200

پاک بحریہ کی چھٹی کثیر الملکی بحری مشق “امن 2019” کا آغاز ہو گیا

کراچی (ویب ڈیسک) کثیرالملکی بحری مشق امن 2019 کا آج پاک نیوی ڈاکیارڈ میں باقاعدہ آغاز ایک پروقار پرچم کشائی کی تقریب کے ساتھ ہوا۔ مشقوں میں حصہ لینے والی بحری افواج کے جہاز، مندوبین، غیر ملکی سفراءاور پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔​

​کمانڈر پاکستان فلیٹ، وائس ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ رومانیہ کے بحری فوج کے سربراہ وائس ایڈمرل الیگزینڈر مرسو اور زمباموے نیشنل آرمی کے کمانڈر لیفٹینٹ جنرل ایڈزائی ابسولم چنیو کاچمونیو نے تقریب میں بطور اعزازی مہمان شرکت کی۔

​تقریب کے دوران، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ اپنے پیغام میں نیول چیف نے امن مشق کی چھٹی قسط، امن 19 کے شرکاءکو خوش آمدید کہا۔ اپنے پیغام مین نیول چیف نے کہا کہ آج کے دور میں بحری سیکیورٹی کو لاحق خطرات نئے غیر روایتی چیلنجز سے ہے جس کے باعث بحری ماحول پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

​اس تاثر کو تقویت حاصل ہو رہی ہے کہ سمندر کی وسعت اور پیچیدہ بحری خطرات کے باعث بین الاقوامی سمندروں میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں اب ناگزیر ہو گئی ہے۔ امیرالبحر نے کہا کہ میں ایک کامیاب اور فائدہ مند مشق کی امید کرتا ہوں اور ان تمات شرکاءکا شکرگزار ہوں جو اتنا فاصلہ طے کرکے ہمارے مہمان اور امن کی جدوجہد میں ہمارے ساتھی بنے ہیں ۔

​اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، کمانڈر پاکستان فلیٹ وائس ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے ” امن کے لیے متحد” کے مشترکہ عزم کے لیے شریک ہونے والے تمام ممالک کو خوش آمدید کہا۔ وائس ایدمرل نے کہا کہ ہم اپنے مشترکہ دشمن سے نبردآزما ہونے کے لیے اپنے اختلافات بھلا کر ساتھ کام کر سکتے ہیں ۔ یہ دشمن ہمیں قذافی، دہشت گردی، منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ جیسے خطرات سے دو چار کرتا ہے اور سب سے بڑا خطرہ اس وقت موسمی تغیر ہے جس سے مشترکہ طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔

​کمانڈر پاکستان فلیٹ نے مزید کہا کہ ماضی قریب میں پاکستان مشکل دور سے گزرا ہے مگر ان تمام شر پسند عناصر کے سامنے پاکستان مستعد کھڑا رہا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے جسے اقوام عالم میں اپنی اہمیت اور کردار کا بہ خوبی اندازہ ہے۔وائس ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سمندری تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔بحیرہ ہند میں سیکیورٹی پٹرول میں پاک بحریہ تسلسل سے حصہ لے رہی ہے۔ٹاسک فورس 88 اور ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرول کے قیام کا مقصد، گوادر اور اس کے گرد و نواح کے سمندری راستوں کی حفاظت اور بحیرہ ہند میں اہم چوک پوائنٹس اور قومی اور بین القوامی تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

​بعد ازاں ،پی این ایس اقبال میں اسپیشل آپریٹنگ فورسز کی پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی جس کے مہمان خصوصی کمانڈر کوسٹ وائس ایڈمرل محمد فیاض جیلانی تھے۔ اس کے علاوہ، چیف آف کمبوڈین نیوی ،وائس ایڈمرل سیم سوخا اور چیف آف اسٹاف سری لنکن نیوی رئیر ایڈمرل جے جے راناسنگے نے پاک بحریہ کے وائس چیف آف نیول اسٹاف وائس ا یدمرل کلیم شوکت سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان  ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی اور بحری سیکیورٹی کے مختلف امور زیر بحث آئے۔​میری ٹائم سیکیورٹی میں پاک بحریہ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے وائس چیف آف نیول اسٹاف نے کہا کہ پاک بحریہ کا کثیرالقومی اتحاد اور امن مشقوں کے انعقاد میں متحرک کردار اس سمت میں ایک اہم اقدام ہے۔

​علاوہ ازیں، زمبابوے کی نیشنل آرمی کے کمانڈر نے پاک بحریہ کے کمانڈر کراچی اور کمانڈر کوسٹ سے ملاقاتیں کی۔کمانڈر پاکستان فلیٹ اور کمانڈر لاجسٹک سے مختلف ممالک کے اعلی افسران کے علاوہ ، غیر ملکی جہازوں کے افسروں نے ملاقاتیں کیں۔ رومانیہ کے نیول چیف نے مزار قائد پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔

​ کثیر القومی مشق امن کا انعقادپاکستان میں2007 سے ہر دو سال بعد کیا جارہاہے۔ یہ مشق پاک بحریہ کے زیر انتظام میری ٹائم سیکٹر میں امن کے لیے باہمی تعاون اور تحفظ کے لیے تمام اقوام کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی ایک کوشش ہے۔رواں سال پینتالیس ممالک اپنے جہازوں، ائیر کرافٹس اور مندوبین کے ساتھ اس مشق میں حصہ لے رہے ہیں ۔ امن19 مشق میں سی فیز کے علاوہ ایک ہم ایونٹ تین روزہ انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس بھی ہے جو نیشنل سینٹر فار میری ٹائم ریسرچ کے زیر انتظام منعقد ہو رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں