150

ریپ کے بعد قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نوٹس لیں۔ متاثرہ طلبہ

اسلام آباد (ڈیلی اردو) اسلامک یونیورسٹی قانون کی طالبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اسد ہاشمی نامی شخص کیخلاف بیان واپس نہ لینے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں چیف جسٹس نوٹس لیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ سدرہ ریاض نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی ہے، سوشل میڈیا پروائرل ویڈیو میں طالبہ نے اسد ہاشمی پر زیادتی کا الزام لگایا ہے۔

اس حوالے سے تھانہ رمنا میں ملزم اسد ہاشمی کیخلاف طالبہ کی مدعیت میں مقدمہ بھی درج ہے، ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان نے اسد ہاشمی کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر رکھی ہے۔

کیس کی مزید سماعت کل اسلام آباد کچہری میں ہوگی، اسلامک یونیورسٹی ایل ایل بی کی اسٹوڈنٹ ظاہر کرنے والی طالبہ سدرہ ریاض نے اپنی ویڈیو میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مجھے ملزم اسد ہاشمی کا ماموں جاوید ہاشمی جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، اسد ہاشمی کا ماموں جاوید ہاشمی اسلامک یونیورسٹی میں پروفیسر ہے۔

طالبہ نے بتایا کہ مجھے کہا جارہا ہے کورٹ میں یہ بیان دو کہ رات کے اندھیرے میں ملزم کو پہچان نہیں سکی اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ تم کہو کہ یہ وہ اسد نہیں تھا کوئی اور تھا۔ مجھے کہا گیا کہ بیان نہ بدلنے کی صورت میں تمہیں سڑک پر کسی بھی جگہ گولی ماردیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں