بھارت: ریاست آسام میں مسلمانوں کو قید کرنے کیلئے 6 حراستی مراکز قائم، مزید 10 مراکز بنانے کی تیاری

آسام (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسی ) انتہا پسند مودی نے ہٹلر کی طرز پر مسلمان شہریوں کو قید کرنے کیلئے آسام میں چھ حراستی سینٹرز قائم کردیئے۔ مزید دس مراکز بنانے کی بھی تیاریاں ہورہی ہیں۔

راہول گاندھی کہتے ہیں کہ حراستی مراکز کے معاملے پرنریندر مودی جھوٹ بول رہے ہیں۔ مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بینرجی کا بنگال میں حراستی کیمپ قائم کرنے سے انکار کردیا۔

تنگ نظر اور متعصب وزیراعظم مودی کی نسل پرستی پر مبنی سوچ اور مسلمانوں سے دشمنی دنیا کے سامنے آگئی۔ بھارت میں مسلمانوں کا وجود اس قدر کھٹکنے لگا کہ مسلمانوں کو قید کرنے کیلئے حراستی مراکز بنائے جا رہے ہیں۔

ریاست آسام کے ضلع گول پارہ میں سب سے بڑا حراستی کیمپ تعمیر ہو گیا ہے۔ اس میں تین ہزار سے زائد مسلمانوں کو الگ تھلک رکھا جائے گا۔

این آر سی کی فہرست سےانیس لاکھ افراد بھارتی شہریت سے محروم ہوجائیں گئے۔ ریاست آسام میں چھ حراستی سینٹرز بھی قائم ہیں۔ کرناٹک میں بھی پہلا کیمپ بن کرتیار ہوگیا ہے۔ دیگر کئی ریاستوں میں بھی تعمیرات جاری ہیں۔

بی جے پی حکومت مزید دس مراکز بنانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ غربت میں مرتے عوام پر پیسا خرچ کرنے کے بجائے چھالیس کروڑ کی لاگت سے حراستی مراکز کی تعمیر کی گئی ہے۔

ہٹلر وزیر اعظم مودی اس بات سے جھٹلا رہے ہیں کہ ملک میں کہیں بھی ڈیٹنشن سینٹرز نہیں ہیں جبکہ حراستی مراکز کی موجودگی کی تصدیق عالمی میڈیا کے ساتھ ساتھ بھارتی پارلیمان میں کانگریس کے رہنماؤں نے بھی کیا ہے۔

راہول گاندھی کہتے ہیں کہ حراستی مراکز کے معاملے پر نریندر مودی جھوٹ بول رہے ہیں۔ مودی سرکار غریبوں سے دستاویزات پیش کرنے کو کہے گی جبکہ صنعت کاروں سے دستاویزات نہیں مانگے جائیں گے۔

دوسری جانب مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بینرجی نے بنگال میں حراستی کیمپ قائم کرنے سے انکار کردیا۔ کہتی ہیں کہ مر جاؤں گی لیکن حراستی کیمپ قائم نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے تحت 19 لاکھ افراد شہریت سے محروم کردیے گئے تھے جس میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں