قبائلی اضلاع میں انتخابات اور عوام کے مسائل

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبرپختونخوا اسمبلی میں پہلی بار قبائلی اضلاع کو نمائندگی دینے کے لیے انتخابات ہفتے کے روز ہونے جارہے ہیں، صوبائی اسمبلی کی 16 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے لیے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں جب کہ انتخابی سامان کی تقسیم کل سے شروع ہوگی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے انتخابی سامان کل تقسیم کیا جائے گا اور متعلقہ پولنگ اسٹیشنز کو بھجوایا جائے گا۔ قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لیے ایک ہزار 897 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 554 کو انتہائی حساس اور461 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے تمام پولنگ اسٹیشنز کو حساس ترین اور حساس قراردیا گیا ہے۔ حساس ترین پولنگ اسٹیشنز میں فوج کے جوان تعینات کیے جائیں گے۔

پولنگ ہفتے کے روز صبح 8 بجے شروع ہوگی اور شام پانچ بجے تک جاری رہے گی، 16 نشستوں کے لیے 297 امیدوار میدان میں ہیں، 28 لاکھ سے زائد ووٹرز صوبائی اسمبلی کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے جس میں خواتین ووٹرز کی تعداد گیارہ لاکھ 30 ہزار 529 ہے جبکہ مرد ووٹرز کی تعداد 16 لاکھ 71 ہزار305 ہے۔

انتخابات میں  پہلی بار دو خواتین امیدوار بھی میدان میں ہیں، ان خواتین میں عوامی نیشنل پارٹی کی ناہید آفریدی اور جماعت اسلامی کی طرف سے ملاسہ شامل ہیں۔ ناہید آفریدی قبائلی ضلع خیبر جبکہ ملاسہ کرم ضلع سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔

حلقوں کا احوال اور ان کے مسائل

PK-100

آبادی: 351555

مرد ووٹرز: 94937

خواتین ووٹرز:61300

ووٹرز کی کُل تعداد: 156237

پی کے 100 میں شامل علاقوں میں لرآمدک، لرسدین، برسدین، پشت، بالم، خار، انو، گمبٹ، ملاسیدبانڈہ ، بٹمالئی، ڈاگ، ڈبڈبو اور مرخئی شامل ہیں۔

مسائل: انفراسٹرکچر کی خراب حالت، اسکولوں میں اسٹاف کی کمی، مواصلات کے مسائل۔

PK-101

آبادی: 348386

مرد ووٹرز: 92390

خواتین ووٹرز:65097

ووٹرز کی کُل تعداد: 157487

پی کے 101 میں شامل علاقوں میں حاجی لونگ، ملاکلے، راغگان، نازکئی، چرگو، متہ شاہ، بارانی، عنایت کلے، نویکلے، لاشوڑہ، صدیق آباد، نیاگ بانڈہ اور میمولہ شامل ہیں۔

مسائل: بینادی مراکز صحت کی انتہائی خراب صورتحال، مواصلات کا ناقص نظام

PK-102

آبادی:393743

مرد ووٹرز: 125358

خوتین ووٹرز: 91361

ووٹرز کی کُل تعداد: 216719

پی کے 102 میں شامل علاقوں میں لرخلوزو، تنی، عمرے، کمر، ڈبر،کگہ، ڈمہ ڈولہ،کٹکوٹ، گبرے، چارمنگ تنگی اورچمرکنڈ شامل ہیں۔

مسائل: بجلی کی عدم دستیابی، صحت کے مسائل، مواصلات اور انفراسٹرکچر کا مسئلہ

PK-103

آبادی: 243426

مرد ووٹرز: 68472

خواتین ووٹرز: 42008

ووٹرز کی کُل تعداد: 110480

پی کے 103 میں شامل علاقوں میں تحصیل یکہ غنڈ، تحصیل امبار، تحصیل پرانگ غار اور تحصیل پنڈیالی شامل ہیں۔

مسائل: صحت کے مراکز کی کمی، سرکاری گرلز اسکول نہیں ہے۔

PK-104 

آبادی: 228931

مرد ووٹرز: 106746

خواتین ووٹرز: 63273

ووٹرز کی کُل تعداد: 170019

پی کے 104 میں شامل علاقوں میں تحصیل حلیمزئی، تحصیل صافی، تحصیل بائزئی اور تحصیل خوئزئی شامل ہیں۔

مسائل: پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، جس کے باعث مقامی لوگ دور دراز علاقوں سے پانی بھر کر لاتے ہیں، شدت پسندی کے باعث تباہ شدہ اسکولوں کی آبادکاری نہیں ہو سکی۔

PK-105

آبادی: 314569

مرد ووٹرز : 94514

خواتین ووٹرز: 72970

ووٹرز کی کُل تعداد: 167484

پی کے 105 کے علاقوں میں ذخہ خیل، شینواری، شلمانی، ملاگوری، آفریدی اور  طورخم شامل ہیں۔

مسائل: انٹرنیٹ کی بندش، پانی کی قلت، بجلی کا فقدان، صحت کی عدم سہولیات۔

PK-106

آبادی: 348756

مرد ووٹرز: 82818

خواتین ووٹرز: 65652

ووٹرز کی کُل تعداد: 148470

پی کے 106 کے علاقوں میں جمرود، شاکس، غنڈی، چورہ، رکلے، چیڑی اور علی مسجد شامل ہیں۔

مسائل :علاقے میں 24 گھنٹوں میں سے اکثر ایک یا دو گھنٹے بجلی آتی ہے، کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں مہنیوں بجلی نہیں ہوتی، صاف پانی کی عدم سہولت، ایک ٹینکر 4 ہزار روپے میں ملتا ہے، حلقے میں ایک بھی اسپتال موجود نہیں جس کے باعث مریض لنڈی کوتل جانے پر مجبور ہیں۔

PK-107

آبادی: 323648

مرد ووٹرز: 123683

خواتین ووٹرز: 92450

ووٹرز کی کُل تعداد: 216133

پی کے 107 علاقوں میں مین بازار باڑہ، جان خان، اکاخیل، چرغے اور شین قمر شامل ہیں۔

مسائل: دہشت گردی کے نتیجے میں تباہ شدہ اسکولوں اور اسپتالوں کو ابھی تک فعال نہیں بنایا جاسکا، انڑنیٹ کی سہولت میسر نہیں، سٹرکوں کی حالت بھی انتہائی ابتر ہے۔

PK-108 

آبادی: 339247

مرد ووٹرز: 99534

خواتین ووٹرز: 73363

ووٹرز کی کُل تعداد: 172897

پی کے 108  کے علاقوں میں پارہ چمکنی، مسوزئی، علی شیرزئی، زئمشت، سدہ سٹی، مندوری، اُچت، بگن، بلیلامین اور باگزئی شامل ہیں۔

مسائل: علاقے میں دہشت گردی سے متاثرہ اسکولوں کو مکمل طور پر فعال نہیں کیا جاسکا اور جو اکا دکا فعال ہیں بھی وہاں اسٹاف کی کمی ہے۔ 

صحت کے معاملات کی صورتحال بھی خاصی ابتر ہے اور بنیادی مراکز صحت میں دوائیاں اور اسٹاف میسر نہیں ہوتا جس کے باعث مر یضوں کو صدہ شہر منتقل کرنا پڑتا ہے اور تاخیر سے طبی امداد نا ملنے پر اکثر مریض راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں۔

PK-109 

آبادی: 280306

مرد ووٹرز: 105284

خواتین ووٹزز: 82560

ووٹرز کی کُل تعداد: 187844

پی کے 109 کے علاقوں میں پارہ چنارسٹی، زیڑان، شلوزان، کچکینہ اور مالی خیل شامل ہیں۔

مسائل: علاقے کا سب سے اہم اور بڑا ہسپتال ڈی ایچ کیو پارہ چنار ہے جہاں افغانستان سے بھی مریض آتے ہیں لیکن وہاں پر ڈاکٹر سمیت پیرا میڈیکل اسٹاف کی 64 پوسٹ خالی ہیں اور مریضوں کو مشکلات کا سا منا ہے۔

40 سے 50 فیصد لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، مواصلات کا نظام بہت خراب ہے۔

PK-110

آبادی: 254356

مرد ووٹرز: 110741

خواتین ووٹرز: 85695

ووٹرز کی کُل تعداد: 196436

پی کے 110 کے علاقوں میں تحصیل اپراورکزئی، تحصیل لوئر اورکزئی اور تحصیل سنٹرل اورکزئی شامل ہیں۔

مسائل: دہشت گردی میں تباہ ہو نے والے اسکولز کی تعمیر و مرمت کا کام ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا، انفراسٹرکچر کی صورتحال انتہائی خراب ہے جب کہ حلقے میں ایک بھی اسپیشلائزڈ ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔

PK-111

آبادی: 271057

مرد ووٹرز: 92845

خواتین ووٹرز: 48208

ووٹرز کی کُل تعداد: 141053

پی کے 111 کے علاقوں میں  کوٹ مچھی خیل، دبوک منڈی خیل ، حماز، میر علی وزیر، نوراک، تحصیل شوا اور تحصیل سپین وام شامل ہیں۔

مسائل: روزگار میں کمی، بجلی کی طویل بندش، غیر فعال اسکول

PK-112

آبادی:272197

میل ووٹرز: 117811

فیمیل ووٹرز: 61313

ووٹرز کی کُل تعداد: 179124

پی کے 112 کے علاقوں میں  تحصیل رزمک، تحصیل دتہ خیل، تحصیل غلام خان، تحصیل بویہ اور تحصیل میرانشاہ شامل ہیں۔

مسائل: صاف پانی کی عدم دستیابی، افغانستان روڈ کی بندش کی وجہ سے روزگار میں کمی اور مواصلات کا ناقص نظام۔

PK-113 

آبادی: 321077

مرد ووٹرز:122197

خواتین ووٹرز: 96638

ووٹرز کی کُل تعداد: 218835

پی کے 113 کے علاقوں میں  تحصیل لدھا، تحصیل مکین، تحصیل سراروغہ اور تحصیل سرویکئی شامل ہیں۔

مسائل: مواصلات کا خراب نظام، تباہ شدہ مکانات کے معاوضے میں تاخیر اور صاف پانی کی عدم فراہمی۔

PK-114 

آبادی: 352988

مرد ووٹرز: 115572

خواتین ووٹرز: 52422

ووٹرز کی کُل تعداد: 167994

پی کے 114 کے علاقوں میں تحصیل تیارزہ، تحصیل وانا، تحصیل برمل  اور تحصیل توئے خلہ شامل ہیں۔

مسائل: مواصلات کا خراب نطام، صاف پانی کی عدم دستیابی، سکولز میں سٹاف کی کمی

ڈسٹرکٹ سابق فرنٹیر ریجن

PK-115 

مرد ووٹرز: 116444

خواتین ووٹرز: 74618

ٹوٹل: 191062

پی کے 115 کے علاقوں میں جانی خیل، بٹہ خیل، جنگل خیل، تحصیل لالچی، تحصیل گمبٹ اور تحصیل درہ آدم خیل شامل ہیں۔

مسائل: صاف پانی کی عدم دستیابی، سٹرکوں کی ناقص وغیرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں