185

طالبان اور سعودی ولی عہد کی ملاقات متوقع، پروگرام انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے

کراچی(ویب ڈیسک، خبرایجنسیاں)سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی افغان طالبان کے وفد سے کل اسلام آباد میں ملاقات متوقع ہے، پروگرام انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے، افغان امن عمل میں اہم پیشرفت ہوگی۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہےکہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کا دوست رہا ہے ، پاکستان سعودی عرب کوعالمی سطح پر ایک طاقت ور ملک کے طورپر دیکھنا چاہتا ہے، پوری قوم معززمہمان کی آمد کی بے تابی سے منتظر ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے 2 سینئر سرکاری اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ افغان عمل میں اہم پیشرفت کیلئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور طالبان وفد کی ملاقات 18فروری کو اسلام آباد میں ہو سکتی ہے،

پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ تاحال ملاقات کے اس مجوزہ پروگرام کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ یہ ملاقات ہوگی۔ سعودی ولی عہد کو پاکستان کے 2 روزہ دورے پر ہفتے کو اسلام آباد پہنچنا تھا لیکن اب ان کا یہ دورہ ایک روز کے لیے موخر کردیا گیا ہے اور وہ آج اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

دوسری جانب عرب ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے مملکت میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کوتاریخ ساز اورعصری تقاضوں سے ہم آہنگ قراردیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کا دوست رہا ہے، پاکستان سعودی عرب کو عالمی سطح پرایک طاقت ورملک کے طورپر دیکھنا چاہتا ہے، ہم ان کی مکمل حمایت کرتے ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی تعلقات قائم ہیں، اسی تاریخ ساز تعلق کی بدولت سعودی ولی عہد کا پاکستان میں وسیع پیمانے پرخیرمقدم کیا جا رہا ہے، پوری پاکستانی قوم معززمہمان کی آمد کی بے تابی سے منتظر ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ولی عہد نے جو کام کیے ہیں اس پروہ داد تحسین کے مستحق ہیں، ہمیں قوی امید ہے کہ جامعات، اسکول، دیگر تعلیمی ادارے اور سعودی نوجوان شہزادہ محمد بن سلمان کی متعارف کردہ اصلاحات اور دوسرے ممالک کے سات مقابلے کی دوڑ میں ان کا ساتھ دیں گے۔

وزیراعظم نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسلام آباد کی اقتصادی بحران کے دوران امداد پر دونوں ملکوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مشکل وقت میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین نے پاکستان کی امداد کی، ہم بہت مشکل معاشی حالات سے دوچار تھے، ادائیگیوں کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں تھے، جب ہم اس طرح کے حالات سے دوچار ہوئے تو سعودی عرب، امارات اورچین جیسے دوستوں سے رجوع کرنا پڑا، ان تینوں ملکوں نے ہمیں دل کھول کر امداد دی اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے بچا لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں