363

اگر ایران آبنائے ہرمز بند کریں تو ؟

اسلام آباد (رپورٹ: شفیق طوری) امریکی صدر ٹرمپ نے چین جاپان بھارت ترکی کوریا وغیرہ کو ایران سے تیل خریدنے کی جو خصوصی اجازت دے رکھی تھی وہ اب واپس لی جا چکی ہے جس کے بعد ایران کو الاقوامی مارکیٹ میں تیل بیچنے کیلئے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اگرچہ ترکی اور چین نے امریکی پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور تیل کی خریداری جاری رکھنے کا اعلان کیا لیکن اگر امریکہ ترکش اور چینی کمپنیوں پر پابندیاں لگاتا ہے تو وہ بہت جلد امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک سکتے ہیں کیونکہ اتنی سخت ترین پابندیاں ایران پر پہلی بار لگائی گئی ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی ایران آبنائے ہرمز بند کر کی دھمکی دی ہے کہ اگر ہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی بھی تیل نہیں بیچ سکتے صاف ظاہر ایران کا اشارہ عرب ملکوں کی طرف ہے جو ایران تیل کے خریداروں کو اپنی تیل بیچنے کی تیار کررہے ہیں (اور گوادر پورٹ پر سعودی آئیل ریفائنری اس طرف پیش قدمی ہے!) اسطرح ایران عربوں کا تیل بھی فروخت ہونے سے روکنے کی کوشش کرے گا۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان تنگ بحری راستہ ہے۔ دنیا میں سمندر کے راستے فروخت ہونے والے تیل کا تقریباً 40 فیصد یہاں سے گزرتا ہے جس میں عرب ممالک کا تیل بھی خاصی بڑی مقدار میں شامل ہے۔ یہ راستہ ایک مقام پہ صرف 39 کلومیٹر چوڑا رہ جاتا ہے اور اتنے محدود سمندری علاقے کو بند کرنا ایرانی بحریہ کے لیئے نہایت آسان ہے۔

ایرانی بحریہ کے سابق سربراہان اس عزم کا کئی مرتبہ اعادہ کر چکے ہیں۔ ایران آبنائے ہرمز بند کرنے کیلئے سمندری مشقیں بھی شروع کرسکتا ہے یا ہوشیاری سے اپنے ایک دو جہازوں کو مار کر باآسانی جہازو کی آمدر ورفت روک سکتے ہیں۔

اسطرح جنگی صورتحال کو بھی کچھ وقت کیلئے ملتوی کرسکتے ہیں لیکن اس دوران دنیا میں تیل کی قیمت ڈیڑھ سو ڈالر سے بڑھ چکی ہوگی اسطرح دنیا بھر کی چیخیں تو نکلیں گی لیکن پاکستان میں اس سے سیاسی بھون چال بھی آسکتا ہے۔

اگر ایران آبنائے ہرمز بند کریں تو کسی عرب ملک میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر آبنائے ہرمز کھول سکے۔ یہ مشکل کام صرف امریکی بحریہ کر سکتی ہے جو کئی دفعہ اس قسم کی مشقیں بھی کر چکی ہے۔

اگر ایران اور امریکہ بحری جنگ میں کود پڑتے ہیں تب بھی کم سے کم ایک ماہ کا عرصہ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں لگ جائے گا اور راستہ کھلنے کے بعد بھی خوف کی فضا چھائی رہے گی۔ لیکن ایران امریکہ جنگ آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایران اسرائیل اور پڑوسی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے جبکہ ایران اپنی طاقتور ملیشاؤں جیسے حزب اللہ اور انصار اللہ کے ذریعے کسی بھی ملک میں کہرام مچا سکتے ہیں لہذا کچھ وقت کیلئے مشرق وسطی پر جنگ کے بادل ضرور منڈلاتے رہیں گے لیکن جنگ شروع کرنے کے لئے ہر فریق دو سو دفعہ ضرورسوچیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں