220

سانحہ ساہیوال: میرے بیٹے کے اوپر سے دہشت گرد کا ٹھپہ ہٹایا جائے: والدہ مقتول ذیشان

اسلام آباد (ڈیلی اردو) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین اور پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے ملاقات کے بعد رحمان ملک نے کمیٹی ارکان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ساہیوال سے متعلق جوڈیشل کمیشن بنانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ ساہیوال کے متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔ رحمان ملک نے یہ بھی کہا کہ کسی کو قانون کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے۔ کیا ذیشان کے خلاف کبھی کوئی ایف آئی آر درج ہوئی تھی؟ رحمٰن ملک نے کہا کہ سانحہ ساہیوال پر پوری قوم یک آواز ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور قانون کے مطابق وزیر داخلہ اس کمیشن کا اعلان کرسکتے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تاکہ عوام کو ایک پیغام جاسکے۔ انہوں نے کہا ہم نے وزیر اعظم کو خط لکھ دیا ہے اور 3 دن تک اس کا انتظار کریں گے، جس کے بعد معاملے کو ایوان میں اٹھایا جائے گا۔

رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سانحہ ساہیوال پر نوٹس لیا اور کمیٹی متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ لواحقین کو پولیس کی جے آئی پر بھروسہ نہیں، لہٰذا اس پر جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے۔

قبل ازیں سانحہ ساہیوال کے متاثرین خلیل اور ذیشان کے اہل خانہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سامنے پیش ہوئے، جہاں انہوں نے واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔

اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کے ارکان کے درمیان سانحہ ساہیوال کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی جبکہ چیئرمین کمیٹی رحمٰن ملک نے اس واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے دیا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سانحہ ساہیوال میں مارے گئے ذیشان کی والدہ زبیدہ بی بی نے کمیٹی کے سامنے بیان دیا کہ ذیشان ان کے خاندان کا واحد کفیل تھا۔

انہوں نے کہا کہ ذیشان نے آئی سی ایس کر رکھا تھا، 25 سال سے ہم اس کرائے کے گھر میں رہ رہے تھے، اگر ذیشان کو دہشت گرد قرار دیا گیا تو ایسے مارا کیوں گیا، بھارتی جاسوس بھی تو زندہ پکڑا تھا تو پھر ذیشان کو کیوں نہیں پکڑا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ذیشان کی بیٹی کو دہشت گرد کی بیٹی اور مجھے دہشت گرد کی ماں قرار دیا گیا ہے، میرے بیٹے کے اوپر سے دہشت گرد کا ٹھپہ ہٹایا جائے۔

ذیشان کی والدہ کا کہنا تھا کہ وزرا ٹیلی ویژن پر آکر ذیشان کو دہشت گرد کہتے ہیں، کیا وزرا کو تمیز نہیں ہے۔

ذیشان کی والدہ نے کہا کہ میرے بیٹے نے آئی سی ایس کمپوٹر سائنسز میں کیا ہوا تھا، وہ لیکچر بھی دیتا تھا جبکہ پرچون اور تھوک کا کام کرتا تھا اور کمپیوٹر فروخت کرتا تھا۔

رحمٰن ملک نے کہا کہ حکومت کے اختیار میں ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تو پھر حکومت کیوں نہیں بنارہی، کمیٹی باقاعدہ طور پر جے آئی ٹی کو مسترد کرتی ہے۔

اجلاس کے دوران ذیشان کے بھائی نے بتایا کہ ہم 2 بھائی تھے، والد نہیں تھے ماں نے ہمیں گھروں میں کام کر کے پالا ہے، میرے بھائی کے خلاف کوئی مقدمہ، کوئی ایف آئی آر، کوئی رپورٹ اور پورے ملک میں کچھ بھی ایسا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب میں نے ڈولفن فورس میں اپلائی کیا تو میری 2 مرتبہ تصدیق ہوئی، میں نے فارم میں والد کی جگہ بھائی کے شناختی کارڈ کی نقل لگائی تھی، اگر انصاف کرنا ہے تو آج اس کیس میں انصاف کر دیا جائے۔

دوران اجلاس سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ بینظیر بھٹو کا کیس بھی اسی طرح خراب کیا گیا تھا، اس کیس کو آدھے سے زیادہ خراب کر دیا گیا ہے، شہید بینظیر بھٹو قتل کیس کو خراب کرنے کے لیے بھی جائے وقوع کو دھویا گیا جبکہ پولیس نے ساہیوال واقعے کو بھی خراب کردیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جوڈیشل کمیشن بنائے کیونکہ جن لوگوں نے بیانات بدلے ہیں وہ بھی اس کیس میں شامل ہیں۔

بعدا ازاں اجلاس میں قائمہ کمیٹی نے وزرا کے بدلتے بیانوں کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ کو تحقیقات کی ہدایت کردی۔

یاد رہے کہ 19 جنوری کو ساہیوال کے قریب ٹول پلازہ پر سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے 2 خواتین سمیت 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بارے میں سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ دہشت گرد تھے، تاہم سی ٹی ڈی کے بدلتے بیانات، واقعے میں زخمی بچوں اور عینی شاہدین کے بیانات سے واقعہ مشکوک ہوگیا تھا۔

سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد دہشت گرد تھے جبکہ ان کی تحویل سے 3 بچے بھی بازیاب کروائے گئے ہیں جبکہ ابتدائی طور پر پولیس نے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

فائرنگ کے دوران کار میں موجود بچے بھی زخمی ہوئے تھے، جنہوں نے ہسپتال میں بیان میں دیا تھا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور جا رہے تھے کہ اچانک ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی گئی۔

واقعے میں محفوظ رہنے والے بچے کا کہنا تھا کہ کار میں مارے جانے والے افراد میں ان کے والدین، بڑی بہن اور والد کے دوست تھے۔

بچے نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کے والد کا نام خلیل احمد تھا اور جنہوں نے فائرنگ سے قبل اہلکاروں سے درخواست کی تھی کہ ہم سے پیسے لے لو لیکن فائرنگ نہیں کرو لیکن اہلکاروں نے فائرنگ کر دی۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر پولیس نے ساہیوال میں جعلی مقابلے میں ملوث محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کو حراست میں لے لیا تھا۔

اس واقعے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ ’اس واقعے میں جو بھی ذمہ دار پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی‘۔

تاہم واقعے میں ہلاک افراد کے لواحقین کے مطالبے پر سی ٹی ڈی کے 16 نامعلوم اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا جبکہ حکومت کی جانب سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بھی تشکیل دی گئی تھی۔

بعد ازاں وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ذیشان کے دہشت گردوں سے روابط تھے اور وہ دہشت گرد تنظیم داعش کا حصہ تھا۔

وزیر قانون پنجاب کا کہنا تھا کہ گاڑی کو چلانے والے ذیشان کا تعلق عالمی دہشت گرد تنظیم داعش سے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی کے مؤقف کے مطابق ساہیوال میں آپریشن 100 فیصد انٹیلی جنس، ٹھوس شواہد اور مکمل معلومات اور ثبوتوں کی بنیاد پر کیا گیا۔

راجہ بشارت نے کہا تھا کہ ذیشان کے کچھ عرصے سے داعش کے ایک خطرناک نیٹ ورک سے تعلقات تھے، یہ نیٹ ورک ملتان میں آئی ایس آئی کے افسران کےقتل، علی حیدر گیلانی کے اغوا اور فیصل آباد میں 2 پولیس افسران کے قتل میں ملوث تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں