ملک بھر میں 19 تا 25 فروری تک شدید بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی

سبی (بیورو رپورٹ) خلیج فارس بحیرہ روم سے اٹھنے والا ہوا کا کم دباؤ بلوچستان کے علاقوں میں آکر ایک ہوا کے شدید کم دباؤ میں تبدیل ہوگا جہاں پر بحر عرب سے آنے والی نمی سے بھرپور ہوائیں بھی اسی ہوا کے کم دباؤ میں شامل ہوں گی۔

اس دوران بلوچستان کے جنوبی وسطی علاقے شدید بارش کی لپیٹ میں ہوں گے جس کی وجہ سے توقع ہے کہ بلوچستان کے بیشتر میدانی علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوگی ۔ بلوچستان میں بارشوں کا یہ سلسلہ سات سے آٹھ روز تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا۔

سندھ میں بھی آنے والے اس سسٹم سے بارش ہوگی اس دوران سندھ کے مشرقی اضلاع جن میں پہلے بارش نہیں ہوئی ان علاقوں میں بھی بارش متوقع ہے ۔ اس دوران سندھ کے کچھ بالائی اور مغربی علاقوں میں شدید موسلا دھار بارش کے امکانات ہوں گے۔

س دوران کراچی سمیت ساحلی پٹی پہ بھی اچھی بارشوں کے امکانات ہیں ۔ 2005 کے بعد پاکستان میں بارشوں کا یہ ایک اچھا سسٹم متوقع ہے جس سے سندھ کے تمام علاقوں میں اچھی بارشیں ہوں گی۔

خیبر پختونخوا کے تمام علاقوں میں جن میں وسطی جنوبی اور بالائی علاقے شامل ہیں، ان تمام علاقوں میں 19 فروری سے لے کر 25 فروری تک وقفے وقفے سے بارشوں کے امکانات ہیں، اس دوران خیبر پختونخوا کے کچھ بالائی علاقوں پشاور مردان کوہاٹ ایبٹ آباد مالاکنڈ ہزارہ ڈویژن میں شدید بارشوں کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

گلگت بلتستان میں بھی اس 19فروری سے لے کے 25 فروری تک میدانی علاقوں میں بارشیں جبکہ پہاڑی علاقوں میں شدید برف باری کے امکانات ہیں، اس دوران آزاد کشمیر کے بھی بیشتر علاقے شدید بارشوں اور شدید برف باری کی لپیٹ میں ہوں گے ۔

اسلام آباد سمیت صوبہ پنجاب میں بھی منگل سے لے کر 26 فروری تک وقفے وقفے سے بارش جبکہ اس دوران اسلام آباد راولپنڈی اٹک میانوالی خوشاب سرگودھا جہلم لالہ موسی کھاریاں ٹیکسلا حسن ابدال کے علاقوں میں شدید بارش ہونے کے بھی امکانات ہیں ۔ اس کے علاوہ پنجاب کے بالائی مشرقی علاقوں جن میں منڈی بہاوالدین سیالکوٹ نارووال حافظ آباد شکرگڑھ پسرور ڈسکہ شیخوپورہ لاہور قصور اوکاڑہ ننکانہ صاحب فیصل آباد ساہیوال کے علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کے امکانات ہوں گے ۔

اس دوران جنوبی پنجاب کے تمام علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں