170

آئی جی اور چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کا تبادلہ: اہم انکشافات سامنے آگئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نوید کامران بلوچ کو عہدے سے ہٹانے کے بعد صوبے کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس صلاح الدین خان محسود کا تبادلہ بھی کردیا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے تبادلوں اور تقریروں کے لیے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق محمد نعیم خان کو خیبرپختونخوا کے نئے آئی جی تعینات کیا گیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پولیس سروس گریڈ 21 کے افسر آئی جی خیبرپختونخوا صلاح الدین محسود کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ محمد نعیم خان کو آئی جی خیبرپختونخوا تعینات کیا گیا ہے۔

اس سے قبل محمد نعیم خان پولیس سروس گریڈ 22 کے افسر اور آئی جی آزاد کشمیر تعینات تھے جبکہ ان کی جگہ صلاح الدین محسود کو آئی جی آزاد کشمیر تعینات کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کچھ سرکاری امور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کے ساتھ اختلافات کے باعث وفاقی حکومت نے چیف سیکریٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا کو عہدوں سے ہٹایا۔

اس سے قبل اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس گریڈ 22 کے افسر چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نوید کامران بلوچ کو عہدے سے ہٹا کر انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ نوید کامران بلوچ کو جون 2018 میں نگران حکومت نے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا تعینات کیا تھا۔

وفاقی حکومت نے ان کی جگہ پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس گریڈ 21 کے افسر محمد سلیم کو نیا چیف سیکریٹری تعینات کردیا، جو اس سے قبل بھی اسی صوبے میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔

واضح رہے کہ محمد سلیم 30 اکتوبر 2019 کو ریٹائر ہو جائیں گے۔

اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے چیف سیکریٹری آزاد کشمیر گریڈ 21 کے افسر خواجہ داؤد احمد کو بھی تبدیل کرتے ہوئے انہیں 3 سال کے لیے ڈیپوٹیشن پر ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ تعینات کردیا۔

ان کی جگہ مظہر نیاز رانا کو آزاد کشمیر کا نیا چیف سیکریٹری تعینات کردیا گیا، وہ اس سے قبل ایڈیشنل سیکریٹری صنعت و پیداوار تعینات تھے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ سیاسی حکومت لیویز اور پولیس کے مابین متوازی سسٹم لانا چاہتی ہے، چیف سیکریٹری اور آئی جی کے پی کی جانب سے سسٹم کی مخالفت کی گئی۔

ذرائع کے مطابق سابق چیف سیکریٹری اور آئی جی کے پی کا مؤقف تھا کہ لیویز اور پولیس کا متوازی سسٹم لانا سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ لیویز فورسز میں سیاسی بھرتیوں کے معاملے پر چیف سیکریٹری کے پی کو تبدیل کیا گیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں