215

بنوں میں پی ٹی ایم رہنما کی فائرنگ سے حساس ادارے کا انسپکٹر شہید، دو اہلکار زخمی، 4 ملزم گرفتار

پشاور + مردان (ڈیلی اردو) صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس کے ایک انسپکٹر کو شہید اور دو کو زخمی کرنے کے الزام میں پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے ایک مقامی رہنما سمیت دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ مردان سے بھی چار کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ریجنل پولیس آفیسر عبداللہ خان اور ایس ایس پی بنوں پولیس یاسر آفریدی نے جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کی رات دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں درج ایک مقدمے میں گرفتاری کیلئے بنوں کے علاقے ٹاؤن شپ کے ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ تاہم گھر میں موجود افراد نے مزاحمت کی اور پولیس پارٹی پر فائرنگ کی۔ جس سے حساس ادارے کے انسپیکٹر شاکر اعظم عرف ظہیر خان شہید جبکہ ایڈیشنل ایس ایچ او شاکر سمیت دو پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے۔

پولیس کے مطابق گھر میں موجود تین افراد کو گرفتار کر ان کے قصبے سے دو عدد پستول برآمد کر لیے گئے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان حنیف اللہ عرف حنیف پشتون، فہیم اللہ اور شاہین اللہ کا تعلق پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے ہے جو لکی مروت اور بنوں پولیس کو مختلف مقدمات میں مطلوب تھے۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں سے ایک کے خلاف پہلے سے مقدمات درج ہیں اور وہ پولیس کو مطلوب تھا۔ اس واقعہ میں گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کری گئی ہے۔

نمائندہ ڈیلی اردو کے مطابق ضلع مردان ميں بھی پی ٹی ایم کے 4 کارکنوں حسن ناصر، صابر بلال، شمس پختون اور فرید کو گرفتار کیا گیا ہے، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کو حڑ قمر واقعہ ميں ملوث تھے۔ ملزمان کو تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

پشتون تحفظ تحریک کی جانب سے ابھی تک پولیس کے اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پی ٹی ایم کے کارکن ان الزامات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ علی وزیر، محسن داوڑ اور دیگر کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کو ناکام بنانے کیلئے حنیف پشتون اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے جا رہے ہیں۔

ارکان قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ سمیت پشتون تحفظ تحریک کے لگ بھگ 30 افراد کو 24 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقے خڑکمر میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس واقعہ میں 20 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں