166

گوادر: بی سی ہوٹل پر دہشت گردوں کے حملے میں 6 افراد شہید، متعدد زخمی،کلیئرنس آپریشن جاری

کوئٹہ (ویب ڈیسک) صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پرل کانٹینینٹل (پی سی) ہوٹل پر دہشت گردوں کے حملے میں 6 افراد شہید جبکہ ‏آرمی کے 2 کیپٹن اور پاک بحریہ کے 2 جوانوں سمیت 6 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز کے جوابی کارروائی میں 3 دہشت گرد بھی مارے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن بڑی حد تک مکمل کر لیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے ایک سینئیر اہلکار نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے نو افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں چار شدت پسندوں کے علاوہ پی سی ہوٹل کے چار ملازمین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کا ایک اہلکار بھی شامل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کلیئرنس آپریشن بڑی حد تک مکمل کر لیا گیا ہے اور 50 سے زائد افراد کو ریسکیو کر کے باہر نکالا گیا جن میں زیادہ تر ہوٹل ملازمین شامل ہیں۔

حملے میں زخمی ہونے والے چھ افراد کو جی ڈی اے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ سول ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ سہولیات کے فقدان کی وجہ سے زخمیوں کو جی ڈی اے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ہوٹل پر حملہ مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی شام تقریباً چار بجکر 40 منٹ پر کیا گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین حملہ آوروں نے ہوٹل میں داخلے کی کوشش کی اور گارڈ کی جانب سے مزاحمت کرنے پر اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ڈی آئی جی مکران منیر احمد راؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں پی سی ہوٹل کے 3 ملازمین شامل ہیں جن میں سے 2 گارڈز تھے اور کچھ دیر پہلے ہمیں ایک اور ملازم کی لاش چوتھی منزل سے ملی ہے۔‘

ڈی آئی جی مکران منیر احمد راؤ کا کہنا تھا کہ فی الحال سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری ہے کیونکہ حملہ آور ہوٹل میں موجود کسی نامعلوم مقام پر چھپے ہوئے ہیں۔

ان کے بقول ‘ہوٹل میں 100 سے زائد کمرے ہیں، ایک ایک کر کے چیک کرنے اور حملہ آوروں کو ڈھونڈنے میں وقت لگے گا۔’ ہوٹل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’بروقت فوجی کارروائی نے حملے کو ناکام بنا دیا۔‘

پرل کانٹینینٹل ہوٹل کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ کیونکہ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے اس لیے ہوٹل کے کسی کمرے میں کوئی بھی مہمان موجود نہیں تھا اور ہوٹل میں عملے کی تعداد بھی بہت محدود تھی۔

بلوچ علیحدگی پسند گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر تے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد چینی اور دوسرے سرمایہ کاروں کو نشانہ بنانا تھا۔

حملے کے بعد رات گئے صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت سکیورٹی امور پر اعلی سطحی اجلاس ہوا۔ جس میں صوبائی وزیر داخلہ ، چیف سیکریٹری ،سیکریٹری داخلہ،آئی جی پولیس اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران سیکیورٹی اداروں کے حکام نے گوادر کے واقعہ میں ابتک کی صورتحال پر بریفنگ دی اور دہشت گردی کے واقعہ کے تمام پہلوؤں اور محرکات پر غور کیا گیا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل کی عمارت میں سکیورٹی فورسز نے تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

میر ضیا اللہ لانگو نے مزید بتایا کہ حملے میں ہوٹل کے دو سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوئے ہیں جن کی لاشوں کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار سمیت دو افراد کو بھی زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کے داخل ہوتے ہی ہوٹل کے الارم بجا دیے گئے تھے جس کے باعث ہوٹل میں موجود افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تاہم بعض افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل میں چینی شہریوں سمیت کوئی بھی غیر ملکی شہری موجود نہیں تھا۔

میر ضیا اللہ نے کہا کہ تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ حملہ آور سمندر سے یا کس راستے سے ہوٹل پہنچے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں خود کش حملہ آوروں کے داخلے کے بارے میں اطلاعات تھیں لیکن گوادر میں کسی حملے کی اطلاع نہیں تھی۔ یاد رہے کہ پی سی ہوٹل پر اس سے قبل بھی راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا۔

بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے گوادر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق ترجمان جیئند بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مجید بریگیڈ کے فریڈم فائٹرز نے پی سی ہوٹل میں گھس کر حملہ کیا جہاں چینی اور دیگر سرمایہ کاروں نے رہائش اختیار کی ہوئی ہے۔‘

یاد رہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی کی پہلی منظم عسکریت پسند تنظیم ہے جس نے اس سے قبل دالبندین میں چینی انجینیئرز کی بس پر خودکش حملہ، کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ اور حالیہ دنوں میں یہ تیسرا بڑا حملہ ہے۔

چینی قونصل خانے پر حملے کے بعد افغانستان میں بی ایل اے کے کمانڈر اسلم عرف اچھو ایک خودکش حملے میں ساتھیوں کے ہمراہ مارے گئے تھے، جس کے بعد بی ایل اے کی قیادت بشیر زیب نے سنبھالی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے رات گئے اس حملے کی مذمت کی گئی جبکہ چینی سفارت خانے کی جانب سے ٹوئٹر پر پیغام میں اس حملے کی مذمت کی اور کہا کہ ان کی ہمدردیاں ہلاک ہونے والے ایک سکیورٹی اہلکار اور زخمی ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد مکران ڈویژن کے دیگر علاقوں کی طرح گوادر میں بھی بد امنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ بھی ضلع گوادر کی تحصیل اورماڑہ میں مسافر بسوں سے سکیورٹی فورسز کے 14 اہلکاروں کو اتار کر شہید کیا گیا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں