350

طوری بنگش عمائدین کا بالش خیل اور ابراہیم زئی کے جائیداد پر غیر قانونی قبضہ اور تعمیرات مسمار کرنے کا مطالبہ

پاراچنار (محمد صادق) قبائلی ضلع کرم کے طوری بنگش قبائل کے عمائدین نے مطالبہ کیا ہے کہ بالش خیل اور ابراہیم زئی کے جائیداد پر غیر قانونی قبضہ ختم کیا جائے اور علاقہ غیر کو ضلع کرم سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاراچنار میں مشترکہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طوری بنگش قبائل کے رہنما علامہ یوسف حسین، مشیر حسین، ملک صفدر علی، ثاقب بنگش، علامہ باقر حیدری، سید نقی شاہ، زاہد حسین، شفیق مطہری اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ بالش خیل اور ابراہیم زئی کے علاقہ میں پاڑہ چمکنی قبائل کے ناجائز قبضے کے خلاف گذشتہ بیس سال سے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں بار بار عدالت اور انتظامیہ کے پاس اپنی فریاد لے جاتے ہیں مگر عدالتی احکامات کے باوجود انہیں اپنا حق نہیں دیا جارہا ہے اور افسوس اس بات پر ہے کہ وسطی کرم سے پاڑہ چمکنی قبائل آکر لوئر کرم کی زمینوں پر قبضہ کررہے ہیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ متعلقہ ذمہ دار حکام مسلے کے حل کیلئے اقدامات نہیں اٹھا رہے ہیں ایک ہفتہ قبل اس تنازعے پر جھڑپوں میں پندرہ افراد ہلاک اور چالیس سے زائد افراد زخمی ہوگئے اور واقعے کے بعد اصل مجرمان اور قابضین کی بجائے انتظامیہ نے عمائدین اور امن کیلئے کوششیں کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا ہے جو کہ افسوس ناک ہے اور بالش خیل قبائل نے مجبورا نا انصافی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے مکانات سے نقل مکانی کردی ہے اور سمیر کے مقام پر احتجاجی دھرنا دے رہے ہیں۔

رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ وہ مزید ناانصافی برداشت نہیں کرسکتے متعلقہ حکام انہیں اپنے حقوق دیں اور ضلع کرم میں پائیدار امن کے قیام کیلئے قدم بڑھائیں تاکہ بار بار نا خوشگوار واقعات کا سامنا نہ ہو۔

رہنماؤں نے حکومت سے علاقہ غیر کو ضلع کرم سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا اور لوئر کرم کے زمینوں پر قبضہ ختم کرنے اور غیر قانونی تعمیرات مسمار کئے جائیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ اگر ضلع کرم کے لوگوں نے علاقہ غیر پر قبضہ کیا ہو تو حکومت ہمارے خلاف کارروائی کرے اگر علاقہ غیر قبائل نے ضلع کرم کے زمینوں پر قبضہ کیا ہو تو ہمیں اپنا حق دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں