ہم آپ کو ووٹ نہیں دینگے کیونکہ ہم سنی ہیں اور آپ شیعہ، قائداعظم نے منہ پر جواب دیدیا، پڑھ کر آپ عش عش کر اٹھیں گے!

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی تحریک جاری تھی‘ قائداعظم محمد علی جناح ووٹ مانگ رہے تھے‘ یہ کراچی تشریف لائے‘عوام سے پاکستان کی حمایت کی درخواست کی‘ شرکاء میں موجود کسی شخص نے کہا ’’ہم آپ کو ووٹ نہیں دیں گے‘‘ قائداعظم نے مسکرا کر پوچھا ’’کیوں؟‘‘ وہ شخص بولا’’ ہم سنی العقیدہ ہیں اور آپ اہل تشیع ہیں‘ نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔

. . . . . . . ہم آپ کو ووٹ نہیں دیں گے‘‘ قائداعظم مسکرائے اور بولے ’’ہندوستان میں مسلمان محمد علی جناح اور کٹر ہندو موہن داس کرم چند گاندھی کے درمیان مقابلہ ہے‘ آپ اگر مجھے شیعہ سمجھ کر ووٹ نہیں دیں گے تو پھر آپ کا ووٹ گاندھی کے پاس چلا جائے گا‘‘ وہ رکے اور پھر فرمایا ’’آپ مجھے ووٹ نہیں دیں گے تو کیا آپ گاندھی کو دیں گے اور کیا گاندھی سنی ہے‘‘ وہ شخص خاموش ہو گیا۔

قائداعظم محمد علی جناح شروع میں ’’ہندو مسلم بھائی بھائی‘‘ کے قائل تھے‘ یہ 1906 سے 1913 تک آل انڈیا کانگریس میں بھی شامل رہے‘ قائد اعظم مہاتما گاندھی کی طرح ’’ایک ہندوستان‘‘ کے لیے لڑتے رہے‘ یہ بھی سمجھتے تھے خون عقیدے سے گاڑھا ہوتا ہے اور ہندوستان کے تمام لوگوں کو مذہب سے بالاتر ہو کر آزادی کے لیے لڑنا چاہیے‘یہ گاندھی کے سیکولرازم کے حامی بھی تھے لیکن پھر اچانک حقیقت قائداعظم کے سامنے آ گئی‘ یہ جان گئے ہندو اور مسلمان الگ الگ قومیں ہیں‘ دونوں کے درمیان صرف عقائد نہیں بلکہ تہذیب‘ فکر‘ رسم‘رواج‘ خوراک‘ لباس اور زبان کی دیواریں بھی حائل ہیں‘ مسلمان اور ہندو تیرہ سو سال اکٹھے رہے‘ یہ ان تیرہ سو برسوں میں ایک نہیں ہو سکے‘ یہ مزید ہزار سال بھی یک جان نہیں ہو سکیں گے اور یہ جان گئے ہندوستان کے ہندو آزادی کے بعد مسلمانوں پر دائرہ حیات تنگ کر دیں گے۔

مسلمانوں کا کلچر‘ زبان‘ لباس‘ عقائد حتیٰ کہ عبادت گاہیں تک ہندوؤں کے ہاتھوں محفوظ نہیں رہیں گی‘ قائداعظم نے یہ جاننے کے بعد دو قومی نظریئے کو حقیقت مان لیا اور یہ 1913 میں کانگریس کو خیرباد کہہ کر مسلم لیگ میں شامل ہو گئے‘ یہ وقت گزرنے کے ساتھ دو قومی نظریئے کے سب سے بڑے داعی بن گئے‘ یہ کانگریس میں مولانا ابوالکلام آزاد جیسے مسلمان لیڈروں کو بھی سمجھایا کرتے تھے آپ یاد رکھیں آپ اور آپ کی نسلوں کو اس حماقت کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا لیکن وہ نہیں مانتے تھے بہرحال قصہ مختصر 14 اگست 1947ء کو ہندوستان دو قومی نظریہ پر تقسیم ہو گیا‘ مسلمان پاکستان میں اکٹھے ہو گئے اور ہندوؤں نے بھارت کو اپنا ملک بنا لیا‘ تقسیم کے وقت انڈیا میں 68 لاکھ سکھ اور 83 لاکھ عیسائی بھی تھے۔

آزادی کے بعد آل انڈیا کانگریس ’’سیکولر انڈیا‘‘ کے منشور کے ساتھ اقتدار میں آ گئی مگر یہ سیکولرازم زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا‘بھارت نے مسلم ریاست جموں اینڈ کشمیر پر بھی قبضہ کر لیااور حیدرآباد دکن کو بھی زبردستی بھارت کا حصہ بنا لیا اور پنجاب کے سکھوں کو بھی ذلت اور خواری کے علاوہ کچھ نہ مل سکا تاہم ہمیں یہ ماننا ہوگا کانگریس بی جے پی سے نسبتاً بہتر تھی‘ اس نے 1967 میں مسلمان ڈاکٹر ذاکر حسین کو صدر بنا دیا‘ ڈاکٹر عبدالکلام بھی 2002 میں صدر بنے اور کانگریس نے من موہن سنگھ کو بھی دو بار وزیراعظم بنا کر سکھوں کے دل بھی جیت لیے‘کانگریس نے اے کے انتونی ‘آسکر فرنینڈس اور اگاتھا سنگما جیسے عیسائیوں کو بھی وزیر بنایا اور اس کی کابینہ میں پارسی اور بودھ بھی شامل رہے‘ یہ لوگ خواتین کو بھی نمائندگی دیتے رہے لیکن پھر کانگریس بھارت کی سیاست سے نکل گئی اور شدت پسند جماعت بی جے پی سامنے آتی چلی گئی۔

نریندر مودی کا تعلق ہندوانتہا پسندجماعت آر ایس ایس سے تھا‘ یہ انتہائی شدت پسند تھے‘ ہندوستان کو صرف اور صرف ہندوؤں کی سرزمین سمجھتے تھے اور دھرتی ماتا سے عیسائیوں‘ مسلمانوں اور سکھوں کو صاف کرنا چاہتے تھے‘ یہ 1971 میں مکتی باہنی کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف لڑتے بھی رہے‘مودی نے7جون 2015 کو ڈھاکہ یونیورسٹی میںتقریر کرتے ہوئے کہا تھا ’’مکتی باہنی کی حمایت میں‘میں نے بھی بطور رضاکار شرکت کی ‘‘یہ 7 اکتوبر 2001 کو گجرات کے چیف منسٹر بن گئے‘فروری 2002میں گجرات میں مسلم کش فسادات ہوئے اور ڈیڑھ ہزارمسلمان شہید ہو گئے‘ مسلمانوں کی جائیدادیں‘ دکانیں‘ دفاتر اور گاڑیاں تک جلا دی گئیں‘ سیکڑوںعورتوں کی آبرو ریزی ہوئی ‘ درجنوںبچے سڑکوں پر کچل دیے گئے اور ہزاروں مسلمان نقل مکانی پر مجبور کر دیے گئے‘ بھارت کے اپنے اداروں اور میڈیا نے نریندر مودی کو ان فسادات کا ذمہ دار قرار دیا لیکن اس ظلم اور فلاسفی کے باوجود نریندر مودی 26مئی 2014 کو وزیراعظم بن گئے۔

مودی سرکار نے اپنے دور حکومت میں بابری مسجد کو مندر بنانے کا کام بھی شروع کر دیا‘ پنجاب میں بھی گڑ بڑ کا آغاز ہو گیا‘ سکھوں کو بھی بلاوجہ تنگ کرنا شروع کر دیا گیا‘ عیسائیوں پر عرصہ حیات تنگ ہو گیا‘ بھارت عیسائیوں کے خلاف پر تشدد کارروائیوں میں 10 بدترین ممالک میں بھی شامل ہوگیا‘ 2018 میں مسیحی برادری کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کے 12000 واقعات رونما ہوئے‘درجنوں چرچ بھی جلادیے گئے اور سیکڑوں عیسائی قتل بھی کر دیے گئے‘ گائے کا گوشت فروخت کرنے کے ’’جرم‘‘ میں گزشتہ پانچ سالوں میں 104 مسلمان مار دیے گئے‘مسلمانوں کے قتل کی ویڈیوز بھی جان بوجھ کر وائرل کی گئیں‘۔

پاکستان پر بھی الزامات کی بوچھاڑ ہو گئی‘ پٹھان کوٹ کا واقعہ ہو یا پھر پلواما کا ایشو ہو‘ نریندر مودی نے آنکھیں بند کر کے پاکستان پر الزام لگا دیے ‘۔

مقبوضہ کشمیر میں بھی خوفناک کارروائیاں شروع ہو گئیں‘ مودی نے کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 370میں تبدیلی کا اعلان بھی کر دیا۔

کشمیر میں کریک ڈاؤنز کا سلسلہ بھی بڑھا دیا گیااور پانچ برسوں میںاڑھائی ہزار کشمیری شہری شہید‘25 ہزار زخمی اور 15 ہزار جیلوں میں پھینک دیے گئے ‘ چھ ہزار بچے پیلٹ گنز کی وجہ سے بینائی بھی کھو بیٹھے یوں آپ اگر نریندر مودی کے پانچ سال کا جائزہ لیں تو آپ کو یہ پانچ برس بھارت کی اقلیتوں کے لیے سیاہ رات محسوس ہوں گے‘ بھارت 72 برسوں میں پہلی مرتبہ کٹر ہندو ریاست بن کر سامنے آگیا‘ اپریل 2019 میں نریندر مودی کی مدت ختم ہو گئی اور نئے الیکشن شروع ہو گئے‘

تجزیہ نگاروں کا خیال تھا نریندر مودی اپنے شدت پسند خیالات کی وجہ سے دوسری مرتبہ نہیں جیت سکیں گے۔ بھارت کا سیکولر مائینڈ ان کو ووٹ نہیں دے گا لیکن جب الیکشن کے نتائج نکلے تو مودی نے 2014 کے مقابلے میں 21 نشستیں زیادہ حاصل کر لیں‘ دنیا یہ دیکھ کر بھی حیران رہ گئی عوام ہر الیکشن میں بی جے پی کو پہلے سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں دے رہے ہیں‘بی جے پی نے 2009 میں116سیٹیں لیں‘ یہ سیٹیں 2014ء میں بڑھ کر 282 اور 2019 میں 303ہو گئیں‘ بھارت کی 12ریاستوں میں اس وقت بھی بی جے پی کی حکومتیں ہیں‘ یہ ٹرینڈ کیا ثابت کرتا ہے‘ یہ ثابت کرتا ہے بھارت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ازم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

بھارتی عوام سیکولر ازم سے دور ہو کر کٹر اور شدت پسند ہندو بنتے جا رہے ہیں ‘ یہ اب ’’دھرتی ماتا‘‘ پر کسی غیر مذہب کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور یہ ٹرینڈ انتہائی خطرناک ہے‘ بھارت میں اس وقت بھی 20 کروڑ مسلمان‘اڑھائی کروڑ سکھ‘ تین کروڑ عیسائی اور 93 لاکھ بودھ ہیں‘ بھارت اگر صرف اور صرف ہندوؤں کا ملک ہے تو پھر یہ 26 کروڑ لوگ کہاں جائیں گے‘ کیا یہ قتل ہوتے اور مرتے چلے جائیں گے‘ کیا ان کے گلوں میں مسلسل جلتے ہوئے ٹائر ڈالے جائیں گے یا پھر انھیں مستقل دہشت گرد ڈکلیئر کر دیا جائے گا؟ بھارت کے عوام نے 2019 میں نریندر مودی کو دوسری بار وزیراعظم منتخب کر کے ثابت کر دیا بھارت سیکولر تھا اور نہ ہو گا‘ یہ کٹر ہندوؤں کا ملک ہے‘ ایسے کٹر ہندوؤں کا ملک جو اپنے علاوہ ہر شخص کو ملیچھ اور دھرتی کا بوجھ سمجھتے ہیں اور جن کا خیال ہے ہندوستان میں ہو تو ہندو بن کر رہو یا پھر ہندوستان چھوڑ دو۔

میرے سمیت ملک کے زیادہ تر نیم خواندہ لوگ یہ سمجھتے تھے ہم نے شاید 1947 میں بھارت سے الگ ہو کر غلطی کی ‘ ہم بھارت کی ترقی سے بھی جیلس ہوتے تھے اور ہم کبھی کبھی قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کو بھی شک کی نظروں سے دیکھنے لگتے تھے لیکن آج 2019 میں قائداعظم کا وژن سچ ثابت ہو گیا‘ آج قائداعظم کا دو قومی نظریہ جیت گیا اور موہن داس کرم چند گاندھی اور جواہر لال نہرو کا سیکولر ازم ہار گیا‘۔

آج ثابت ہو گیا قائداعظم سچے تھے‘ وہ کہا کرتے تھے ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔ یہ مزید ہزار سال اکٹھے رہ کر بھی اکٹھے نہیں ہوں گے‘ گائے کو ماں کہنے اور گائے کا گوشت کھانے والے کبھی ایک میز پر نہیں بیٹھ سکیں گے‘

نریندر مودی کی جیت نے ثابت کر دیا قائداعظم نے پاکستان ٹھیک بنایا تھا اور ہم آج اگر بھارت کے شہری ہوتے تو ہم بھی کیڑے مکوڑوں جیسی زندگی گزار رہے ہوتے اور ہمیں بھی گائے کا پیشاب پینے اور سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا جاتا رہتا‘ ہمیں ہماری مسجدوں میں گھس کر قتل بھی کیا جاتا اور ہم سسک سسک کر بھی مر رہے ہوتے۔ میں آج دل سے سمجھتا ہوں 2019 میں نریندر مودی نہیں جیتے قائداعظم جیتے ہیں‘ آج دو قومی نظریئے کی فتح ہوئی ہے چنانچہ میرا بھارت کی اقلیتوں کو مشورہ ہے آپ آج سے اپنے اپنے گھروں میں قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر لگا لیں‘ آپ آج سے دو قومی نظریئے کی تسبیح شروع کر دیں‘ کیوں؟ کیونکہ بھارت کے لوگوں نے ثابت کر دیا ہندوستان صرف اور صرف ہندوؤں کا ملک ہے‘ اس میں کسی دوسرے کی کوئی گنجائش نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں