کالعدم تحریک لبیک کیخلاف آپریشن: مفتی منیب الرحمٰن کا ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

کراچی (ڈیلی اردو) سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے گرفتار کیے گئے کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرنے اور ان کے خلاف درج کیے گئے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر کے روز ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا۔

کراچی کے دارالعلوم امجدیہ میں مفتی منیب کی زیر صدارت موجودہ صورتحال پر تنظیمات اہلسنت کا اجلاس ہوا۔

جس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے 15 اپریل کی پریس کانفرنس میں حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی قیادت کو جمع کیا جائے اور بات چیت کی جائے۔

مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ہمیں بتایا جارہا ہے کہ زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کے لیے ایمبولینسز کو آنے نہیں دیا جارہا یہ ظلم کی انتہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ حکومت کو بددعائیں دے رہے ہیں، تارکین وطن کے فون آرہے ہیں اور وہ برطانیہ میں منگل کو پاکستانی قونصل خانے کے باہر مظاہرہ کیا جائے گا۔

مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جیلوں میں قید کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور تمام جعلی ایف آئی آرز واپس لی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بطور احتجاج 19 اپریل بروز پیر کو ملک بھر میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی اپیل کرتے ہیں اور تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز سے امید ہے کہ وہ تعاون کریں گے۔

مفتی منیب الرحمٰن نے کہا صنعتکاروں سے اپیل ہے کہ کل اسٹاک ایکسچینج کو بند رکھا جائے۔

مفتی منیب الرحمٰن نے مزید کہا کہ ہم پرامن تھے اور پرامن رہیں گے، یہ گولیاں جو عوام کے ٹیکس سے بنائی گئی ہیں ان کے سینوں پر داغنے کے لیے نہیں ہیں۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ہڑتال کی کال میں مفتی منیب الرحمٰن سے ‘مکمل تعاون’ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کراچی میں کالعدم ٹی ایل پی کا احتجاج پھر شروع
دوسری جانب کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے حامیوں اور کارکنوں نے بظاہر اتوار (18 اپریل) کو لاہور میں پیش آئے واقعے کے تناظر میں شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پھر مظاہرے شروع کردیے۔

تاہم پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کردیا۔

ایک پولیس افسر نے بتایا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنوں نے مچھر کالونی میں ریلوے لائن کو بلاک کرنے کی کوشش کی اور سڑکوں پر آگئے لیکن پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

کراچی پولیس چیف، ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی تصدیق کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر کے دیگر علاقوں سے اب تک کسی مظاہرے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

ایڈیشنل آئی جی نے مزید کہا ک ملک بھر میں نافذ سیکیورٹی اقدامات کے تحت کراچی کے لیے بھی ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

لاہور میں پولیس کارروائی

خیال رہے کہ 18 اپریل کی صبح کو پنجاب پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں نے لاہور کے یتیم خانہ چوک پر پُرتشدد مظاہرے کے دوران ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) کو ‘بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا’ اور ساتھ ہی 4 دیگر عہدیداروں کو بھی یرغمال بنا لیا۔

لاہور کے سی سی پی او کے ترجمان رانا عارف نے بتایا تھا کہ کالعم تنظیم کے مشتعل کارکنوں نے پولیس پر پیٹرول بم سے حملے بھی کیے۔

یاد رہے کہ مذکورہ علاقے میں ٹی ایل پی کا احتجاج 12 اپریل سے جاری ہے۔

ٹی ایل پی کالعدم قرار

ٹی ایل پی نے فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں پر رواں سال فروری میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور فرانسیسی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کیا تھا۔

حکومت نے 16 نومبر کو ٹی ایل پی کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا تھا کہ اس معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے پارلیمان کو شامل کیا جائے گا اور جب 16 فروری کی ڈیڈ لائن آئی تو حکومت نے سمجھوتے پر عملدرآمد کے لیے مزید وقت مانگا۔

جس پر ٹی ایل پی نے مزید ڈھائی ماہ یعنی 20 اپریل تک اپنے احتجاج کو مؤخر کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

اس حوالے سے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اتوار کے روز سعد رضوی، مرحوم خادم حسین رضوی کے بیٹے ہیں، نے ایک ویڈیو پیغام میں ٹی ایل پی کارکنان کو کہا تھا کہ اگر حکومت ڈیڈ لائن تک مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہتی ہے تو احتجاج کے لیے تیار رہیں، جس کے باعث حکومت نے انہیں 12 اپریل کو گرفتار کرلیا تھا۔

ٹی ایل پی سربراہ کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے شروع ہوگئے تھے جنہوں نے بعض مقامات پر پر تشدد صورتحال اختیار کرلی تھی۔

جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے اور سڑکوں کی بندش کے باعث لاکھوں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بعدازاں حکومت پاکستان کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے اعلان کیا گیا تھا، اس دوران ملک کے مختلف احتجاجی مقامات کو کلیئر کروالیا گیا تھا تاہم لاہور کے یتیم خانہ چوک پر مظاہرین موجود تھے جہاں اتوار کی صبح سے حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔

یاد رہے کہ وزارت داخلہ نے 15 اپریل کو تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیا تھا بعدازاں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے جماعت کی میڈیا کوریج پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں