’’ سر میرا سانس بند ہو رہا ہے، پلیز مت ماریں ‘‘

لاہور (ڈیلی اردو) امریکن لائسٹف اسکول میں اُستاد نے طالبعلم پر بہیمانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں دسویں جماعت کا طالبعلم جاں بحق ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ امریکن لائسٹف اسکول کی گلشن راوی والی برانچ میں پیش آیا جہاں اُستاد کے بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں دسویں جماعت کا طالبعلم حافظ حنین دم توڑ گیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ پر ٹیچر کامران کو حراست میں لے لیا۔ سبق یاد نہ کرنے پر ٹیچر نے حافظ حنین پر تشدد کیا۔حافظ حنین کے ساتھی طلبا نے بھی گواہی دی کہ ٹیچر نے سبق یاد نہ کرنے پر حنین کو مارا تھا۔

حنین کے ساتھی طلبا نے بتایا کہ ٹیچر کامران نے حافظ حنین پر لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کیا تھا۔ انہوں نے حنین کا سر دیوار میں بھی مارا تھا۔ حنین تشدد کے وقت کہتا رہا کہ سر میرا سانس بند ہو رہا ہے لیکن ٹیچر کو رحم نہ آیا۔ حالت غیر ہونے پر حنین کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا۔

حنین کے ساتھی طلبا نے بتایا کہ ٹیچر کامران نویں جماعت سے ہی حنین کو صحیح طریقے سے پڑھا نہیں رہے تھے۔ اُسے اکثر کلاس سے باہر نکال دیتے تھے، جس کی وجہ سے نویں جماعت میں وہ ایک مضمون میں فیل ہو گیا۔ ٹیچر کو شروع سے ہی حنین پر بہت غصہ تھا۔

ٹیچر کامران کی ٹرانسفر ہوئی تھی، دسویں جماعت شروع ہونے کے 9 دن بعد وہ ہماری برانچ میں آئے، حنین کے پاس کتاب نہیں تھی اُس کو کہیں سے مل نہیں رہی تھی۔ ٹیچر نے دریافت کیا تو حنین نے جواب دیا کہ سر مجھے مل نہیں رہی، میرے پاس پیسے ہیں میں کل لے آؤں گا۔ ٹیچر نے اُس سے کہا کہ تم دوست سے کتاب لے کر یاد کرو۔ اُس کو ٹیچر نے دس منٹ دئے، دس منٹ بعد سر نے حنین سے سبق سُنا اُسے نہیں آیا جس پر انہوں نے حنین کو مارنا شروع کر دیا۔ اُسے سر پر مارا، بال نوچے اور اُس کا سر دیوار میں مارا جس سے وہ نیچے گر گیا۔ جیسے ہی ہیڈ آئے سر نے مارنا چھوڑ دیا۔ حنین نے چیخیں ماریں اور کہا کہ سر مجھے کچھ ہو رہا ہے لیکن کسی نے توجہ نہیں دی، سارے ٹیچرز اکٹھے ہو گئے لیکن کسی نے اسپتال لے جانے کا نہیں کہا۔ بائیولوجی کے سر اپنی سائنس لڑانے لگ گئے لیکن ریاضی کے سر نے کہا کہ اسے ایمرجنسی میں لے جاؤ۔ اُسے سر کی گاڑی میں لے کر اسپتال گئے جہاں پتہ چلا کہ وہ فوت ہو چکا ہے۔

اسکول طالب علم کی ہلاکت کا مقدمہ تھانہ گلشن راوی میں مقتول کے والد کی مدعیت میں قتل کی دفعات کے تحت درج کر دیا گیا ہے۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ اسکول پرنسپل اور انتظامیہ حنین کو فیس کی وجہ سے ذہنی ٹارچر کر رہے تھے، جب کہ حنین کے دوستوں نے بتایا سبق یاد نہ ہونے پر ٹیچر کامران نے تشدد کیا، ٹیچر نے دیوار پر حنین کا سر مارا جس پر وہ زمین پر گر گیا۔

پولیس نے طالب علم کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا، پوسٹ مارٹم کے بعد اصل حقایق سامنے آئیں گے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حنین 10 ویں جماعت کا طالب علم تھا، ٹیچر واقعے کے بعد فرار ہو گیا تھا تاہم اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مقدمے کے متن کے مطابق ٹیچر کامران کے تشدد سے حنین کی کلاس میں ہی موت واقع ہوئی۔

دریں اثنا، صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کی ہدایت پر سی ای او ایجوکیشن پولیس کے ساتھ اسکول پہنچے تھے، سی ای او پرویز اختر نے کہا کہ اسکول کی پوری چین کے خلاف کارروائی ہوگی، ٹیچر کو گرفتار کر کے اسکول کو سیل کردیا گیا ہے۔

سی ای او ایجوکیشن کا کہنا تھا کہ کسی بھی اسکول میں بچوں پر تشدد نہیں کرنے دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں