187

کراچی:صدر مملکت کی رہائشگاہ کے باہر شیعہ مسنگ پرسنز کا دھرنا، 36 گرفتار

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی کی محمد علی سوسائٹی میں صدر عارف علوی کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دینے والے 36 افراد کو پولیس نے مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا۔

دھرنے کے منتظمین کے خلاف ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد گرفتاریاں عمل میں آئیں۔

بہادر آباد تھانے کی حدود میں صدر مملکت کی رہائش گاہ کے باہر اپنے ‘لاپتہ’ پیاروں کی بازیابی کے لیے ان کے عزیز 28 اپریل سے احتجاج کر رہے ہیں۔

پولیس نے مسنگ پرسنز کمیٹی کے سربراہ راشد رضوی، صغیر جاوید، صفدر شاہ، حسن رضا سمیت 250 سے 300 نامعلوم افراد کے خلاف فسادات پھیلانے سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

وائس فار شیعہ مسنگ پرسنز موومنٹ کے چئیرمین سید راشد رضوی نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بدھ کے روز دھرنے کے شرکا کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے منتظمین میں سے ایک حسن رضا سمیت تقریباً 36 مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔

وائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے سربراہ سید راشد رضوی نے غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ دھرنے کو گیارہ دن ہوگئے ہیں جس میں خواتین اور بچے بھی موجود ہیں جو اس گرمی میں روزے کے ساتھ ہیں، یہ پرامن دھرنا ہے جس میں ایک گملہ تک نہیں توڑا گیا۔

وائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے مطابق پورے پاکستان سے 80 شیعہ نوجوان لاپتہ ہیں جن میں سے 41 کا تعلق کراچی سے ہے، جن کی بازیابی کے لیے گذشتہ تین سالوں سے تحریک جاری ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ‘قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اس اقدام سے وہ خوفزدہ نہیں ہوں گے اور اپنے پیاروں کی بازیابی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔’

ہم تمام حجتیں پوری کرچکے ہیں چونکہ پاکستان میں سے سب بڑا منصب صدر مملکت کا ہوتا ہے اس لیے ہم نے سوچا کہ ان کے گھر کے سامنے دھرنا دیا جائے، وہ دونوں انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان کو اپنے ساتھ بٹھائیں، ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ لاپتہ افراد گناہ گار یا بے گناہ ہیں ہم چاہتے ہیں کہ انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ عدالتیں اس کا فیصلہ کریں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ عدالتیں کمزور ہیں تو عدالتوں کو مضبوط کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

راشد رضوی نے بتایا کہ صدر عارف علوی کے حکم پر گورنر سندھ عمران اسماعیل، وفاقی وزیر علی زیدی اور دونوں انٹیلی جنس اداروں کے حکام کے ساتھ مذاکرات ہوئے، دونوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ لاپتہ لوگ کہاں ہیں ہم انہیں ڈھونڈیں گے اور ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنا لیتے ہیں آپ دھرنا ختم کردیں۔

راشد رضوی کا کہنا تھا ’ہم نے انہیں کہا کہ آپ کمیٹی بنالیں وہ اپنا کام کرے لیکن دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہوجاتے، جس کے بعد مذاکرات ناکام ہوگئے، جس کے بعد گذشتہ دن سے پولیس نے گھیرے میں لے رکھا ہے، ہماری کمیٹی کے رکن حسن رضا سہیل کو گرفتار کرلیا ہے اور شرکا کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی جس میں ملک دشمنی کی دفعات لگائی گئی ہیں حالانکہ ہم پر امن طریقے سے بیٹھے ہیں اور پاکستان کے جھنڈے لگا رہے ہیں۔‘

یاد رہے کہ دو روز قبل کاؤنٹر ٹیرر ازم محکمے کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں 5 شیعہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا جس میں لاپتہ صحافی مطلوب موسوی بھی شامل ہے جس کی جبری گمشدگی کی اطلاعات اہل خانہ نے تھانے پر دی تھی جب کہ ان کے خاندان سمیت صحافی تظیمیں اس کے خلاف احتجاج کر چکی ہیں۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عامر فاروقی نے دعویٰ کیا تھا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں مشترکہ آپریشن کے ذریعے سید عمران، وقار رضا، عباس، سید مطلوب موسوی، اور سید متسم کو گرفتار کیا گیا ہے،وہ حیران تھے کہ ان مشتبہ ملزمان کے نام لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ ’پڑوسی ملک شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے لیے تربیت اور مالی مدد فراہم کر رہا ہے لیکن وہ پڑوسی ملک کا نام نہیں لے سکتے یہ کام دفتر خارجہ کا ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے بتایا ہے کہ 28 افراد ان کی ہٹ لسٹ میں تھے جن کی وہ ریکی کر رہے تھے۔

وائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے سربراہ راشد رضوی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ یہ لوگ لاپتہ تھے، کوئی دو ماہ سے تو کوئی چھ ماہ سے، جن میں سے بعض کی ایف آئی آرز اور عدالت میں آئینی درخواست بھی دائر ہیں مگر مذاکرات کی ناکامی کے بعد ان پر یہ الزامات عائد کیے گئے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان نیوز کو بتایا کہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا بلکل استعمال نہیں کیا۔

تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ایف آئی آر میں نامزد کئی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

سینئر پولیس افسر کا کہنا تھا کہ حراست میں لیے جانے والے چند افراد کو انکوائری کے بعد رہا کر دیا جائے گا۔

پولیس نے مظاہرین کے خلاف مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی کئی دفعات لگائی ہیں جن میں 147 (فساد پھیلانے پر سزا)، 148 (خطرناک ہتھیار کے ذریعے فساد پھیلانا)، 120 بی (مجرمانہ سازش پر سزا)، 121 (ملک میں جنگ کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کرنا یا اکسانا)، 121 اے (جرائم کے ارتکاب کے لیے سازش کرنا جو دفعہ 121 کے تحت قابل سزا ہیں)، 341 (ناجائز مزاحمت پر سزا)، 427 (شرانگیزی) اور 503 (مجرمانہ طور پر دہشت پھیلانا) شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں