شیعہ ہزارہ کان کنوں کا بے دردی سے قتل: لواحقین کا وزیرِاعظم عمران خان کی آمد تک دھرنا ختم نہ کرنیکا اعلان

کوئٹہ (ڈیلی اردو/وی او اے) پاکستان کے صوبے بلوچستان میں گیارہ کان کنوں کی ہلاکت کے واقعے کے خلاف مقتولین کے لواحقین بدستور سراپا احتجاج ہیں۔ لواحقین نے وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید کی یقین دہانی کے باوجود دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

کوئٹہ کے علاقے مغربی بائی پاس ہزار گنجی کے مقام پر ہزارہ کمیونٹی کا ہلاک افراد کی میتوں کے ہمراہ احتجاجی دھرنا تیسرے روز بھی جاری ہے۔

خیال رہے کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب دہشت گردوں نے مچھ کے علاقے گیشتری کی کوئٹہ کوئلہ فیلڈ میں کام کرنے والے کئی مزدوروں کو اغوا کر لیا تھا۔

حکام کے مطابق دہشت گردوں نے شناخت کے بعد بلوچستان کی شیعہ ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے 11 کان کنوں کو بے دردی سے ذبح کیا۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ مچھ کے علاقے گیشتری میں نہ صرف کوئلہ فیلڈ میں کام بند ہے بلکہ علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سرچ آپریشن کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

مچھ واقعے کے بعد سے ہزارہ برادری کے لوگ شدید سردی میں میتوں کے ہمراہ دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک وزیرِ اعظم عمران خان خود کوئٹہ آکر دھرنے کے شرکا کو مستقبل میں دہشت گردی کے ایسے واقعات کی روک تھام کی یقین دہانی نہ کرا دیں اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر پیر کی شب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید دھرنا عمائدین سے مذاکرات کے لیے خصوصی طیارے سے کوئٹہ پہنچے۔

وزیرِ داخلہ نے لواحقین سے مذاکرات کے دوران دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی۔ تاہم یہ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔

شیخ رشید کا پیر کی شب پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ وہ ہزارہ برادری کے عمائدین کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران اُن کی ملاقات وزیر اعظم عمران خان سے کرانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

انہوں نے واقعے میں ہلاک ہونے والے مزدوروں کے لواحقین کو صوبائی حکومت کی جانب سے فی کس 15 لاکھ جب کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 10، 10 لاکھ روپے معاوضے کا بھی اعلان کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں