی جائیں گے اور مخالفین کو گالیاں دینا شروع کر دیں گے جیسا کہ ہم سوشل میڈیا پر اس کا عملی مظاہرہ دیکھ چکے ہیں۔

عمران خان صاحب کو سمجھنا چاہئے کہ وہ ایک بڑی پارٹی کے سربراہ کے ساتھ ساتھ ملک کے نہایت ذمہ دار عہدے پر بھی فائز ہیں،جس کے ایک ایک لفظ پر دنیا بھر کے میڈیا کی نظر ہوتی ہے،اس لئے آپ کی ایک غیر ذمہ دارانہ حرکت پوری قوم کے لئے باعث شرمندگی بن سکتی ہے۔
نا ہی سیاست ایسے کی جاتی ہے اور نا ہی ملک ایسے چلتے ہیں،سیاسی اختلاف میں اس حد کو کراس مت کریں کہ کل آپ کے لئے حکومت چلانا ہی مشکل ہو جائے۔

عمران خان پہلے ہی دس جماعتوں کے اتحاد کے باوجود نہایت معمولی اکثریت سے اقتدار میں آۓ ہیں،اس صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف کو کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس تمام سیاسی جنگ کا سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہو رہا ہے کہ نا ہی حکومت عوامی مسائل کی طرف متوجہ ہے اور نا ہی اپوزیشن کو عوامی مسائل پر آواز بلند کرنے کی فرصت ہے۔

وزیراعظم صاحب! خدارا اپوزیشن پر تنقید کرنے کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دیں،مہنگائی عوام کو کھاۓ جا رہی ہے۔ ادویات مہنگی ہو چکی ہیں،امن و امان کا مسئلہ پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔
اپوزیشن کا تو کام ہی تنقید کرنا ہوتا ہے لیکن حکومت کے پاس تو سب اختیارات ہوتے ہیں،اب اگر وہ بھی تنقید ہی کرنے لگ جائے تو ملک کا حال یہی ہونا ہے۔

جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے عمران خان قوم کو ہر لحاظ سے مایوس کرتے جا رہے ہیں اور محسوس یہ ہو رہا ہے کہ اب جبکہ پی ٹی آئی کو اقتدار مل چکا ہے تو ان کے پاس کام کرنے کا کوئی پلان ہی نہیں ہے شاید یہی وجہ ہے کہ وہ سیاست میں تلخی پیدا کر کے اپوزیشن اور عوام دونوں کو مصروف رکھ کر زیادہ سے زیادہ دن اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کو ملک میں تبدیلی لانے سے پہلے اپنے رویہ میں تبدیلی لانی چاہئے کیونکہ یہ وقت آپسی لڑائی کا نہیں ہے بلکہ مل جل کر ملک کو برے حالات سے نکالنے کا ہے،اس لئے ایک دوسرے پر تنقید کر کے وقت ضائع کرنے کے بجائے عوام کی بہتری کے لئے اقدامات کریں ورنہ یہ عوام اس تبدیلی کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔


نوٹ:کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں ۔ ادارے  اور اس کی پالیسی کاان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں