ڈیرہ اسماعیل خان سے 5 نوجوان پر اسرار طور پر غائب، افغانستان جانے کے اطلاعات

اسلام آباد + ڈیرہ اسماعیل خان (ش ح ط / سید توقیر زیدی) ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ چہکان سے 5 نوجوان پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے جن کی تلاش اور لاپتہ ہونے کے حوالے سے پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تفتیش شروع کر دی۔

نوجوانوں کے لاپتہ ہونے کا علم اس وقت ہوا جب اُن کے لواحقین نے صدر تھانہ میں بچوں کی پراسرار گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔ پولیس زرائع کے مطابق لواحقین کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے نوجوان اپنے موبائل اپنے ساتھ لے کر گئے مگر تمام کے فون نمبر مسلسل بند رکھے گئے ہیں۔ لاحقین کے مطابق بچوں کو مقامی نوجوان ساتھ لے کر گیا ہے۔کسی بچے سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہو رہا۔

لواحقین کی صدر تھانہ میں بچوں کی پراسرار گمشدگی کی رپورٹ پر پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تفتیش شروع کر دی۔ دوسری جانب ڈی پی او ڈیرہ سلیم ریاض کا کہنا ہے کہ بچوں کا لاپتہ ہونا ایک انتہائی اہم اور حساس معاملہ ہے جس کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کا افغانستان جانے کی اطلاعات ہیں مگر اس کو ابھی تک کنفرم نہیں کیا جا سکا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ لاپتہ ہونے والے نوجوانوں میں زاہد، علی، ساجد، کامران اور جمیل شامل ہیں۔

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرائط پر بتایا کہ بچوں کو وہاں کا مقامی نوجوان لے کر گیا ہے ان کو کسی بھی دہشگرادنہ واردات میں استعمال کیا جاسکتا ہے، مقامی گاؤں کے نوجوان نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ لڑکوں کو لے جانے والا نوجوان کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (TTP) سے ہے۔ اس نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ آوروں (دہشت گردوں) میں سے ایک کا تعلق بھی مذکورہ گاؤں (چہکان) سے تھا اور مبینہ نوجوان اس کا قریبی رشتہ دار بھی ہے۔

دوسری جانب مختلف ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے نوجوان داعش یا طالبان میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ یہ نوجوان افغانستان چلے گئے ہیں، جہاں وہ دہشت گری کی تربیت حاصل کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی ڈیرہ اسماعیل خان شہر سے 10 نوجوان پراسرار طورپر لاپتہ ہوگئے تھے جو بعد ازاں افغانستان چلے گئے تھے۔اور کچھ ماہ بعد یہ نوجوان واپس ڈیرہ اسماعیل خان آئے اور علاقہ میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ اور پولیس و سیکیورٹی پر حملے شروع کیے۔ سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں لاپتہ ہونے والے دو نوجوان مارے گئے تھے اور کچھ واپس افغانستان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے، جس میں فرقہ وارانہ فسادات اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرنا وغیرہ شامل ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ڈی آئی خان کے اندرون شہر میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں تین ماہ سے لاپتہ نوجوان عثمان کو ہلاک کردیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق ڈی آئی خان میں فقیرنی گیٹ کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے رات گئے سرچ آپریشن کیا گیا۔ اس دوران فرار ہونے کی کوشش میں 18 سالہ نوجوان ہلاک ہوگیا جس کی شناخت عثمان کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق عثمان سے خودکش جیکٹ بھی برآمد ہوئی اور وہ ان 10 لڑکوں میں شامل تھا جو 20 جون 2018 کو لاپتہ ہوگئے تھے۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس وقت کے آئی جی خیبر پختونخوا پولیس صلاح الدین نے کہا کہ ڈی آئی خان میں آپریشن کے دوران یوم عاشور کے جلوس کو ٹارگٹ کرنے والا خودکش بمبار مارا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں