69

‘کشمیر ہمارا ہے، تم لوگ کہاں سے آٹپکے’، خاتون پولیس افسر صائمہ اختر گرفتار

نئی دہلی (ڈیلی اردو/وی او اے) بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس نے ایک خاتون اہلکار کو عسکریت پسندوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں رخنہ ڈالنے کے الزام میں نوکری سے برطرف کر کے گرفتار کر لیا ہے۔

سرینگر میں پولیس ترجمان نے بتایا کہ حفاظتی دستوں نے گزشتہ دنوں شورش زدہ جموں و کشمیر کے جنوبی ضلع کُلگام کے فرسل کے علاقے میں یہ مصدقہ اطلاع ملنے پر ایک آپریشن شروع کیا تھا کہ وہاں علیحدگی پسند عسکریت پسندوں کا ایک گروہ چھپا ہوا ہے۔

ترجمان کے مطابق جونہی پولیس علاقے کے کریوا محلے میں پہنچی وہاں موجود ایک خاتون اسپیشل پولیس افسر صائمہ اختر نے نہ صرف ان کے کام میں خلل ڈالا بلکہ عسکریت پسندوں کی تعظیم و تکریم میں الفاظ بھی استعمال کیے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ صائمہ اختر دختر غلام نبی راہ نے جو اسی علاقے کی رہائشی ہیں اور پولیس میں اسپیشل پولیس افسر کے طور پر کام کرتی تھیں، نے سرچ ٹیم کے سامنے مزاحمت کی اور کارروائی کے دوران ایسے کلمات بیان کیے۔ جن سے دہشت گردوں کے پُرتشدد اقدامات کی ستائش مقصود تھی۔

بیان کے مطابق اس پولیس افسر نے اپنے ذاتی موبائل فون سے ایک ویڈیو بنائی اور پھر اسے سرچ آپریشن میں خلل ڈالنے کی غرض سے ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کر دیا۔

‘کشمیر ہمارا ہے، تم لوگ کہاں سے آٹپکے’

وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں صائمہ اختر کو حفاظتی دستوں کو للکار کر یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ‘میری ماں بیمار ہے اگر اُسے کچھ ہو گیا تو میں تم لوگوں کو دیکھ لوں گی۔ تم لوگ یہاں بار بار آتے ہو۔ ہمیں سحری بھی نہیں کھانے دیتے۔ ہمارے پڑوسیوں کو بھی تنگ کرتے ہو۔ تمہیں کینسر کی بیماری ہو۔ اُن گھروں میں جاؤ جہاں عسکریت پسند موجود ہیں۔ ہمارے گھر میں کوئی عسکریت پسند نہیں ہے۔’

خاتون پولیس افسر سیکیورٹی فورسز پر چلاتے ہوئے یہ بھی کہتی ہیں کہ کشمیر ہمارا ہے۔ تم لوگ کہاں سے آگئے ہو؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہمارے گھر کی تلاشی لینی ہے تو پہلے اپنے جوتے باہر اُتارنے ہوں گے۔ میں تمہیں جوتوں سمیت گھر میں داخل نہیں ہونے دوں گی۔ ہم ڈرنے والوں میں سے نہیں ہیں۔ ہم ڈرتے نہیں ہیں۔ کرو جو کچھ کرنا ہے۔ یہ لوگ روز آتے ہیں۔ ہمارے پڑوسیوں کو بھی تنگ کرتے ہیں۔

ویڈیو میں کسی مرد کی آواز بھی سنی جا سکتی ہے اور وہ بھی سیکیورٹی فورسز پر شہریوں کو ہراساں کرنے کا الزام لگا رہا ہے۔

خاتون افسر پر سخت گیر قانون کے تحت مقدمہ درج

ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ صائمہ اختر کے خلاف مقامی پولیس تھانے میں تعزیراتِ ہند کی دفعہ 353 اور غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد کے ایکٹ کی دفعہ 13 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی انہیں نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد کے ایکٹ کی اس دفعہ کے تحت اگر ملزم پر کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی وکالت کرنے یا اس میں مدد دینے، اس سلسلے میں مشورہ دینے یا اس کے لیے اُکسانے کا الزام ثابت ہوتا ہے تو اُسے سات سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے اور اس پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔

تعزیراتِ ہند کی دفعہ 353 کا تعلق کسی سرکاری ملازم پر حملہ کرنے یا ایسی مجرمانہ طاقت استعمال کرنے سے ہے جس کا مقصد اس کی ذمہ داری کی انجام دہی میں رخنہ ڈالنا ہو یا اس سے ایسی صورتِ حال پیدا ہو جو اس کے قانونی کام کاج میں مداخلتِ بے جا کا موجب بن جائے۔

الزامات درست ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو دو سال تک کی قید یا جرمانے یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

صائمہ اختر کے ایک قریبی رشتے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اُن کی طرف سے سیکیورٹی فورسز کی مزاحمت کرنے اور انہیں برا بلا کہنے کا دفاع کیا۔

رشتے دار کا کہنا تھا کہ صائمہ نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ان کے محلے میں آئے تھے۔ ان کے گھر کی بھی باریک بینی سے تلاشی لی گئی اور انہیں ہراساں کیا گیا۔ صائمہ کی والدہ کافی عرصے سے بیمار ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے جارحانہ طرزِ عمل سے ان کی صحت مزید بگڑ گئی ہے۔ نہ صرف ہمارا پورا خاندان سہما ہوا ہے بلکہ پورے محلے پر خوف طاری ہے۔

‘قانونی کارروائی ناگزیر تھی’

پولیس ترجمان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز صرف اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے اس علاقے میں گئے تھے اور سیکیورٹی فورسز کسی کو بلا وجہ تنگ نہیں کرتے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ کُلگام پولیس کو یہ اطلاع ملی تھی کہ کریوا محلے میں دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اس نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر 12 اپریل کو علاقے میں ایک سرچ آپریشن شروع کیا۔

ترجمان کے بقول اس خاتون افسر نے نہ صرف ان کے کام میں خلل ڈالا بلکہ اس موقعے پر ان کی طرف سے استعمال کیے گئے الفاظ میں دہشت گردوں اور ان کے پُر تشدد اقدامات کی ستائش ہوتی ہے۔

ترجمان کے مطابق اس کی طرف سے موبائل فون پر عکس بند کیے گئے ویڈیو کو سوشل میڈیا پر ڈالنے کا مقصد لوگوں کو سیکیورٹی فورسز کے خلاف بھڑکانا تھا۔ لہٰذا ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ناگزیر تھی۔

‘صائمہ اختر شک کے دائرے میں تھیں’

خاتون پولیس افسر کو سبکدوش کرکے گرفتار کرنے کی کارروائی پر شدید تنقید کے جواب میں پولیس نے کہا ہے کہ ایسا قانون کے دائرے میں رہ کر کیا گیا۔ پولیس نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ان لوگوں کی طرف توجہ نہ دیں جو اس واقعے کو کچھ اور رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہفتے کو سرینگر سے جاری بیان میں پولیس نے کہا کہ یہ پتا چلا ہے کہ میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بد نیتی پر مبنی عزائم کے ساتھ متعدد مفاد پرست عناصر نے واقعے کو حد سے تجاوز کرنے والا عمل اور ضرورت سے زیادہ سخت کارروائی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

بیان میں پہلی بار یہ الزام لگایا گیا ہے کہ صائمہ اختر نے بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کی جس سے ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق ایکٹ کے تحت تعزیراتی کارروائی کرنے کے لیے جواز فراہم ہوتا ہے۔

پولیس کے 16 اپریل کے بیان میں خاتون کے خلاف اس طرح کے کسی الزام کا ذکر نہیں تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ ملزمہ پولیس ملازم ہونے کے ناطے ایک ضابطۂ اخلاق کی پابند تھیں لیکن انہوں نے اس کی صریحاً خلاف ورزی کی۔

تازہ الزامات میں پولیس نے کہا ہے کہ صائمہ اختر عسکریت پسندوں کے ایک مشتبہ اوور گراؤنڈ ورکر کے طور پر پولیس کے شک کے دائرے میں تھیں۔ اسی لیے ان کے گھر کی تلاشی لینا مقصود تھا۔

اپوزیشن کا شدید ردِ عمل، سوشل میڈیا پر بھی نکتہ چینی

صائمہ اختر کو نوکری سے برطرف کرکے گرفتار کرنے کی جہاں سوشل میڈیا پر لوگوں نے تنقید کی ہے۔ وہیں حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور قائدین نے اسے جلد بازی میں اٹھایا گیا قدم قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ موجودہ اربابِ اقتدار کے تعصب اور عدم برداشت کی ایک تازہ مثال ہے اور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کی دھونس، جبر و استبداد اور خود پسندی کی عکاسی کرتا ہے۔

سابق وزیرِ اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ کلگام کی صائمہ اختر کی جانب سے ان کے گھر پر بلا وجہ اور بار بار تلاشی لینے پر جائز سوالات اٹھانے پر غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد ایکٹ لاگو کر دیا گیا ہے۔

محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات قابلِ فہم ہے کہ صائمہ اختر کی پریشانیوں میں بیمار والدہ کی وجہ سے اضافہ ہوا۔ جب ظلم ڈھانا ہو تو نئے کشمیر میں خواتین کو بھی نہیں بخشا جاتا۔

بھارت کی ‘مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی’ کے مقامی لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے اسپیشل پولیس افسر کو سبکدوش کرکے گرفتار کرنے کی پولیس کی کارروائی کو اجلت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات درج کر کے اور سخت اقدامات کرنے کے بجائے ایسے معاملات افہام و تفہیم سے نمٹانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے کہ یہ واقعہ غم و غصے کے اظہار کے نتیجے میں پیش آیا ہے اور اس سے سختی کے ساتھ نہیں نمٹا جانا چاہیے۔

ان کے بقول اس قسم کے واقعات عام لوگوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے نتیجے میں پیش آتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں