جمال خاشقجی قتل کیس: ٹرمپ انتظامیہ امریکی کانگریس سے قاتل کو چھپانے لگی

واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں/ ویب ڈیسک) سعودی صحافی خاشقجی قتل کے معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ امریکی کانگریس سے قاتل کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے،ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق امریکی صدر(ٹرمپ) اس معاملے پر درخواست رد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس حکام نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ اس طرح کے آپریشن کیلئے ولی عہد محمد بن سلمان کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن سعودی حکام کے مطابق جمال خاشقجی کا قتل ’روگ‘ سعودی ایجنٹس نے کیا جو ولی عہد محمد بن سلمان کے احکامات پر عمل نہیں کرتے۔

تفصیلات کے مطابق خاشقجی قتل کیس میں ٹرمپ انتظامیہ امریکی کانگریس سے صحافی کے قاتل کے بارے میں معلومات چھپا رہی ہے اور امریکی کانگریس کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں دریافت کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو کس نے قتل کیا۔

سینٹرز نے اکتوبر میں وائٹ ہاؤس کو اس معاملے کے تحقیقات کرنے اور اس بارے میں مزید معلومات فراہم کرنے کی درخواست کے تھی۔ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق امریکی صدر اس معاملے پر درخواست رد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

جمال خاشقجی کو گزشتہ برس اکتوبر میں استنبول میں سعودی سفارتخانے میں داخل ہونے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔

جمال خاشقجی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اسکی حکومت کے شدید مخالف تھے اور اپنی زندگی میں انہیں تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ مبینہ طور پر جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے کر دیے گئے تھے جن کو ابھی تک برآمد نہیں کیا جا سکا۔

امریکی انٹیلی جنس حکام نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ اس طرح کے آپریشن کیلئے ولی عہد محمد بن سلمان کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن سعودی حکام کے مطابق جمال خاشقجی کا قتل ’روگ‘ سعودی ایجنٹس نے کیا جو ولی عہد محمد بن سلمان کے احکامات پر عمل نہیں کرتے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر ٹرمپ کانگریس کی جانب سے اس قسم کی درخواست کو مسترد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔تاہم سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے سینٹر رہنماؤں کو اس معاملے میں افراد کے خلاف لیے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ لیکن سینٹرز کے مطالبے کے مطابق دستاویزات میں جمال خاشقجی کے قتل کے اصل ذمہ داروں کی نشاندہی نہیں کی گئی۔

امریکہ نے جمال خاشقجی کے قتل کی منصوبہ بندی اور اسکی عمل درآمد میں ملوث شاہ سلمان کے سابق مشیر سعود القہانی سمیت 17 سعودی اہلکاروں کو سزائیں بھی سنائی ہیں۔

تاہم امریکی سینٹرز کی جانب سے ٹرمپ پر جمال خاشقجی کے قتل کے لیے براہ راست ولی عہد شاہ سلمان کی مذمت نہ کرنے پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں