لاہور: داتا دربار کے قریب خودکش دھماکا، 5 اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید، 25 زخمی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں صوفی بزرگ داتا گنج بخش کے مزار کے باہر خودکش دھماکے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید جبکہ 25 سے زائد افراد زخمی ہو گئے، زخمیوں میں 6 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، خودکش دھماکے سے ایلیٹ پولیس کی گاڑی مکمل طو ر پر تباہ ہو گئی جبکہ گاڑی کا ڈرائیور معجزانہ طور پر بچ گیا، وزیر اعظم عمران خان نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی، صدر مملکت سمیت سیاسی شخصیات نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بدھ کی صبح خودکش دھماکا داتا دربار گیٹ نمبر 2 کے قریب مین روڈ پر پولیس وین کے قریب ہوا ہے جس کے نتیجے میں 10 افراد شہید جبکہ 25 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ بدھ کی صبح مشہور صوفی بزرگ حضرت علی ہجویری کے مزار کے گیٹ نمبر 2 کے باہر سڑک پر موجود ایلیٹ فورس کی گاڑی کے نزدیک ہوا۔

پنجاب سیف سیٹی اتھارٹی نے سی سی فوٹیج جاری کی ہے جس میں گہرے رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس ایک لڑکے پر خودکش بمبار ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس پر حملہ دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ کی علامت ہے، حملے میں ملوث عناصر کو جلد کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ آئی جی پنجاب نے سی سی پی او لاہور سمیت تمام آر پی اوز کو سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام سینئر افسران فیلڈ میں جا کر حساس مقامات اور اہم عمارات کی سیکیورٹی کا خود جائزہ لیں۔

انہوں نے کہا کہ ماہرین کے مطابق دھماکہ میں 7 کلو گرام کے قریب بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 100فیصد حملہ کا ٹارگٹ پولیس تھی اور حملہ آور نے آکر سیدھے ایلیٹ پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔

ڈی آئی جی آپریشن محمد اشفاق کے مطابق داتا دربار کے حوالے سے کوئی تھریڈ الرٹ موجود نہیں تھا، ایلیٹ پولیس کے شہید اہلکار تربیت یافتہ کمانڈوز تھے۔

ڈپٹی کمشنر لاہور صالحہ سعید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور تمام زخمیوں کو میو ہسپتال میں بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ دھماکہ میں شہید ہونے والے افراد کی شناخت ہو گئی جس میں 4 ایلیٹ پولیس کے اہلکار اور ایک عام شہری شامل ہیں۔ شہید ہونے والوں میں پولیس اہلکار محمد سہیل، شاہد نزیر، گلزار علی، محمد سلیم کے نام سے ہوئی ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔ حملہ آور کے اعضا فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھیج دیئے گئے۔

ایم ایس میو ہسپتال نے بتایا کہ زخمیوں میں کچھ افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام ڈاکٹرز کی چھٹیاں منسوخ کر دیں۔

دھماکے کے فوری بعد پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد جائے وقوع پر پہنچ گئی جبکہ فوری طور پر علاقہ کی ناکہ بندی کر دی گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ دھماکا سے ایلیٹ فورس کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی جو داتا دربار کی سکیورٹی کے لیے تعینات تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملے کے وقت پولیس وین میں 6 پولیس اہلکار موجود تھے جبکہ ایلیٹ کی بیٹ کی گاڑی کا نمبر 56 تھا جسے نشانہ بنایا گیا۔ گاڑی میں اہلکار محمد سہیل، شاہد نزیر، گلزار علی، محمد سلیم، صدام اور احسان بھی اسی گاڑی میں ڈیوٹی پر تھے۔

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ پر سیف سٹی کے 6 کیمرے موجود ہیں جن کی مدد سے فوٹیج حاصل کی جا رہی ہیں۔ جس کی مدد سے دہشت گرد کی شناخت ہو سکے گی۔ دھماکا صبح کے وقت ہوا جب لوگوں کی بڑی تعداد وہاں موجود ہوتی ہے۔ دھماکے کی جگہ کے اطراف بازار اور گھر موجود ہیں۔ داتا دربار کے اطراف میں مختلف بازار موجود ہیں اور یہ لاہور کا سب سے مصروف ترین علاقہ ہے جبکہ داتا دربار کے قریب رہائشی علاقہ بھی موجود ہے۔

جس جگہ خودکش دھماکا ہوا یہ لاہور کا اہم ترین روڈ ہے جہاں سے مختلف راستے لاہور شہر کی جانب جاتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے داتا دربار لاہور میں دھماکے کی شدید مذمت کی اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہر ے دکھ کا اظہار کیا، وزیر اعظم نے واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی، وزیراعظم نے غم زدہ خاندانوں سے دلی اظہار ہمدردی، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے دھماکہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی۔ وزیر اعلی پنجاب نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب نے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دیں۔

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے امن و امان سے متعلق اعلی سطح کا اجلاس فوری طور پر طلب کرتے ہوئے بھکر، سرگودھا اور شیخوپورہ کے دورے منسوخ کر دیئے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، سمیت گورنرز ، وزرائے، وفاقی وزیر وزرا سمیت اہم سیاسی شخصیات نے واقعہ کی مذمت کی ہے۔

دہشت گرد تنظیم حزب الاحرار نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان ڈاکٹر عبدالعزیز یوسفزئی نے ایک بیان میں اس کارروائی کو آپریشن شامزئی کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ اس کا ہدف پولیس اہلکار ہی تھے۔

واضح رہے کہ لاہور کے داتا دربار کو ماضی میں بھی دہشت گرد حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

2 جولائی 2010 کو دو خودکش بمباروں نے دربار کے احاطے میں داخل ہوکر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا تھا، جس کے نتیجے میں 42 افراد شہید اور 175 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں